تازہ ترین

حقوق گلگت بلتستان کے حوالے سے رہنما پیپلز پارٹی سنیٹر فرحت اللہ بابر کا ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر تکڑا بیان۔ وہی کچھ کہہ دیا جو گلگت بلتستان میں ہمیشہ سے قوم پرستوں موقف ہے۔

اسلام آباد( نامہ نگار) ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو اس کے موجودہ حیثیت میں رکھنا قومی مفاد میں نہیں اور یہ تجویز پیش کیا کہ فاٹا کی طرح گلگت بلتستان کو بھی سینیٹ اور قومی اسمبلی میں  نمائندگی دیکر این ایف سی ایوارڈ میں شامل کریں۔
انہوں نے کہا کہ اگر فوجی عدالتوں کے قیام اور انسداد دہشتگردی کے قوانین گلگت بلتستان میں لاگو کئے جا سکتے ہیں تو جی بی تک بنیادی انسانی حقوق کو وسعت کیوں نہیں دیا جارہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ لوگوں کی جانب سے جی بی میں اصلاحات کرنے پر یہ کہنا کہ اس سے کشمیر کی متنازعہ حیثیت پر ریاستی موقف پر اثر پڑے گا، قطعی بے بنیاد ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ جی بی کا علاقہ متنازعہ ہے تو پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ وہاں سے کس طرح گزر رہا ہے اور بھاشا ڈیم وہاں کس طرح بنایا جا رہا ہے۔ جی بی وہ علاقہ ہے جس نے سب سے پہلے ڈوگرا راج سے آزادی حاصل کی اور آج بھی تمام ترمسائل کے باجود پاکستان کے وفادار ہیں لیکن حکومتوں نے کبھی اُنکے مسائل پر توجہ نہیں دی۔ لہذا گلگت بلتستان کو تمام قانون سازی اور انتظامی امور کے اختیارات دینے میں کوئی قباحت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرمقبوضہ کشمیر کے عوام کو تمام حقوق حاصل ہیں اور بھارت کی پارلیمان کے رکن بن سکتے ہیں، بھارت کے صدر اور وزیراعظم بن سکتے ہیں تو جی بی کے نمائندے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے رکن کیوں نہیں بن سکتے۔ انہوں نے کہا کہ جی بی کی پارلیمان کو کوئی اختیارات حاصل نہیں، اسے بھی وہی اختیارات دئیے جائیں جو پاکستان کی دیگر صوبائی اسمبلیوں کو حاصل ہیں۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*