تازہ ترین

“وہ آواز یاد آئے گی٬ شکور علی زاہدی (1978-2018)”

شکور علی زاہدی اپنے ایک کالم میں فدا محمد ناشاد کی یہ نظم لکھتے ہیں
راستہ علم کا بچوں کو دکھانا ہوگا
علم ہر ایک کو لازم ہے دلانا ہوگا
جلوہ علم سے جس کا بھی زہن خالی ہے
علم کے نور کو اس زہن میں لانا ہوگا
دیپ سے دیپ جلے اب وہ زمانہ نہ رہا
علم کا دیپ ہمیں خود ہی جلانا ہوگا
علم انسان کی زینت ہے توانائی ہے
علم مشروب ہے بچوں کو پلانا ہوگا
کسب تعلیم کو چین تلک جاکر بھی
ہے یہ فرمان نبی اس کو سکھانا ہوگا
علم پھلوں کی مہک، علم پرندوں کی چہک
علم تاروں کی چمک، کھینچ کے لانا ہوگا
حق نے جب علم و عمل لازم و ملزوم کیا
ان کو تسبیح کے دانوں میں پرونا ہوگا
مہد سے لحد تلک حسب حدیث نبوی
سلسلہ علم کا لازم ہے ملانا ہوگا
علم ناشاد کو بھی شاد بنادیتا ہے
جہل کی دھول سے چہرے کو بچانا ہوگا۔
بلند آواز میں علم کا پرچار کرنے والے یہ متکلم گلگت بلتستان کے لیے اللہ رب العزت کی طرف سے ایک تحفہ سے کم نہ تھے۔ جس نے علاقے میں معاشرہ سازی،معاشرتی مصائل، فروغِ علم و زباں، انسانی روایوں، جزبات، تواقعات، احساسات کو درست منزل دینے کی بھرپور کوشش کی بلکہ بذات خود معاشرہ سازی کے اس عظیم کام کے علمبردار و استاد رہے۔ خطہ بے آئین کا یہ عظیم سپوت وطن عزیز کی محبت سے سرشار اور روشن خیال شخصیت کا حامل تھا۔کم سماعت کی وجہ سے خود بھی اونچا مگر شائشتہ بولتے دوسروں کو اچھے کی ترغیب دیتے۔ سادگی اتنی استطاعت ہونے کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے، جہاں بھی موجود ہوتے جو بھی ملتا بلاجواز نہ بولتے۔ خاموش طبعت ملنسار شخصیت کے مالک اس بندے کا تعلق گلگت کے نواحی جددت کے لحاظ سے پسماندہ گاؤں بگروٹ سے تھا۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے کراچی گیے اور جامعہ کراچی سے نہ صرف ڈگری حاصل کی بلکہ ایم۔اے۔ اردو و اسلامیات کے صنف میں گولڈ میڈل حاصل کر کے علاقے کا نام روشن کیا۔ تعلیمی میدان میں کامیاب یہ طالبعلم ایک الگ طبعت و شخصیت کا مالک تھا کم عمری سے ہی نظر کے عینک لگاتے درمیانی قد کے البینو تھے۔ ماسٹرز کے بعد گلگت گورنمنٹ اسپیشل ایجوکیشن سسٹم کے ساتھ استاد کے طور پر منسلک ہوئے۔ اور یوں معاشرہ سازی کے عمل میں بطور استاد جانے جانے لگے۔ کچھ برس اسپیشل ایجوکیشن ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے۔ ان کا علمی سفر یہاں پر ختم نہیں ہوتا بلکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم فل بھی کر رہے تھے۔ بطور استاد پرائیویٹ اسکولز کے ساتھ بھی منسلک رہے، آج ان کے شاگرد وطن عزیز کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں اور ان کو استاد مرحوم کی شخصیت شناس باتیں یاد ہونگی۔ استاد کہتے تھے کہ “دنیا میں وہ قوم ملک اور خطہ ترقی یافتہ کہلاتا ہے جہاں پر سب سے زیادہ تعلیمی سہولیات پائی جاتی ہیں اور وہاں کی عوام مکمل خواندہ ہوتی ہے،کیو نکہ تعلیم شناخت ہے اصل انسانیت کی جس کے بغیر زندگی کا ہر شعبہ بے معنی رو جاتا ہے”-
علم کی شمع روشن رکھنے میں مصروف استاد شکور علی زاہدی ایک استاد کے طور پر مشہور تو تھے ہی تھے۔ اور ان کی شہرت میں اضافہ ان کی کالم نویسی اور ایک سوشل ورکر ہونا تھی۔ وہ “فکرو نظر” کے عنوان سے کالم لکھتے، کالم نویسی کا ہنر بھی خوب جانتے تھے، تاریخ کے اوراق ٹاٹولتے ، حال کی منظر کشی کرتے کرتے اچھے مستقبل کی امید ظاہر کرتے، علمی میدان میں بھی ریسرچڑ بیسٹ کالمز لکھتے، سیاست و معیشت و معاشرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ، توجہ دلاؤ اسیوز پے بات کرتے ان کی ایک خواہش جو پوری نہ ہوسکی وہ اپنے گاؤں بگروٹ و گلگت ڈسٹرکٹ پر کتاب لکھنا چاہتے تھے شاید انہوں نے کچھ کام بھی کیا ہوگا۔
اقبال کے اس شعر کے ساتھ اجازت۔
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے۔
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔

تحریر: انیس الحسن بیگ

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*