تازہ ترین

تذکرہِ حلقہِ احباب یعقوب شہباز شگری

یعقوب شہبازصاحب میرے ہم عمر تو نہیں لیکن بچپن کے ساتھی ضرور ہیں۔ ہم عمر نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ، کہ ہمارے درمیان ماہ و سال کا فرق زیادہ ہو ، جب میں نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو یعقوب شہباز سے اکثر اوقات میرا اٹھنا بیٹھنا ہوتا رہتا تھا ۔ چونکہ ہم دونوں شگر کے گنجان آباد اور مردم خیز گاؤں محلہ آگے پا کے باسی ہے ۔ جس گاؤں میں ،میں اور شہباز نے آنکھیں کھولی اس کا شمار آبادی کے اعتبار سے ضلع شگر کے چند بڑے گاؤں میں ہوتا ہے۔ ایک ہی گاؤں کے رہائشی ہونے کے ناطے دن میں کئی بار ہمارے درمیان نششت و برخاست ہونا کوئی انہونی بات نہیں تھی۔
کہا جاتا ہے کہ ایامِ طالبِعلمی میں شہباز بڑی ذہانت اور فطانت کے مالک تھے مجھے اُن کا کلاس فیلو ہونے کا شرف حاصل نہیں ۔ غالباً جب وہ میٹرک کے طالبعلم تھے اُس وقت میں چٹھی جماعت میں پڑھتا تھا البتہ ہم دونوں ایک ہی سکول میں زیرِ تعلیم رہے ۔ گورنمنٹ بوائز ہائی سکول شگر کے در و دیوار اب بھی ہمارے زمانہِ طا لب علمی کی گواہی دے رہی ہے ۔ اُ ن کی تعلیمی قابلیت و صلاحیت کی مکمل کوائف کا خاکہ یا جائزیہ پیش کرنے سے میں فل الوقت قاصر ہوں کیونکہ میں اُن کا ہم جماعت نہیں ہوں لیکن یہاں میں اس بات کا ببانگ دہل اعتراف کرتا چلوں کہ وہ مجموعی طور ایک ذہین و فطین طالب علم ضرور تھا ۔
غالباً میٹرک کے بعد وہ ہیاں سے کراچی کوچ کر گئے اور ہمیشہ کے لئے روشنیوں کے شہر کراچی کے ہو کر رہ گئے۔ کراچی جا کر بھی کچھ عرصہ تک وہ حصولِ علم سے وابستہ رہے لیکن نہ جانے انہوں نے تعلیمی سلسلے کو کیوں جاری نہیں رکھا اِس راز سے خود اُن کے سوا کوئی دوسرا فرد واقف نہیں۔ پھر وہاں انکی شادی علامہ شہید حسن ترابی صاحب کی صاحب زادی کے ساتھ ہوئی اور بچے بھی ہو گئے اس وقت تقریباً چار بچوں کے باب ہیں ۔ شہباز صاحب شروع سے ہی شاہین مزاج انسان تھا زندگی کے ہر موڑ اور سٹیج پر وہ اسی مزاج کا حامل رہے ہیں۔ کبھی یہ شاہین صفت انسان بچپنی کے ایام میں گلی محلے کی فضا میں نچلی اڑان بھرتا رہا ،اب یہ شاہین مزاج انسان شہرِ کراچی کی فضا میں محو پرواز ہے اور دن بدن انکی اڑان کی بلندی بڑھتی یہ جا رہی ہے۔ خدا کرے اس کی اس خوبصورت اڑان کو کبھی زوال کا سامنا نہ ہو ۔ اِسی لئے تو اقبال بھی شاہین صفت انسانوں کے حق میں گویا ہونے پر مجبور ہیں۔
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اُن کو اپنی منزل آسمانوں میں
سیاست انکی رگ و پے میں رچی بسی ہوئی ہے جب وہ شگر میں موجود تھے اُس وقت بھی بحیثیت کارکن سیاست میں اہم کردار ادا کیا ، لیکن اس مختصر کالم میں انکی سیاسی زندگی کی اتار چڑھاؤ کو موضوع بحث بنانا میری منشا نہیں۔ البتہ انکی سیاسی زندگی کا اجمالی جائزہ لئے بغیر اُن کے حالاتِ زندگی کا مکمل احاطہ کرنے سے میری یہ تحریر ناکام رہیگی۔
اِس وقت وہ سیاسی طور پر شیعہ علما کونسل صوبہ سندھ سے منسلک ہیں۔ اس جماعت کے وہ صوبائی نائب صدر اور سیاسی چینل کے سربراہ ہیں۔ ملکی سطح پر شہباز صاحب کی سیاسی مقبولیت کا میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خیر مقدم کرتا ہوں ۔
خاندانی اعتبار سے ان کا خاندان شرافت و دیانت کا حامل ہے۔ ان کے والد مرحوم ڈاکٹر محمد حسین صاحب علاقے میں ایک متدیین شخصیت کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔ ان کا مطالعہ وسیع تھا ۔سیاسی ،معاشرتی اور مذہبی حالات و واقعات پر ان کی گہری نظر تھی۔ بحیثیت

