تازہ ترین

لوٹ مار کا جدید طریقہ | تحریر عقیل نواز

لوٹ مار کا جدید طریقہ | تحریر عقیل نواز

کراچی شہر میں یہ تیسرا مہینہ ہے۔آہستہ آہستہ اس شہر کے اسرار و رموز سے واقفیت ہورہی ہے۔کراچی آنے سے قبل ہم نے سُن رکھا تھا کہ یہاں بد امنی کی ایک خوف ناک لہر چل رہی ہے۔ایک طرف انسانوں کو بے دریغ قتل کیا جارہا ہے تو دوسری طرف شہریوں کی جائیدادوں اور مال و متاع پر بھی ہاتھ صاف کئے جارہے ہیں۔ٹاگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کی واردادں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔راتوں کو تو دور لوگ دن کو بھی گھر سے باہر نکلنے سے کتراتے اور گبھراتے ہیں۔
اس قسم کی باتیں سن کر دل میں خوف کی ایک لہر سی اُٹھی تھی۔
جس دن ہم لاہور سے کراچی کیلئے روانہ ہوئے، اس دن ہم نے اپنے آپ سے عہد کرلیا تھا کہ جس قدر ممکن ہو ہم اپنےآپ کو گھر کے اندر محصور رکھیں گے۔بلا وجہ باہر نکلنے سے اجتناب کریں گے۔ضرورت کے وقت پوری کوشش کریں گے کہ گھر سے نکلنے کے ارادے کو بدل دیا جائے۔اگر بہ حالت ِ مجبوری باہر قدم رکھنے پڑیں تو کوشش کر کے کہ جلد از جلد کام نمٹا کر گھر کی طرف چل پڑیں گے۔ کسی ٹھوس وجہ کے بغیر بازاروں ،پارکوں اور دیگر عوامی مقامات پر جانے سے اجتناب کریں گے۔
لیکن یہاں آنے کے بعد معلوم ہوا کہ اصل کراچی اور میڈیا میں دیکھائے جانے والے کراچی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔یہاں کے لوگ خوش و خرم رہ رہے ہیں اور ان کے چہرو ں پر خوف کے آثار کہیں سے بھی دیکھائی نہیں دیتے۔اس صورت حال کو دیکھ کر ہمیں ذرا سا اطمینان ہوا۔لیکن کچھ دنوں میں ہی دوستوں سے معلوم ہوا کہ جس علاقے میں ہم رہ رہےہیں یہ شہر کا نسبتاً پر امن اور محفوظ علاقہ ہے۔
اور وہ دوسرے علاقے ہیں جہاں مذکورہ جرائم کا بے دریغ ارتکاب کیا جاتا ہے۔
اور ساتھ ہی دوستوں نے ایسی خوف بھری درجنوں کہانیاں سُنا ئیں کہ کس طرح گھاٹ لگا کر لوگوں کو لوٹا جاتا ہے۔ان واقعات کو سُنے کے بعد ہمارے دل میں ایک احمقانہ خواہش جاگ اٹھی کہ کیا اچھا ہوتا اگر ایسی کسی صورت حال کا ہم اپنی آنکھوں سےمشاہدہ کرتےاور اسے اپنی ڈائری میں قلمبند کرتے۔المختصر ہم چاہ رہے تھے کہ کوئی ایسا منظر ہمیں دیکھائی دے جس میں کسی کو لوٹا جا رہا ہو۔ تاکہ ہم اپنی آنکھوں سے وہ منظر دیکھیں اور لٹنے والے کے خوف اور ڈر کا براہ راست مشاہدہ کرسکیں اور اس طرح ہمیں ایک کہانی ملے گی۔اس خواہش کو دل میں لئے ہم کافی دنوں تک مختلف بازاروں ، گلیوں اور سڑکوں میں گھومتے رہے۔مگر ہم مسلسل ناکامی کا سامنا کر رہے تھے اور ہماری خواہش دن بدن حسرت کا روپ دھار رہی تھی۔
