تازہ ترین

گلگت بلتستان کے گلیشیرز اور ان کے اثرات۔

گلیشیرزبرف کا ایک بہت بڑا جسم ہوتا ہے۔ برف کے بہت بڑا ایریا گرمیوں میں بھی مکمل طور پر پگھلتے نہیں ہے اور ہر موسم سرما میں مزید برف شامل ہو جاتے ہیں۔ ہر برف کا ٹکرا دباؤ پیدا کرتا ہے، یہ دباؤ برف snow کے نچلے حصوں کو برف ice میں بدل دیتے ہیں۔یہ عمل کئی سالوں تک ہوتا ہے ، پھر گلیشیر حجم میں بڑھنا شروع کردیتا ہے۔ پھر یہ اتنا بھاری ہو جاتا ہے کہ کشش ثقل کی وجہ سے برف نیچے کی طرف حرکت کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ نیچے پانی کی طرح بہتا ہے لیکن بہت آہستہ آہستہ، ایک گلیشیئر نارملی صرف 50 میٹر (160 فٹ) فی سال چلتا ہے، اور اگر تیزی سے حرکت کریں تو 20۔30 میٹر (70۔100 فٹ) روزانہ کے حساب سے حرکت کر سکتے ہیں۔ خالی ہونے والی جگہ نئے آنے والی برفباری لے جاتی ہیں۔گلیشیئر بہت اہم ہوتے ہے۔ ان کے ماحول پر بھی ایک بہت بڑا اثر ہوتا ہے کیونکہ وہ بہت بڑے اور بھاری جسم کے حامل ہوتے ہیں۔ جب وہ حرکت کرتے ہیں، تو وہ پہاڑوں اور زمین کو تباہ کر دیتے ہیں۔ چونکہ وہ کافی عرصہ پہلے منجمد ہو گئے ہیں ، اور برف کے کریسٹلز اور ہوا کے بلبلے اس کے اندر اچھی حالت میں موجود ہوتا ہے، جو کہ سائنسدانوں کے لئے بہت زیادہ معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔ ماضی کے نسبت اب گلیشیرز زیادہ سے زیادہ پگھل رہے ہیں۔ بہت سے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ سب گلوبل وارمنگ کی وجہ سے رونما ہو رہے ہیں۔ گلیشیرز پینے کا صاف پانی کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہے۔اب ہم گلگت بلتستان میں موجود کچھ اہم گلیشرکے بارے میں مختصراََ بتاتے ہیں۔
سلسلہ کوہ قراقرم کے گلیشرز :
سلسلہ کوہ قراقرم تقریباََ 40 گلیشئرز پر مشتمل ہے جس میں سب سے بڑی اور اہم (سیاچن گلیشیئر) 46.6 میل (75 km) ، باٹورا 34 میل54.7km) (اور بالتورو 32.5 میل (52.3km) اور دیگر گلیشئیرز جیسے گوڈوان آسٹن، بیافو ، ہسپر،چھوگولیسا،گوڈوگورو، بیارچیڈی کبڑی، وِجنے،ہسپروغیرہ وغیرہ پر مشتمل ہیں۔
سیاچن گلیشیر Siachen Glacier
سیاچن گلیشیرکی لمبائی 75 کلومیٹر اورچوڑائی 4.8 کلومیٹر ہے، اور تقریبا 4800 میٹر تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ گلیشیئر پاکستان۔چین سرحد پر اندرا کولی پاس کے قریب تقریبا 70 کلو میٹر k2 کے جنوب مشرق سے سے شر وع ہوتا ہے۔ یہ گلیشیر1907 میں دریافت ہوا ہے اور پولر علاقوں سے باہر دنیا میں سب سے بڑا گلیشیئر ہے۔ یہ گلیشیئر شمالی کشمیر کے شمال مغربی حصے بھارت اور تبت کی سرحد کے قریب واقع ہے اور کوہ قراقرم کے شمال کے سامنے ڈھلوان پر ہے۔ اس گلیشیر کا مرکزی حصہ وسیع برف پر مشتمل ہے، تاہم، گلیشیئر کے اطراف پتھروں پر پھیلا ہوا ہے۔
Rimo گلیشیئر تین گلیشیئر (شمالی، وسطی اور جنوبی) پر مشتمل ہے جوکی سیاچن کے مشرقی حصے میں واقع ہے اور سمندر کی سطح سے6000 سے 7000 میٹر کے درمیان اونچائی پر واقع ہے۔ ان کے درمیان، گلیشیئر تقریبا 700 مربع کلومیٹر برف ہے جوکہ 100 میٹر گہرا ہے. اس طرح سیاچن گلیشیر تقریبا ،000 2مربع کلومیٹر برف کی سطح اور تقریبا 200 کیوبک کلو میٹربرف پر مشتمل ہے ۔ 160
بلتورو گلیشیر: Baltoro Glacier
بلتورو گلیشیر قطبین کے بعد دوسرا بڑا گلیشیئر ہے جو پاکستان کے صوبے گلگت بلتستان کے علاقے ڈسٹرکٹ شگر بلتستان میں واقع ہے اسکی لمبائی 62 کلومیٹر ہے مشہور زمانہ کے ٹو پہاڑ بھی اسی گلیشیئر میں واقع ہے اسی گلیشیئر سے برالدو شگر دریا نکلتا ہے جو بعد میں سکردو کے مقام پر دریا سندھ میں گرتا ہے۔ اس گلیشیر تک رسائی سکردو شہر سے کی جا سکتی ہے۔
