تازہ ترین

سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کنٹیجنٹ ملازمین نوٹفیکشن کے باوجود تنخواہوں سے محروم۔

گلگت (ڈسٹرک رپورٹر) حکومت کی جانب گزشتہ کئی سالوں سے ریگولر ہونے کی آس میں سرکاری محکموں میں بلا معاوضہ ڈیوٹی انجام دینے والے کنٹیجنٹ ملازمین کو سرکاری محکموں میں مستقبل بنیادوں پر بھرتی ہونے کیلئے دوبارہ ٹیسٹ لینے کے احکامات کے بعد گلگت بلتستان میں ان ملازمین نے کئی روز تک گلگت میں احتجاج کیا جس کے نتیجے میں حکومت مطالبات منظور کرتے ہوئے 16 جنوری 2018 کو نوٹفیکشن جاری کیا تھا لیکن تاحال ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں۔ اس سلسلے میں کنٹیجنٹ ملازمین نے پریس ریلیز کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت وعدے کے مطابق سرکاری محکموں میں رضاکارانہ طور پر خدمات سرانجام دینے والے ملازمین کو ریگولر کریں اور تنخواہیں ریلیز کریں۔

  •  
  • 13
  •  
  •  
  •  
  •  
    13
    Shares

About TNN-GB

One comment

  1. محمد علی پاروی

    سلام علیکم سر
    سر گلگت بلتستان کے 28محکموں میں اس وقت تقریباً 4800 ملازمینڈیوٹی دے رہے ہیں جس میں سے 3884ملازمین کا باقاعدہ ویرفیکیشن ستمبر 2017کو ھوئی ھے۔یکم ستمبر کو قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر جی بی اسمبلی جعفر اللہ خان قرارداد پیش کیا تھا اور اس میں متفقہ طور پر کنٹینجیٹ پیڈ ملازمین کو مستقل کا قراداد پیش کیا تھا اور وفاقی حکومت کے پالیسی کے تحت کم از کم تنخواہ پندرہ ہزار کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن اس کےباوجود نہ مستقل کیا ہے اور نہ وفاقی حکومت کی پالیسی کے تحت کم از کم تنخواہ پندرہ ہزار کیا ھے پھر 11دسمبر2017 کو کیبنٹ میں جی بی گورنمنٹ نے کنٹینجیٹ پیڈ ملازمین سے ٹیسٹ انٹریو لینے کا فیصلہ کیا گیاپھر اس کے خلاف 3جنوری 2018 کو کنٹینجیٹ پیڈ ملازمین یونین نے مقپون پولو گراؤنڈ سے ایک علامتی ریلی نکالی جو یادگار چوک سکردو پر مختلف سیاسی جماعتوں کیبنٹ کے فیصلے کے خلاف کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کنٹینجیٹ پیڈ یونین کے صدرعابد فراز اور جنرل سیکرٹری محمد حیات خان نے 7جنوری2018 تک الٹیمٹم دیا اس پر بھی مستقل نہیں کیا گیا پھر 8جنوری 2018کو کنٹینجیٹ پیڈ ملازمین کے یونین نے گلگت میں دھرنے کا اعلان کیا دھرنے میں تقریباً 2000کے لگبھگ ملازمین نے اپنے حق کے لیے اتحاد چوک پر دھرنا دیاگیا جس کے نتیجے میں 11جنوری کو اسسٹنٹ کمشنر گلگت سے اس مسلے پر بات کرنے کے لئے یونین کے آٹھ ممبران سے مزاکرات ھوئی اسسٹنٹ کمشنر نے ایک پیش کش لے کر دس بجے رات کو دھرنے میں پہنچ گیا اے سی نے خطاب کرتے ہوئے یہ پیشکش کی ،کہ گریڈ ون سے لے کر گریڈ پانچ تک کو بغیر ٹیسٹ انٹریو کے سرکاری محکموں میں بھرتیوں کرینگے باقی چھے سے پندرہ گریڈ تک محکمانہ ٹیسٹ انٹریو کرینگے مزاہران نے یہ پیشکش مسترد کیا۔
    پھر 16جنوری 2018کو عوامی ایکشن کمیٹی ،کنٹینجنٹ پیڈ سٹاف یونین اور حکومتی شخصیات جس میں ڈی سی گلگت اور ایس ایس پی گلگت نے متفقہ طور پر ایک آفس میمورنڈم کے زریعے سروسز سیکٹریٹ سے سروسز کے سیکشن آفیسر کے دستخط سے ایک آفیس میمورنڈم پیش کیا گیا جس میں یہ درج تھا:
    1 گریڈ ون سے پانچ تک بغیر ٹیسٹ انٹریو کے سرکاری محکموں میں بھرتی کیا جائے اور اس سے فیزکل ٹیسٹ کے زریعے مستقل کیا جائے اور محکمانہ لیا جائے
    2 6سے اوپر گریڈ کا محکمنہ ٹیسٹ انٹریو لیا جائے۔
    اس کے باوجود اس نوٹیفیکیشن پر عملدرآمد نہیں ھونے کی وجہ سے ملازمین میں کافی تشویش پائی جارہی ہیں ھماری گورنمنٹ سی یہ اپیل ھے کہ جس پی ڈبلیو ڈی کے ملازمین کو بغیر ٹیسٹ انٹریو کے سرکاری محکموں میں بھرتی کیا گیا ہے اسی طرح کنٹینجیٹ پیڈ ملازمین کو بھی مستقل کیا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*