تازہ ترین

گلگت بلتستان کے تناظر میں سٹیٹ سبجیکٹ رول اور معاہدہ کراچی کا معاملہ۔

قوموں کی زندگی میں عروج و زوال کے حوالے سے مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسلہ دنیا کی تاریخ میں ایک پیچیدہ، پراسراراور غم و اندوہ سے بھرپور عمل ہے۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے کہ جو انسانی ذہن کو افسردہ کردیتا ہے اور وہ اس اُتار چڑھاؤ کے عمل سے نا امیدی کا شکار ہوجاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ انسانی ذہن نے عروج و زوال کو سمجھنے کی بہت کوشش کی ہے، مگر اب تک یہ ایک نہ حل ہونے والا معمہ ہے کہ ایک قوم کن حالات میں عروج حاصل کرتی ہے، تہذیب و تمدن میں کمال تک پہنچتی ہے اور پھر ایک شاندار ماضی کو چھوڑ کر زوال پذیر ہوجاتی ہے۔ ہم اگر دنیا کے دوسرے اقوام کے بارے میں بحث کئے بغیر مسلہ کشمیر سے منسلک پچھلے ستر سالوں سے بنیادی سیاسی اور آئینی حقوق سے محروم خطہ گلگت بلتستان کی بات کریں تو تاریخ گواہ ہے کہ اس خطے کی شاندار ماضی رہی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے جب کسی قوم میں بہتر حکمران اور باشعور عوام کی کمی ہو تو اس قوم کا زوال یقینی ہوجاتا ہے۔ ماضی بعید میں جائے بغیر ہم اگر تقسیم ہند کے بعد کی صورت حال کا ذکر کریں تو یہ بات ایک حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان اُس وقت مہاراجہ کشمیر کے زیرنگین تھے لیکن جب مہاراجہ نے عوام سے رائے لئے بغیر ریاست جموں کشمیر کا بھارت کیساتھ الحاق کیا تو کہیں خاموشی تو کہیں مزاحمت دیکھنے کو ملا۔یوں موجودہ آذاد کشمیر کو پاکستانی قبائلوں نے ڈوگروں سے آذاد کرکے مقامی افراد کے حوالے کیا تو دوسری طرف گلگت اور بلتستان کے عوام نے بغیر کسی غیر مقامی عسکری امداد کے ڈوگروں سے بغاوت کا علم بلند کیا جس کے نتیجے میں یکم نومبر اُنیس سنتالیس کوجمہوریہ گلگت کے نام سے ایک آذادریاست دینا کے نقشے پر اُبھر کر سامنے آیا۔لیکن بدقسمتی سے اس نومولودسٹیٹ کے قائدین کی جانب سے مسقتبل کے حوالے سے یہ فیصلہ کرنا باقی تھا کہ کچھ مقامی اور غیرمقامی غداروں نے سازش کرتے ہوئے عوام کو یہ کہہ کر گمراہ کیا کہ اس خطے کا پاکستان کے ساتھ الحاق ہوا ہے ،ایسے میں کس کا دل نہیں چاہے گا کہ اسلام کے نام پر بنے ایک ملک میں شامل نہ ہو۔ یہی وجہ تھی کہ ایک غیر مقامی پولٹیکل ایجنٹ کے ہاتھوں الحاق کے نام پر جنگ آزادی کے کئی ہیروز کو سرنڈر کروایا اورفاتح جی بی کو دیوار سے لگا کرپاکستان سے الحاق کا ڈرامہ رچانے کے بعد ان علاقوں میں پاکستانی قوانین کورائج کرنےکے بجائے یہاں سرحدی قوانین ایف سی آر یعنی فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز، جنہیں عرف عام میں کالے قوانین کا نام بھی دیا جاتا تھا،کو دوبارہ رائج کرتے ہوئے بغیر کسی ٹیبل ٹاک کے گلگت بلتستان کا انتظام سنبھال لیا۔اس درمیانی عرصے میں مسلہ کشمیر کے حوالے سے کئی معاملات سامنے آئے اور گلگت بلتستان کو تنازعہ کشمیر کے نتھی کرلیا ۔یوںآگے چل کر خود کو متحدہ کشمیر کا نمائندہ کہلانے والے نام نہاد آذاد کشمیر کے حکمرانوں سردار ابراہیم، سردار غلام عباس اور وزیر بے محکمہ مشتاق گورمانی نے 28اپریل 1949کو ایک سازش کے تحت معاہدہ کرکے عوامی رائے لئے بغیر گلگت بلتستان کا مکمل کنٹرول پاکستان کے حوالے کردیا۔