تازہ ترین

علی ترین کی ہار ۔۔۔ لیڈر شپ کے پہچاننے میں ناکامی

مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ لودھراں میں علی ترین جیتے یا ان کا مد مقابل، میں گلگت بلتستان کے ایک باسی کی حیثت سے سوچوں تو مجھے اس بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وفاق کی کونسی پارٹی کہاں جیت جاتی ہے اور کون کہاں ہار جاتی ہے ، وقت کے ساتھ ساتھ وافاقی پارٹیوں میں ختم ہوتی جا رہی ہے ۔ایک وقت تھا جب ہم بچے تھے وفاقی الیکشنز کے دوران بڑے بھائی ایک ریڈیو میں الیکشنز کے رزلٹ سنتے اور میں جیتنے والے امیدواروں کی فہرست بنا لیتا ، پی پی پی کا کوئی امیدوار جیت جاتا تو ہم بہت خوش ہو جاتے ، پھر یہ ہوا کہ پی پی پی ہی کی ایک حکومت جی بی میں آئی ہم نے ان کا کرہشن ، بیڈ گورننس ،اقربا پروری ، چور بازاری دیکھی اور پہلے ان کی جیت کیلئے دی جانیوالی ساری دعائیں بد دعاوں میں تبدیل ہو گئیں ، تب ن لیگ سے شدید نفرت کرتے تھے وجہ شاید پی پی پی کی محبت تھی ، اور نفرت کرنے کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہو کہ اس پارٹی نے کا دامن گلگت بلتستان کو امپاور کرنے کے حوالے سے بلکل خالی ہے ، اور مظبوط کشمیری لابی کی موجودگی میں آئیندہ بھی اس کی گود اس حوالے سے ہری ہونے کی کوئی امید نہیں ہے،اس کے باوجود ن لیگ کے بارے میں سوچنے کا زاویہ بدل گیا ہے ، پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے حوالے سے میں بہت زیادہ خوش فہمی کا شکار ہوں ، اس لیئے کہ جس شد و مد سے انہوں نے ذرداری اور شریفوں کی کرپشن کا پردہ چاک کیا ہے وہ وہی کر سکتے تھے ، جس طرح اس مافیا کے کرتوں سے انہوں نے عوام کو با خبر کیا وہ انہں کا خاصہ ہے ، جس طرح نواز شریف کے ہاتھوں بکتی عدلیہ کے دروازے پی ڈیرے ڈال کر اپنے تاجر کے خلاف فیصلہ لیا وہ بھی عمران خان ہی کا کمال تھا ، لیکن شاید ہمیں سمجھنے میں وقت لگے گا ، اگر بوٹ والوں نے پاکستان کی جمہوریت کے پنپنے کیلئے درکار وقت کے لگ بھگ 35 سال اپنی بوٹوں تلے نہ کچلا ہوتا تو اب تک جمہوریت کا یہ درخت کافی توانا ہو چکا ہوتا اور یہ چور ڈاکو اور لٹیرے حکمران نہ ہوتے ، پانچ سال حکومت کر کے زرداری کا صفایا ہو سکتا تھا تو 20 سال حکومت کر کے یہ گلو بٹ مافیہ چلی ہی گئی ہوتی ، 2008 سے 2017 کی نیم جمہوریت کے کوکھ سے عمران خان جیسا لیڈر ابھر کر آسکتا تھا تو 1947 سے 2018 تک کے عرصے میں کئی عمران آتے اور رخصت بھی ہوتے اور اس سے بہتر لٰیڈرز ابھر کر سامنے آچکے ہوتے ، عوام کو اچھے برے کی پچان تو ہو ہی جاتی ، لیکن جس لیدر شب کو اس عوام کو پہچاننا تھا وہ آج تک نہیں پچان پائے ، علی ترین جس کے باپ جہانگیر ترین نے اپنی جیب سے لودھراں میں اربوں روپے کے منصوبے مکمل کئیے ،علی ترین جو آکسفورڈ یونیورسٹی کا پڑھا ہوا ہےنے پانچ برس قبل اپنے باپ سے درخواست کر کے اپنے علاقے میں تعلیم و صحت اور فلاح و بہبود کے منصوبوں کی کمان سنبھالی تھی ۔علی ترین نے لودھراں میں کرکٹ سٹیڈیم تعمیر کروا کر کرکٹ لیگ کا آگاز کیا جو اب دنیا کے 14 ملکوں میں کھیلی جاتی ہیں ۔انظمام اور مشتاق اس حوالے سے لودھراں آ چکے ہیں ، ترین ایجوکیشن فاونڈیشن کے زیر اہتمام لودھراں کے 79 سکولوں میں 28 ہزار طلباءکو بہترین تعلیمی سہولیات دی جا رہی ہیں ، لودھراں پائیلٹ پراجیکٹ کے نام سے اس وقت لودھراں میں 1968 ہیند پمپس 354 واٹر فلٹریشن پلانٹس لگ چکے ہیں ، سیوریج کی 128 منصوبے مکمل کر چکے ہیں ۔ 500 سے زائد معذور مریضوں کو مصنوعی اعضا لگا چکے ہیں ،۔خواتین کی 63 سلائی مراکز میں 3 ہزار کے لگ بھگ خواتین تربیت پا رہی ہیں ، ان کے مقابلے میں ایک نا معلوم شخص اس لئیے جیت جاتا ہے کہ ایک مافیہ کا سرغنہ روتا پتتا یہ کہتا پھر رہا ہے کہ مجھے مجیب ا لرحمن بنایا جا رہا ہے، اس کا چھوتا بھائی اس لیئے پنجاب میں پٹھانوں کا تنگ کر ریا ہے کہ ملک میں پنجابی پٹھان فسادات شروع ہو جائے اور عمران کام کو پنجاب سے ووٹ ملنے سے روکے ، اپنی سیاست عزائم کیلئے ملک میں افراتفری پھیلانے والوں اور ملک کو آگے لے جانے کییلئے سر دھڑ کی بازی لگانے والوں میں فرق کرنے میں ناکامی کا ذمہ دار وہ ادارہ ہے جس نے پاکستان کو اپنی چاراگاہ بنا لیا اور جمہوریت کا پنپنے نہیں دیا ، اگر یہاں جموریت کا پنپنے دیا ہوتا تو آج پارلیمنٹ ایک سز یافتہ مجرم کو پھر سے اقتدار دلانے کے راستے نہ ڈھونڈ رہا ہوتا ، کا ش اے کاش۔
تحریر: انجنئر شبیر حسین

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*