ایک دن موسم خلافِ معمول خوشگوار تھا۔چھٹّی کا دن تھا۔ ہم نے فراغت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صدر جانے کا فیصلہ کیا۔ہمارے دوست احباب کی جانب سے کئی مرتبہ خبردار کیا جاچکا تھا کہ یوں بے مقصد جگہ جگہ گھومنا خصوصاً صدر کے علاقے میں خطرے سے خالی نہیں ہے ۔لیکن ہم تو آتشِ چاہ سے مجبور تھے۔اس لئے ان کی نصیحتوں کو ایک کان سے سنتے اور دوسرے کان سے نکال دیتے تھے۔اس دن بھی احباب کی جانب سے اعتراض سامنے آیا۔لیکن ہم حلیے بہانےبناکر ان کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔اگرچہ ہمیں کہیں جانے کیلئے ان کی اجازت کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔لیکن سنیئر ہونے کے ناطے ہم پر نظر رکھنا وہ اپنا حق سمجھتے تھے اور ہم نے بھی کبھی ان کے اس حق کے خلاف کوئی آواز نہ اُٹھائی۔
گھر سے دل میں حسرت ِ دیدار لئے روانہ ہوئے۔چند منٹس چلنے کے بعد بس اسٹاپ پر پہنچے ۔خلاف معمول جلد ہی بس مل گئی۔بس میں بیٹھتے ہی ہم نے ارد گرد نظر دوڑائی کہ شاید یہاں کو لوٹنے والا ہو۔مگر تمام مسافر ایک دوسروں سے بے نیاز اپنے اپنے خیالات میں مگن تھے۔شاید ہمارے علاوہ کسی کو لوٹ مار کی کوئی امید نہیں تھی۔ہم نے خاموشی اور لاپر واہی کے اس ماحول سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی جیب میں موجود رقم کا جائزہ لیا۔مہینے کے ابتدائی ایّام تھے جو ہم جیسے طالب علموں کی بادشاہی کے دن ہوتے ہیں۔ایک ہزار بیس روپے دل کو خوش کرنے کیلئے کافی تھے۔ہم نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا تھا کہ ان پیسوں سے کیا خریدنا ہے ۔ البتہ امید تھی کہ کہیں نہ کہیں سے کوئی ادبی کتاب ملے گی۔چھٹی کے دن صبح کے وقت ٹریفک بہت کم ہوتا ہے۔اس لئے بلا تاخیر بس نے ہمیں صدر پہنچا دیا۔اور ہم ایک مرتبہ پھر جیب میں موجود رقم کی تصدیق کرتے ہوئے بس سے اُتر گئے۔صدر بازار کی طرف یہ ہمارا دوسرا سفر تھا۔اب فیصلہ یہ کرنا تھا کہ جیب میں موجود قلیل رقم سے کیا خریدا جائے ۔ کافی دیر تک دائیں بائیں ، آگے پیچھے گھومتے رہے ۔۔ لیکن فیصلہ کرنے میں ناکام رہے۔اسی دوران ہم ایک دوکان کے سامنے سے گزر ہے تھے کہ ایک شرٹ پر نگاہ جمی۔دل میں خیال آیا کہ خالی ہاتھ جانے سے بہتر ہے کہ اسی کوہی ساتھ لے لیا جائے۔تھوڑی سی تکرار کے بعد تین سو روپے قیمت طے ہوئی۔دوکاندار سے سات سو روپئے واپس لئے اور ایک بار پھر مختلف دوکانوں کے چکر کاٹنے لگے۔دس بارہ منٹ یونہی بے مقصد چلتے رہے۔اتنے میں ہم نے ایک دوکان کے سامنے لوگوں کا ایک ہجوم دیکھا۔ ہجوم سے مراد یہ ہے کہ دیگر دوکانوں کے نسبت اس دوکان کے سامنے گاہکوں کی تعداد زیادہ دیکھائی دے رہی تھی۔ہم نے بھی بلا تاخیر اس ہجوم کا حصہ بنے کا فیصلہ کیا۔دوکان کے سامنے پہنچنے پر معلوم ہوا کہ وہ برقی آلات کی دوکان تھی۔