تازہ ترین

22 فروری 2015۔،،

22 فروری 2015 گلگت بلتستان کی مزاہمتی سیاسی تاریخ کا ایک اہم دن ہے جسے کبھی نہیں بھولایا جاسکتا۔اس دن گلگت بلتستان کی پہلی قوم پرست جماعت قراقرم نیشنل مومنٹ اور آل پارٹیز نیشنل الاینس اپنا کی طرف سے ایک انٹرنیشنل کانفرنس منعقد کیا گیا جس کا موضوع گلگت بلتستان مسلہ کشمیر کے تناظر میں تھآ ۔کانفرنس میں گلگت بلتستان کے سیاسی،مزہبی اور قوم پرست جماعتوں کے قایدین و رہنماوں کے علاوہ پاکستان مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے قوم پرست و ترقی پسند جماعتوں کے رہنماوں اور قایدین نے شرکت کیا جسمیں گلگت بلتستان نیشنل مومنٹ کے چیرمین ڈاکٹر غلام عباس قراقرم نیشنل مومنٹ کے مرکزی چیرمین محمد جاوید،سابق چیرمین ممتاز نگری ،جنرل سیکریٹری تعارف عباس ،گلگت بلتستان جمہوری محاز کے چیرمین انجینیر شجاعت علی ،بالاورستان نیشنل فرنٹ کے رہنما برہان اللہ ،طاہر علی طاہر ترقی پسند رہنما انجینیر امان اللہ ،سلطان مدد ،ایم ڈبلیو ایم کے رہنما یعصب دین انجمن امامیہ کے صدر فقیرشاہ ایڈوکیٹ شیر نادر ایڈوکیٹ وزیر شفیع کالم نگار سماجی رہنما ہدایت اللہ اختر یوتھ لیڈرز واجد علی فیضان میر ،اظہر کاشر رہنما جموں کشمیر یونائیٹڈ پارٹی کے رہنما سید طاہر گردیزی ،اپنا کے جنرل سیکرٹری یاسین انجم ،جے کے نیشنل عوامی پارٹی کے اظہر افضل میر نے شرکت ۔کی۔اور دیگر جماعتوں کے کارکنوں کی کثیر تعداد نے شرکت کیا اور ابتدایی طور پر مقامی حکومت نے کوشش کی کہ کسی طرح کانفرنس نہ ہو اور کے این ایم کی لیڈرشپ پر دباو ڈالا گیا کہ کانفرنس ملتوی کیا جاے یا شرایط کے اندر بیٹھ کر پروگرام کرایا جاے مگر کے این ایم کی مرکزی قیادت نے حکومتی دونوں مطالبات مسترد کیے۔ جس پر حکومت وقت نے طاقت کے زریعے پروگرام کو ناکام بنانے کی بھرپور کوشش کی اور سو سے زاید مسلح پولیس والوں کو کانفرنس والے دن علی صبح کانفرنس جہاں ہونے والی تھی جگہ اور ہوٹل کو گہرے میں لیا اور خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی تاکہ سیاسی کارکن خوف اور ڈر کی وجہ سے کانفرنس میں شرکت نہ کرسکیں مگر آہستہ آہستہ تمام سیاسی کارکن شریک ہوے اور پرامن پروگرام کی کے این ایم کی قیادت کی طرف سے یقین دہانی پر پولیس نفری کی تعداد کم کی اور تقریبا 11بجے پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوا اور کانفرنس سے تقریبا باییس مقررین نے خطاب کیا اور سب نے انڈیا اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ متنازعہ خطے میں استصواب راے کو یقینی بنایں اور عوام کو با اختیار بنایا جاے اور مطالبات کیا گیا کہ غیر مقامی فورس اور بیروکریسی کا انخلا عمل میں لایا تاریخی راستوں کو بحال کیا جاے اور سٹیٹ سبجیکٹ رول بحال جاے تقریبا شام پانچ بجے پروگرام اختتام پزیر ہوا اور تمام شرکا گھروں کو چلے گیے اور کشمیر سے آے ہو مہمانوں کو اگلے صبح رخصت کیا گیا اور تمام ساتھیوں نے کامیاب پروگرام کے انعقاد پر ایک دوسرےے کو مبارکباد پیش کیا اور خوشی کا اظہار کیا مگر چوبیس تاریخ کی شام کو ایک مقامی صحافی کی طرف سے موبایل مسیج کے زریعے پتہ چلا کہ کانفرنس میں شریک باییس مقررین میں سے انیس مقررین پر ایف آیی آر کاٹی گیی ہے جس میں غداری اور بغاوت کے مقدمات درج کیے گیے تھے اور الزام لگایا گیا تھا کہ دوران تقاریر ملکی اداروں کے خلاف بولنے کا تھا اور غداری کا مقدمہ کی ایف آیی آر کآٹی گیے اور 23ا،24Aجیسے سکشن لگا کر مقدمات درج کیے گیے تھے۔ ۔جن میں سے پانچ رہنماوں کا تعلق آزاد کشمیر سے اور چودہ رہنماوں کا تعلق گلگت بلتستان سے تھا اورکشمیر سے آے ہوے سیاسی رہنما جاچکے تھے جبکہ جی بی سے تعلق رکھنے والے رہنما ضمانت کے لیے کورٹ میں پیش ہوے سرکار کے وکیل کے دلایل سننے اور وکیل ملزمان کی طرف سے نامور قانون دان ایڈوکیٹ احسان علی نے دلایل دیے اور جج نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوے ضمانت قبل از گرفتاری قبول کیا اور کشمیر سے تعلق رکھنے والے پانچ رہنماوں کو مفرور قراردیا اور ابھی تک کم از کم پچاس بار کورٹ میں تمام رہنما کورٹ پیش ہوےاور چار سال ہو گیے ابھی تک کویی فیصلہ نہیں سنایا گیا اسی طرح کسی دن بیماری یا مجبوری کی وجہ سے عدالت سے غیر حاضر ہونے کی صورت میں وارانٹ جاری کیا جاتا ہے اور گھروں تک پولیس بھیجی جاتی ہے جو بہت افسوس کی بات ہے۔اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آزادی اظہار راے جو کہ ملک کا آیین اور بین الاقومی قوانین اجازت دیتے ہیں کہ اظہار راے کی اور جتنے بھی سیاسی رہنماوں پر مقدمات قایم کیے گیے ہیں وہ سب معاشرے کے انتہایی پرامن اور زمہ دار لوگ ہیں اسلیے حکومت کو چاہیے کہ من گھڑت مقدمات کا فی لفور خاتمہ کیا اور آزادی اظہا راے کو یقینی بنایا جاے۔ کچھ اور بڑھ گیا ہے اندھیرا تو کیاہوا ۔مایوس تو نہیں ہیں طلوع سحر سے ہم۔
تحریر : تعارف عباس
جنرل سیکریٹری قراقرم نیشل مومنٹ

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*