تازہ ترین

کئی سال گزرنے کے باوجود ضلع شگر میں زرعی پلانٹ پر کام کرنےوالے مزدوروں کو کام کامعاوضہ نہیں مل سکے۔

شگر(کرائم رپورٹر)ڈی ہائیڈرینٹ پلانٹ چھورکاہ کی تعمیر میں کام کرنے والے درجنوں مزدور محنت کش کئی سال گزرنے کے باؤجود اپنے مزدوری سے محروم اور مزدوری کی حصول اور ٹھیکیدار کو ڈھونڈتے خوار ہونے لگی۔مزدوروں کی کئی کئی ماہ کی مزدوری لیکر متعلقہ ٹھیکیدار رفو چکر ہوگئے۔مزدور اپنے معاوضوں کیلئے خوار ہونے لگے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹھونٹھوپنی پلانٹ میں مزدوری کرنے والے محنت کشوں فداعلی،نوازش علی،روزی محمد،غوٹ حسن،غلام محمد اور دیگر نے کہا ہے کہ ہم نے اپنے بچوں اور اہل و ایال کی کفالت کیلئے سال2013-14میں چھورکاہ میں بننے والے محکمہ زراعت کی پلانٹ میں کئی کئی ماہ کام کیا تھا۔لیکن متعلقہ ٹھیکیدار نے ابھی تک ہماری مزدوری ادا نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ ٹھیکیدار اقبال حسن ساکن سکردو،رسول بیگ سکردو اور طاہر علی سکردو سائٹ ٹھیکیدار تھے جنہوں نے ہم سے فوری مزدوری ادا کرنے کا وعدہ کیاتھا ۔تاہم سکیم مکمل ہونے تک مختلف طریقوں سے ٹال مٹول سے کام لیتا رہا اور سکیم مکمل ہوتے ہی رفو شکر ہوگئے۔انہوں نے کمشنر بلتستان اور ڈپٹی کمشنر شگر سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی خون پسینے کی کمائی اور ان کی حق کو انہیں دلانے کیلئے اقدامات کریں۔ورنہ ہم بچوں سمیت اپنے حق کیلئے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہونگے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*