ایک صاحب بلند چبوترے پر تشریف فرما تھے اور ان کے چار سُو طرح طرح کے برقی آلات کی برمار تھی ۔تھوڑی دیر کے بعد معلوم ہوا کہ وہ لاٹری یا بولی کی دوکان ہے۔جہاں مختلف ڈبے صاحب ِ مسند کے سامنے رکھے گئے تھے۔اور اُن اَن دیکھے ڈبوں کی بولی دی جارہی تھی۔جو صاحب سب سے زیادہ رقم ادا کرتا متعلقہ ڈبّہ اس کے نام کُھلتا ۔ہم نے وہاں کھڑے ہوکر سارے منظر کا قریب سے مشاہدہ کیا اور لوگوں کو انعامات جیتے بھی دیکھا۔اتنے میں ایک ادھیر عمر حضرت سامنے آئے اور ہمیں بھی سامنے رکھی گئی تین کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھنے کی دعوت دی۔دل میں خیال آیا کہ یوں بیٹھے بیٹھائے اور کسی مشقت کے بغیر اگر کوئی مہنگی چیز مل جائے تو کیا بُراِئی ہے اور ہوسکتا کہ اللہ اس بولی کے ذریعے ہمیں کوئی بڑی چیز دینا چاہتا ہو۔ہم نے فوراً حامی بھر لی۔ہمیں مذکورہ کرسیوں میں سے درمیانی کرسی پر بیٹھا دیا گیا۔دائیں جانب ایک دُبلا سالڑکا براجمان ہوا اور بائیں کی کرسی ایک بزرگ کے نام ٹہری۔اتنے میں بلندی سے پُکارنے والے نے اپنے ہاتھ میں ایک ڈبہ بلند کیا اور بولی کا سلسلہ شروع ہوا۔دس روپے، بیس روپے، ساٹھ روپے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ سلسلہ چند منٹس تک چلتا رہا اور آخر میں تین سو روپے کے عوض وہ ڈبہ بائیں جانب بیٹھے بزرگ کے نام رہا۔بلندی پر مسند نشین صاحب نے ڈبّہ کھولا اور اعلان کیا کہ بزرگ کے نام ایک اسمارٹ فون نکلا ہے۔ یہ سُنّا تھا کہ ایک کارندہ اپنے ہاتھ میں ایک موبائل فون اُٹھائے واردِ دوکان ہوا اور موبائل فون کو اس بزرگ کے حوالے کیا۔بزرگ نے چند ساعتوں میں ہی ہزار بار ان کا شکر یہ ادا کیا ۔
اب دوسرے ڈبّے کیلئے بولی شروع ہوگئی۔دس روپے، بیس روپے، تیس روپے، نوّے روپے، سو روپے۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے اس بار بھی احتیاط سے کام لیا اور اس مرتبہ جادوئی ڈبّہ دُبلے لڑکے کے مقدّر کا حصہ بنا۔ڈبّہ کُھلا۔ حسبِ سابق بلندی نشین نے اعلان کیا کہ ان کے نام سونی کا کیمرہ نکلا ہے۔لہذا ان کو ایک عدد کیمرہ دیا جائے۔دلال حضرات جو آس پاس کھڑے تھے ، انہوں نے فوراً تعمیلِ حکم کی۔وہ دونوں حضرات اپنی انعام میں جیتی ہوئی چیزیں لئے چل دئیے۔ اور ان کی جگہیں مزید دو بزرگوں نے لے لیں۔
اب صرف ایک ڈبّہ رہ گیا تھا۔ایک مرتبہ پِھر سے بولی کا سلسلہ شروع ہوا۔ دس، بیس ، تیس، سو ، دو سو۔۔۔۔۔۔ دوکان میں مختلف آوازیں گھونجے لگیں ۔ اس مرتبہ بولی میں وہ لوگ بھی حصہ لے رہے تھے جو باہر کھڑے تھے۔۔۔۔۔ اتنے میں ساتھ والے ایک بزرگ نے چلا کر کہا۔۔ تین سو روپے۔۔۔ ہم نے موقعے کی نزاکت کا احاس کرتے ہوئے بآوازِ بلند ا ۔۔سات سو ۔۔ کا نعرہ لگایا۔دل میں خیال آیا تھا کہ اس قدر قیمتی اسماٹ فون اور کیمرے کے سامنے سات سو روپے کی کیا وقعت؟ ۔ہماری آواز پر حاحبِ بلندی کی باچھیں کھل گئیں۔انہوں نے ہمارے نام کے ساتھ بھائی کے لاحقے کا اضافہ کیا اور ڈبّہ کھول دیا۔اعلان کے مطابق ہمارے نام Haier کی ایک ایل ای ڈی نکلی تھی۔یہ سننا تھا کہ ہمارے دل میں خوشی اور مسرّت کا ایک بے کنار سمُندر موجزن ہُوا۔ہم نے اُس وقت ہی فیصلہ کر لیا کہ ایل ای ڈی کو فروخت کرکے ایک سمارت فون لے لیں گے۔اب بولی کے لئے موجود ڈبّے ختم ہوچکے تھے۔مزید بولی سے قبل ہم سے کہا گیا کہ جن کے نام گھریلو سامان مثلاً ایل سی ڈی، ایل ای ڈی ، واشنگ مشین ، فریج وغیرہ نکلتا ہے ، ان کی رجسٹریشن ضروری ہے۔لہذا آپ اندر آفس میں تشریف لے جائیں ، اپنی رجسٹریشن کروائیں اور اپنا انعام لے جائیں ۔ہم فاتحا نہ انداز میں اندر جانے والے دروازے کی طرف بڑھے۔دفتر میں داخل ہوکر دیکھا کہ سامنے ایک ٹیبل رکھی ہوئی تھی اور اس کے گرد کرسیوں پر چار افراد بیٹھے ہوئے تھے۔ان میں سے ایک فرد نے پانی کا گلاس ہمیں تھماتے ہوئے خالی کُرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ہم نے پانی پی لیا اور اپنے انعام کا تقاضا کیا۔اتنے میں ایک کاغذ ہمارے ہاتھ میں تھمادی گئی۔ جسے پڑھ کر ہمارے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔
پرچی پر مندرجہ ذیل الفاظ درج تھے۔

بہادُر الیکٹرانکس ، صدر
نام خریدار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عقیل نواز
ایک عدد ایل ای ڈی(جس کا ماڈل نمبر یاد نہیں رہا)
سات سو روپے وصول۔۔۔۔۔ نو ہزار تین سو روپے بقایا۔۔
اس ماہ کی اٹھائیس تاریخ تک بقایا جمع کرائیں
اور اپنا سامان لے جائیں۔
ہم نے احتجاجی لہجے میں ان سے گذارش کی کہ یہ تو سراسر ناانصافی اور ظلم ہے۔ہمیں آپ کی ایل ای ڈی نہیں چاہیئے۔ لہذا آپ ہماری رقم واپس کریں۔یہ سننا تھا کہ چاروں حضرات کھا جانے والی نظروں سے ہمیں دیکھنے لگے۔ان کے چہروں پر غصہ و ناراضگی کے آثار عیاں تھے۔ہم نے پرچی کو جیب میں رکھا اور جان بچا کر بھاگنے کا فیصلہ کیا۔دروازے کی طرف ہمارے دو قدم اُٹھے تھے کہ ایک موٹا ہاتھ ہماری گردن کے گرد حمائل ہوا اور ہمیں گھسیٹّتا ہوا پچھلے دروازے کی جانب بڑھا۔ ہم نے مذاہمت کی کوشش کی مگر اس توانا ہاتھ کے سامنے ہماری تمام کوششیں ناکام ہوگئیں۔ پچھلا دروازہ ایک تنگ گلی میں کھلتا تھا۔ وہ مضبوط ہاتھ اب میری گردن سے ہٹ چکا تھا اور ہاتھ والا میرے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔اس نے ہمیں سمجھانے کی کوشش کی کہ آپ کے ساتھ جو ہونا تھا وہ ہوچکا ۔اب آپ شور مچا کر ہمارا کاروبار خراب مت کریں اور اٹھائیس تاریخ سے قبل آکر اپنا سامان لے لیں۔
