تازہ ترین

ایک نفیس والد کی یاد میں۔

انسان کی زندگی میں کچھ ایسے لمحات آجاتے ہیں جن کا آنا یقینی ہوتا ہے، اور وہ لمحات انسانی ذہن پر ایسے اثر چھوڑ جاتے ہیں اگر قدرت نے صبر ورضا اور امید جیسی نعمت نہ رکھی ہوتی یا خوشیوں کے وسیلے نہ رکھے ہوتے تو شاید دنیا جہنم بن جاتی۔ میں یہاں یہ ضرور کہوں گاگردش ایام  اتنے ظالم ہیں انسان سے بہت کچھ چھین لیتے ہیں جس کا وہ سوچ بھی نہیں رہا ہوتا۔ انسان کی زندگی  کا سکون ، خون کا آخری قطرہ،امیدوں کا محور اور آخری سہارا ، سب کچھ اسی ستم ظریفی کی بھینٹ چڑھ جاتاہے۔ یکم فروری کا دن  میرے لیے ایک ایسا دن تھادنیا نے مجھ سے متاع زندگی چھین لیا ، یعنی والد گرامی کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ میں اس لمحے کو زندگی بھرکے لئےنہیں بھول سکوں گا جب والد صاحب نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر آخری  دفعہ ایک سرد آہ بھری اور کہا بیٹا میرے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد صبر کرنا اور اہل خانہ کو بھی دلاسہ دینا ، یہ دنیا فانی ہے ہر کسی نے ایک نہ ایک دن مرنا ہے۔  میرے آنکھوں سے بے ساختہ آنسو جاری  ہونے لگے تو والد صاحب نے دلاسہ دیتے ہوئے کہا بیٹا کیوں روتے ہو ابھی تو میں زندہ ہوں۔والد گرامی کو اس دنیا سے گئے ہوئے آج ایک مہینہ ہوگیا لیکن اُن کی باتیں اورنصیحتیں آج بھی میرے کانوں میں گونج اٹھتی ہیں ، ہردم ان کا عکس میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اور آج بھی مجھے ان کی یاد خوب رلاتی ہے۔ والد گرامی حجۃ الاسلام والمسلمین آقای سید نجف شاہ موسوی  ایک عالم دین ، حافظ قرآن ، معلم قرآن و معلم اخلاق  ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین حکیم بھی تھے  ۔ ان کی زندگی کے بہت سارے پہلو ہیں در حقیقت جتنے وہ خاص تھے اتنے  ہی وہ عام اور سادہ  زندگی گزار تے تھے۔انہوں نے ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولی ، درس قرآن مجید اور ابتدائی دینی تعلیم  گاؤں سے ہی حاصل کی پھر کچھ عرصہ سکردو کے مضافاتی علاقہ  کورادو   میں اس دور کے بلتستان کے علمی مرجع اور  معروف علمی شخصیت شیخ محمد جو سے کسب فیض  کرتے رہے۔اور اس کے بعدمزید علم حاصل کرنے کی غرض سے باب  مدینۃ العلم  کے در پر  عراق کے شہر   معروف دینی درسگاہ حوزہ علمیہ  نجف اشرف تشریف لے گئے اور کچھ عرصہ علماء کے دروس سے مستفید ہوتے رہے، مگر ضعیف والدین کی خدمت کرنے اور گھریلومجبوریں کے باعث علم کی تشنگی کے ساتھ  اور  مزید علوم حاصل کرنے کی آرزو کو دل میں رکھتے ہوئے گاؤں واپس تشریف لے آئے اور دینی خدمات سرانجام دینے شروع کئیں۔ گھر میں ہی مدرسہ قائم کیااور بچوں کو قرآن مجید ، فقہ اور حدیث کی تعلیم دینی شروع کردی۔تقریباًپینتالیس (۴۵)سال مسلسل درس وتدریس  کاکام انجام دیتے رہے ۔ والد گرامی کا شب وروز کی مصروفیات ایسی تھیں کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر تقریبا سو (۱۰۰) کے قریب طالب علموں کو درس بھی پڑھاتے تھے، لوگوں کے مسائل سنتے اور حل کرتے تھے، گھرکا کام بھی خود انجام دیتے تھے اور دور   دراز علاقوں میں جاکر مریضوں کی تیمار داری بھی کرتے تھے ، وہ اتنے سارے امورتقریباً روزانہ کی بنیاد پر  انجام دیتے تھے پھر بھی میں نے کبھی ان کے چہرے پر بل یا تھکاوٹ نہیں دیکھی۔غرض ان کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ ہر لحاظ سے لوگوں کے کام آئیں اور دین اسلام  و انسانیت کی خدمت ہو۔ اور ہمیشہ لوگوں کو اسی بات کی تلقین بھی کیا کرتےتھے۔ والدگرامی نے  آخری دم تک قرآن کی تدریس کو ترک نہیں کیا۔ ہر سائل کی مشکلات حل کرتے اورہر کسی کی غمی خوشی میں برابر کے شریک ہوتے تھے، غریبوں اور بے کسوں  کی دکھ درد کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنا ان کی زندگی کا ہدف اور مقصد تھا۔وہ اکثر وقت عبادات میں بھی گذارتےتھے ، بلامبالغہ وہ پوری پوری رات جاگ کر عبادت  اور ذکر خداکیاکرتے تھے ، ان کی معمولات میں شامل تھا کہ وہ احکام الہی اور احادیث مبارکہ کی توضیح وتشریح کرتے اور لوگوں کو معارف الہی سے روشناس فرماتے تھے ۔ان کی محفل میں احکام شرعیہ اور دینی امور کے علاوہ  غیر ضروری باتیں نہیں ہوتی تھیں۔لوگوں کے دلوں میں بھی ان کے لیے بے پناہ محبت تھی  ، ہر عام وخاص ان کے ہر  حکم پر سر تسلیم خم کرتے تھے ۔لوگ علاقائی، سیاسی اور سماجی معاملات میں ان سے مشورہ لیتے اور  کی بات کو حرف آخر مانتے  تھے۔ وہ دوسروں کا انتاخیال رکھتے تھے کہ سات سالوں سے عارضہ قلب میں مبتلا ہونے کے باوجود گھر میں صرف اس لیے نہیں بتایا کہ افراد خانہ میری بیماری کی وجہ سے پریشان نہ ہوں۔ اور اپنی بیماری کے بارے میں کچھ عرصہ پہلے ہمارے بڑے بھائی کو اس شرط پر بتایا تھا کہ وہ گھر میں کسی سے اس کا ذکر نہ کریں۔اور انکی موت کا سبب بھی یہی بیماری بنی اور یکم فروری جمعرات کی رات دار فانی سے عالم بقا کی طرف کوچ کرگئے۔خداوند متعال اپنی رحمتوں کا سایہ انکی قبر پر ہمیشہ رکھے اور حشر میں اپنے جد امجد رحمت اللعالمین حضور اکرم ﷺ اور ان کی آل ؑ کے ساتھ محشور ہوں۔ آمین۔

تحریر: سید حسین

 

  •  
  • 90
  •  
  •  
  •  
  •  
    90
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*