اس معاہدے کے بعد چونکہ آذاد کشمیر کے حکمرانوں نے اپنی ذمہ داری پوری کر لی تھی لہذا اُنہیں اس بات کی فکر نہیں رہی کہ گلگت بلتستان کے عوام کو کس قسم کے مسائل کاسامناہونگے ،یہاں پر جو سیاسی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا ہے کیا عوامی اُمنگوں پر اُتر رہی ہے؟ یعنی گلگت بلتستان کے عوام کو ایک رسی سے باندھ کریہ سمجھ بیٹھا کہ یہ لوگ اب ہمارے قید میں ہیں۔ اسی طرح اُنیس سو اکہتر میں سقوط ڈھاکہ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو بر سرِ اقتدار آ یا تو اُنہوں نے اُنیس سوچوہتر میں ایف سی آر کا خاتمہ کرکے نہ صرف گلگت بلتستان کی تمام چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو ختم کیا بلکہ پورے پاکستان میں اس وقت موجودریاستیں جیسے ریاست ہائے سوات، کالا باغ، بہاولپور، دیر اور دیگر ریاستیں پاکستان میں شامل کردیا۔اس انضمام کے بعد سٹیٹ سبجیکٹ رولز یعنی وہ قانون جسے مہاراجہ ہری سنگھ نے 1927 میں متعارف کرایاتھاجوکہ باشندگان ریاست کو بنیادی طور پر شہریت اور شہری حقوق کا قانون ہے۔ مذکورہ قانون ریاستی عوام کی شہریت اور ریاستی عوام کے حقوق کی ضمانت میں اپنی مثال آپ ہے۔ باشندہ ریاست قانون کے مطابق ریاستی باشندگان کو چار اہم حصوں پر مشتمل قرار دیا گیا، پہلے دو میں ان ادوار کا ذکر ہے کہ جن میں یہاں مستقل آباد ہونے والوں کو شہری قرار دیا گیا۔ تیسرے درجے میں جدید شہریت کے تقا ضوں کے تحت دس سالہ مستقل سکونت کے بعد اجازت اور رعائت نامہ کے ذریعے سکونت میں توسیع یا شہریت کے حصول کا طریقہ کار وضع کیا گیا۔ چوتھے درجہ میں ان صنعتی وکاروباری مراکزجو ریاست و ریاستی عوام کیلئے مفید ہوں ان مراکز کو بھی تحفظ اور شہری حیثیت دی گئی تھی اسے علاوہ کئی اور اہم شقات ہے جو سابق ریاست جموں کشمیر کے تمام خطوں کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ یعنی اس قانون کو آج بھی ایک محافظ کی حیثیت حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ اس وقت بھارتی مقبوضہ کشمیر اور آذاد کشمیر میں باشندہ ریاست قانون (SSR۔1927) مقامی دستور کا حصہ ہے۔ یہی تو وہ قانون ہے جس نے انڈیا اور جموں کشمیر کے درمیان قانونی دیوار جموں کشمیر آئین اور انڈین آئین میں آرٹیکل 370 کی شکل میں ریاست کی خصوصی حیثیت اور ریاستی تشخص کو آ ج تک بحال رکھا ہواہے۔یہ باشندہ ریاست قانون ہی ہے جس نے پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر میں کاروبار پر حاوی غیر ریاستی سرمایہ دار طبقہ کو جائیداد کے مالکانہ حقوق سے دور رکھا ہوا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے بھٹودور حکومت میں جب یہ سلسلہ شروع ہوا اور 1974 میں اُس وقت کے ڈی سی نے یہ فیصلہ کیا کہ جن بھی غیرریاستی باشندے نے گزشتہ پانچ سالوں میں گلگت بلتستان کے اندر زمین خریدی ہوئی ہے وہ یہاں کا ڈومیسائل حاصل کرسکتےہیں۔ اسی طرح یہ سلسلہ آگے جاکر 1956 میں سکندر مرزا کے دور میں اُس وقت کو پولٹیکل سردار جان محمد خان نے ایک سازش کے تحت اُس وقت کچھ مقامی لوگوں کو خریدے اور اس بہانے سے گلگت بلتستان میں سیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزی کی جس کے مطابق کہا گیا کہ باہر سے لوگ نہ آئے گا تو یہاں کاروبار کیسے ہوگا نظام زندگی کیسے چلے گا۔ اُن کے اس حکم نامے پر آج کے مفاد پرست ٹولے کی طرح کے لوگوں نے اپنے مستقبل پر چھری چلاتے ہوئے حامی بھر لی۔ لیکن اُس وقت بھی چونکہ لوگ قلیل تعداد میں اپنے حقوق کیلئے متحرک تھے اُس میں کشروٹ سے تعلق رکھنے والے غلام محمد بون جو اُس وقت قوم پرست افراد کی ترجمانی کرتے تھے اُنہوں نے اس فیصلے کے خلاف ٹھیک ٹھاک مزاحمت کی، اُن اس مزاحمت پر پولٹیکل ایجنٹ کے زرخیرید مقامی افراد نے اُنہیں مارا پیٹا بھی اور سیٹ سبجیکٹ ختم کرنے کی خبروں میں گلگت میں لوگوں نے احتجاج بھی کیا جس میں چھے سے ذیادہ لوگ گرفتار ہوئے عوام نے جیل کو توڑا، جیسے افسوناک واقعات پیش آیا۔ لیکن بدقسمتی سے گلگت بلتستان پر آج کے دعوے دار کسی کشمیری قیادت کو اُس وقت بھی سیاسی طور پر گلگت بلتستان سے کہیں ذیادہ اثر رسوخ رکھتے تھے، یہ نہیں کہا کہ مسلہ کشمیر کے کسی بھی متاثر خطے میں ریاست جموں کشمیر میں رائج قانون کے حوالے سے کوئی رد بدل کرنے کا انہیں حق نہیں۔لیکن 2009 میں وفاق پاکستان نے گلگت بلتستان کو اُس قید سے نکال کر سلیف ایپاورمنٹ نامی لالی پاپ دینے کا فیصلہ کیا تو کشمیر ی حضرات نے ایک مرتبہ پھر انکھیں کھولنا شروع کیا اور گلگت بلتستان کو اکیسوں صدی میں بھی پتھروں کے زمانے میں رکھنے کا مطالبہ کرنا شروع کیا جو کہ گلگت بلتستان کی عوام کیلئے بلکل ہی ناقابل قبول تھا ۔کیونکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کی خواہش اور گلگت بلتستان کے عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ گلگت بلتستان کو مکمل آئینی صوبہ بنانے کیلئے کوئی قانونی راستہ تلاش کیا جائے لیکن مسلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے قوانین،اور اس حوالے سے خارجہ پالیسی کے مدنظر ایسا ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔یوں مسلہ کشمیر حل کئے بغیر گلگت بلتستان کی مسقتبل کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا جانا ممکنات میں سے نہیں ہے۔گلگت بلتستان کے سابق اور موجودہ حکومت کی جانب سے کئی بار آئینی صوبے کیلئے قراداد پیش کرنے کے باوجود وفاق پاکستان کا صاف لفظوں میں انکار اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ گلگت بلتستان کا مسلہ کشمیر کے مسلے سے کہیں ذیادہ پیچیدہ ہے۔ لہذااس حوالے سے کوئی ابہام باقی نہ رہا کہ گلگت بلتستان کی قانونی اورآئینی حیثیت کیا ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اٹھائیس ہزار مربع میل اور بیس لاکھ سے ذیادہ آبادی پر مشتمل اس خطے کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے سابق ریاست جموں کشمیر کے دوسرے حصوں کی طرح گلگت بلتستان میں معطل سٹیٹ سبجیکٹ کے قانون کوبحال کریں۔ نام نہاد معاہدہ کراچی کو ختم کریں اور یہاں کی وسائل پر جو اس وقت لوٹ مار کی بازار کھلی ہوئی ہے اس ختم کرکے یہاں کے عوام کو سابق ریاست جموں کے دوسرے تمام حصوں کے برابر مکمل حقوق دئے جائیں۔کیونکہ ستر سال گزر جانے کے بعد عبوری ،خصوصی وغیرہ وغیر ہ کے نام سے پیکج میں تبدیلی یا اسمبلی اور ایم ایلز کے نام کی تبدیلی سے گلگت بلتستان کا مسلہ حل نہیں ہوگا کیونکہ شناخت اس مسلے کا سب سے اہم مسلہ ہے۔ اللہ ہم سب قانون اور آئین کے مطابق مادر وطن کی خدمت کرتے رہنے کا مقام فراہم کرے ۔آمین
تحریر: شیر علی انجم

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*