اب ہم اس دوکان سے کافی دور چلے آئے تھے۔مضبوط ہاتھوں والا ہمیں خدا حافظ کہتا ہوا واپس چلا گیا۔ہم کچھ دیر تک ایک انجانی کیفیت میں وہی کھڑے رہے اور پھر اس واقعے کو تقدیر کا لکھا مان کر گھر کی طرف نکلنے کا ادارہ کرلیا۔ہم سات سے دس منٹ مزید چلے اور گھوم کر اسی دوکان کے سامنے پہنچے۔کیونکہ گھر کی طرف جانے والی بس یہاں سے ہی میسّر آسکتی تھی۔اتنے میں کرایے کی فکر لاحق ہوگئی۔جیب سے بیس روپے برآمد ہوئے جو گھر تک کرائے کیلئے کافی تھے۔
ہم وہی کھڑے بس کے منتظر تھے کہ ایک اور منظر دیکھ کر آنکھیں کُھلی کی کھلی رہ گئیں۔
کیا دیکھتے ہیں کہ جن حضرات کو موبائل اور کیمرہ انعام میں ملے تھے ، وہ واپس دوکان میں آئے، وہی چیزیں بلندی پر موجود شخص کو واپس کردیں اور وہاں موجود لوگوں سے مصافحہ کر کے دلالوں کی قطار میں شامل ہوگئے۔
مطلب یہ کہ وہ دونوں حضرات بھی بولی والے کے ایجنٹ تھے اور ہمیں پھنسانے کیلئےانہیں گاہک بنا کر پیش کیا گیاتھا۔
یہ منظر دیکھنے کے بعد ہمارا خیال فوراً اس خواہش کی طرف گیا، جس کے تحت ہم کسی کو لُٹتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے، اس کی مظلومیت پر کہانی لکھنا چاہتے تھے۔یہ سوچ کر ایک طرح سے دلی آسودگی بھی ملی کہ ہماری دیرینہ خواہش تو پوری ہوگئی تھی۔ہم نے آج لوٹنے اور لٹنے کا منظر دیکھا تھا ۔اور مزے کی بات یہ کہ لٹنے والی ذات ہماری اپنی تھی۔اور کہانی آپ کے سامنے ہے۔
گزرتے وقت کے ساتھ زندگی کے ہر شعبے میں تبدلیاں آرہی ہیں۔مشکلات کو آسانیوں میں تبدیل کیا جارہا ہے۔اور اب بندق سے لوٹنے کا عمل بھی پرانا ہوچکا ہے۔اب لوٹ مار کا جدید طریقہ یُہی رائج ہے۔
اس واقعے کے بعد بھی ہم صدر جاتے رہتے ہیں۔اور دیکھتے ہیں کہ اس طرح کی بے شمار دوکانیں اب بھی صدر میں موجود ہیں ،جو انجان اور سادہ لوگوں کو لوٹ کرا پنی جیبیں بھر رہے ہیں۔ایک ہی دوکان میں تقریباً سات سے دس ملازمین ہوتے ہیں۔جن میں سب کا کردار الگ اور پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔لوگوں کو بہلا پھسلا کر لانے کیلئے الگ ، لوڈ اسپیکر پر میٹھے میٹھے بول سے لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے الگ ، اکاونٹس کا کام کرنے کیلئے الگ اور اس فراڈ سے متاثرہ لوگوں کو دور لےجا کر چھوڑنے کیلئے الگ ملازمین رکھے جاتے ہیں۔
اب بات اس پرچی کی۔اٹھائیس تاریخ سے قبل ہم نے ایک دوسری دوکان سے اسی
ا یل ای ڈی کی قیمت معلوم کی ،جو ہمارے نام منسوب کی گئی تھی اور ہم نے نو ہزار تین سو کی ادائیگی کے عوض اسے حاصل کرنا تھا۔جونہی ہمیں معلوم ہوا کہ مذکورہ ایل ای ڈی کی قیمت سات ہزار ہے ۔۔۔ ہمارا ہاتھ بے اختیار جیب میں چلا گیا اور دوسرے لمحے سڑک پر کاغذ کے بے شمار ٹکڑے پڑے تھے۔

About Himayat Khayal

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*