تازہ ترین

وزیر اعلیِ حفیظ الرحمن کے خلاف عدم اعتماد کی ممکنہ تحریک کا لاوا، پیپلزپارٹی کیا کرنے والے ہیں۔

اسلام آباد(تجزیاتی رپورٹ، انجینئر شبیر حسین)پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی جاوید حسین نے اپنی انتخاب کے ساتھ ہی گلگت بلتستان کی سیاست میں ہلچل مچانے کا ایک سلسلہ شروع کہا ہوا ہے ، انہوں نے اسمبلی میں حلف اٹھاتے ہی اپوزیشن لیڈر بننے کی تگ و دو شروع کر دی مگر اس میں ناکام رہے ، جس کی وجہ یہ تھی کہ موصوف اپنی ذات سے آگے نہ دیکھ سکے، اگر وہ متحدہ اپوزیشن تشکیل دیکر ایک متفقہ امیدوار کو آگے کرتے تو نہ صرف متحدہ اپوزیشن لیڈر آجاتا بلکہ اپوزیشن ممبران کے اندران کی ایک حیثیت بھی بن جاتی ، کیونکہ اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کی تحریک انہیں کی کوششوں سے شروع ہوئی تھی ، مگر “میں میں” کا نتیجہ وہی ہوتا ہے جو جاوید کی اپوزیشن لیڈری کے ساتھ ہوا ۔ مگر اب کی بار جاوید صاحب شاید سمجھ گئے ہیں کہ “میں میں” کا نتیجہ کیا ہوتا ہے ، اب کی بار انہوں نے وزیر اعلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے ساتھ ساتھ دیامر سے کسی ممبر اسمبلی کو وزیر اعلی بنانے کے ارادے کا اظہار کیا ہے جس سے لگتا ہے کہ وہ اس بار ذرا سنجہدہ نوعیت کی تحرہک چلانا چاہتے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کے کچھ امکانات موجود ہیں ؟ میں سمجھتا ہوں بلوچستان اسمبلی میں حالیہ عدم اعتماد کی کامیاب تحریک کیبعد گلگت بلتستان میں بھی حکومتی ممبران جن کے وزیر اعلی کے ساتھ شدید اختلافات ہیں ایسی کسی تحریک کی کامیابی کیلئے پر امید ہیں ۔ حکومتی پارٹی کے کئی ایک ممبران جن کا حفیط الرحمن کے ساتھ شدید ترین اختلافات ہیں چاہتے ہیں کہ کوئی اٹھے اور وزیر اعلی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لے آئیں تو وہ ان کے ساتھ ملک کر حفیظ الرحمن کو گھر کا راستہ دکھا نے پر تیار ہیں ، ایک حکومتی رکن اسمبلی اپوزیشن ممبر کو ٹیکنو کریٹ ممبران کے فنڈز مین کٹوتی پر عدالت مین جانے کی صورت میں پورا ساتھ دینے کا وعدہ کرتا رہا ہے ، کئی ایک ممبران کو کھل کر میڈیا میں حفیط سے ذاتی اختافات اور انہین نظر انداز کرنے پر کھل کر اظہار خیال کر چکے ہیں، اس وقت جی بی میں حفیظ الرحمن ون مین شو چلا رہے ہیں ، گلگت بلتستان کی حکومت اس وقت عملا دو لوگوں کے ہاتھ میں ہے ، ایک حفیظ الرحمن اور دوسرا سبطین احمد ہے جو وزیر اعلی گلگت بلتستان کے سکریٹری ہیں ، بتایا جاتا ہے کہ وہ وزیر اعلی کیبعد جی بی کی اقتور ترین شخصیت ہیں جن کی اجازت کے بغیر کوئی پتہ بھی نہیں ہلتا ، واقفان حال کاکہناے کہ ایک ٹیچ کی ترانسفر پوسٹنگ تک سبطین احمد کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں ، اور اس صورتحال سے منتخب ممبران اسمبلی اور وزراء بہت پریشان ہیں ، دوسری جانب غیر منتخب مشیران کی فوج ظفر موج جنہیں وزیر اعلی کا اشیرباد حاصل ہے کا اہم پوسٹوں ہر قابض ہونا اور منتخب ممبران اسمبلی کو نطر انداز کیا جانا بھی ان کے درمیان کافی تشویش کا باعث ہے ، دوسری طرف بلتستان کےچند ایک کے علاوہ اکثر ممبران اسمبلی وزیر اعلی سے ان کے متنازعہ بیانات پر سخت ناراض ہیں ، مگر اخلاقی جرات نہ ہونے اور حد سے زیادہ چاپلوسیوں کی روایتی عادتوں کی وجہ سے وہ چپ سادھے بیٹھے ہیں مگر اند سے عوامی دباو کے نتیجے میں شیدید اضطراب کے شکار ہیں ۔وزیر اعلی کے خلاف کسی بھی تحریک کے نتیجے میں ان ممبران کا ساتھ دینا بھی خارج از امکان نہیں ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ ممبران جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوامی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حفیظ کۓ خلاف اٹھ کھڑے ہو جاتے ہیں یا آنے والے الیکشن مین عوامی غیض و غضب کا شکار ہونے کیلئے تیار ہیں۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*