سرکردہ انہوں نے علاقے میں اچھی خدمات سرانجام دی۔ اس وقت وہ خود دنیا میں موجود نہیں لیکن ان کے نیک عادات و اطوار علاقے میں زبان زدِ خاص و عام ہیں شہباز صاحب کے دو بھائی اور ہیں۔ بڑے بھائی شیر علی صاحب جو گاؤں میں اپنے والد مرحوم کی مشن کو آگے بڑھانے میں مصروفِ عمل ہیں، منجھلے بھائی غلام نبی آزاد صاحب بحیثیتِ مدرس گورنمنٹ گرلز کالج شگر میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں غلام نبی آزاد صاحب نے حصولِ علم کے لئے اپنے آپ کو وقف کئے رکھا ۔ چنانچہ اس وقت وہ انگریزی میں ڈبل ایم۔اے کی ڈگری کے مالک ہیں غلام نبی آزاد صاحب بھی یعقوب شہباز صاحب کی طرح ہمارے حلقہ احباب میں شامل ہیں ۔
اگر چہ علم و ادب سے لگاؤ رکھنے والا ہر فرد ہمارے حلقہ احباب کا حصہ ہے ،لیکن جو علم و ادب کی خدمت کے لئے اپنی گوناگوں مصرفیات سے وقت نکالتے ہیں، ان کو خراج تحسین پیش کرنا میرا خلاقی فریضہ ہے ۔یہاں حلقہ احباب کا ذکر چھڑہی گیا تو چندِ احباب اور بھی ہیں ،جنہوں نے ہمہ وقت ہمہ تن زبان و ادب کی آبیاری کی لئے اپنے آپ کو وقف کئے رکھا ان کا نام بھی لینا یہاں موزوں سمجھتا ہوں شرافت حسین ناصر اور عنایت حیدر کے نام زبان و ادب کے حوالے سے کسی تعارف کا محتاج نہیں۔
بظاہر زبان و ادب سے شہباز صاحب کو کوئی خاص دلچپی نہیں ، البتہ ان کی باطنی رموز سے پردہ ہٹانا میرے قبضہ قدرت میں نہیں، کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی بظاہر کسی چیز سے دل لگی کا اظہار زبان سے نہیں کرتا بلکہ عملاً کر کے دکھاتا ہے۔ مجھے امید ہے دیر آید درست آید کا مصداق بن کر ایک ایسا عمل ان کے ہاتھوں سرزد ہو جائیگا ،جس سے زبان و ادب سے مربوط حضرات بھی ایک دن ضرور شہباز صاحب کی گُن گاتے نظر آئینگے ہمارے دل اسی اُمید کی بھرآوری کا بڑی شدت سے منتظر ہے، چونکہ کہا جاتا ہے ،کہ امید پر یہ دنیا قائم ہے ۔شہباز صاحب سے میری قربت کی ایک بڑی وجہ ان کے سینے میں موجود سماج سے الفت و محبت ہیں وہ فقظ ایک سیاسی کارکن ہی نہیں بلکہ ایک ہمدرد سماجی شخصیت کا مالک بھی ہیں ۔ ملکی اور مقامی سماج پر ان کی گہری نظر ہے۔ اتنی دُور کراچی شہر میں رہائش پذیر ہونے کے باوجود مقامی سماج پر ان کی ہمدردیاں حاوی ہیں۔ علاقے کے غریب و نادار کے ساتھ ان کا مشفقانہ سلوک کسی سے پوشیدہ نہیں ضرورت مندوں کو وہ حسبِ استطاعت امداد بھیجتے رہتے ہیں۔ وہ نہ صرف ضرورت مندوں کی مراد وں کا خاطر خواہ بھرم رکھتے ہیں بلکہ گاؤں کے فلاحی و دینی مراکز کی تعمیر
میں کھلے دل کے ساتھ اپنا حصہ ڈالتے ہیں ۔ امام بارگاہ کلاں محلہ اگے پا کی تعمیر میں انہوں نے جو رقم کی صورت میں تعاون کیا ان کی یہ معاونت ہمیشہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔ ان جسے مخیر حضرات کی معاونت کا نتیجہ ہے کہ یہ عالیشان امام بارگاہ اپنی تعمیر کے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ جو بلتی ثقافتی طرزِ تعمیر اور جدید طرزِ تعمیر کا ایک حسین امتزاج کانقشہ پیش کر رہی ہے۔
جسمانی طور پر یعقوب شہباز کراچی میں موجود ہیں لیکن ان کا دل مقامی لوگوں کے ساتھ دھڑکتا ہے اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً بذریعہ فون اور سوشل میڈیا علاقے کے سماجی، مذہبی اور سیاسی حالات و واقعات سے اپنے آپ کو مربوط رکھتے ہیں وہ اپنے حلقہ احباب کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ قابلِ ذکر مدت سے بندہ ناچیز کے حال احوال کے بارے میں شہباز صاحب فون پر لب کشا نہیں ہو رہے ہیں وہ زمانہ بھی یاد ہے ،اگر چہ زیادہ عرصہ پہلے کی بات نہیں ، کہ وہ گھنٹوں مجھ سے بات کر کے نہیں تھکتے تھے۔
یہاں میں اپنا حالِ دل بیان کرنے کے لئے محسن نقوی(شہید) کے اس شعر پر اکتفا کرتا ہوں۔
مجھے کسی سے محبت نہیں کسی کے سوا
میں ہر کسی سے محبت کروں کسی کے لئے

تحریر: علی فرزاد شگری
حلقہ فروغ ادب شگر

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*