بیافو گلیشیر Glacier Biofo
بیافو گلیشیر کی لمبائی 60 کلومیٹر ہے اور بلتستان اور لداخ میں سلسلہ کوہ قراقرم کے جنوب کی جانب واقع ہے. یہ چھوٹے چھوٹے گلیشیروں سے مل کر بنا ہوا ہے ، یہ ہسپر گلیشیر سے ملتی ہے جو ہنزہ میں واقع ہے قطبین کے بعد یہ تیسرا بڑا گلیشیر ہے اس گلیشیر سے دریا شگرپروان چڑ ھتا ہے۔
راکا پوشی گلیشیر Glacier Rakaposhi
یہ گلیشیئر گلگت میں قراقرم کے نچلے ڈھلوان پر واقع ہے. اس گلیشیئر سے دریا ہنزہ نکلتا ہے جو بعد میں دریا سندھ میں گرتا ہے۔
سلترو گلیشیر:Saltoro Glacier
یہ گلیشیرسلسلہ کوہ قراقرم کے جنوبی ڈھلوان پر واقع ہے۔ اس گلیشیئرسے دو اہم ندی نکلتا ہے ، جوکہ دریا شوک میں آتا ہے.۔
گشہ بروم گلیشیر Glacier Gasherbrum
گشہ برم گلیشیر کی لمبائی 26 کلومیٹر ہے، ا ور یہ بلتستان میں قرا قرم کے جنوب حصے کی طرف واقع ہے۔
کنکورڈیا Concordia
گڈون ۔آسٹن گلیشیر ، بلتورو گلیشیر اور با لائی بلتور و گلیشیر کی ملنے کی جگہ کو کنکورڈیا Concordia کہا جاتا ہے۔ پہاڑوں سے محبت کرنے والے افراد اور پہاڑوں پر چڑھنے کے شوقین لوگوں کے لئے سب سے زیادہ دیکھنے کے قابل اور سب سے زیادہ متاثر کن جگہ تصور کیا جاتا ہے۔
ان پہاڑی سلسلوں میں اب موسم سرما میں بھی دریاوں کی بہاؤ زیادہ رہتے ہیں، جو کچھ سال قبل کبھی نہیں دیکھا گیا تھا ۔ جو کہ پاکستان کے شمال میں گلگت بلتستان میں موجود گلیشیر کی پگلنے کی وجہ سے ہیں جو کہ کشش ثقل اور . عالمی گرمی global warming کی وجہ سے متاثرہو رہا ہے۔
زیادہ سے زیادہ پہاڑوں میں درجہ حرارت گرمیوں کے دوران 30 ڈگری سیلسیس تک جاتا تھا، لیکن اب یہ 40 ڈگری سیلسیس تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ درجہ حرارت میں یہ اضافہ ایک طرف موسم برسات کی توسیع اور دوسر ی جانب برفباری کا کم ہونے کی وجہ سے ہیں۔ برفباری کے دورانیا کی کمی کی وجہ سے برف کو گلیشیئر کی شکل میں برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔برف باری کی بجائے زیادہ بارش سیلاب کی وجہ بن سکتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں قریبی علاقوں میں بڑے پیمانے پر مالی و جانی نقصانات ہو سکتے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق زمین کی درجہ حرارت کے بڑھنے کے علاوہ، پہاڑی علاقوں میں آبادی میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی ٹریفک بھی گلیشیر کے پگھلنے کے عمل کو تیز کرتاہے۔
گلگت بلتستان کے زیادہ تر رہائشی غریب ہیں، اور وہ آب و ہوا کی تبدیلی جیسے سیلاب اور خشک سالی ، برفانی تودے کا اچانک گرنے جیسے بڑے پیمانے پر تباہ کن واقعات کا رد عمل نہیں کرسکتے ہیں، انہیں اپنی صلاحیت کی تعمیر اور تیاری کے لئے طویل مدتی منصوبوں کی اشد ضرورت ہے، گلگت بلتستان میں لوگوں کی زندگی ، معیشت، ماحولیاتی نظام، ارضیاتی اور بنیادی ڈھانچے کو بچانے کے لئے طویل مدتی منصوبوں یا کمیونٹی کی بنیاد پر تباہی کے خطرے کے انتظام، موافقت اور ان سے بر وقت نمٹنے کے لئے لایحہ عمل تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ بروقت ناگہانی آفتوں سے نمٹا جاسکے۔ گلگت بلتستان کے تمام ضلعوں میں ڈیزاسٹرریسک منیجمنٹ کے دفاتر کھولنے کی ضرورت ہے تاکہ ان ناگہانی صورتوں میں یہ بروقت کاروائی کی جاسکے اور کم سے کم جانی و مالی نقصان ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کی ارضی و سماوی آفتوں سے بچائے آمین ۔

تحریر: اشرف حسین شگری
ماہر ارضیات۔
ashraf.geologist@gmail.com

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*