تازہ ترین

احسان علی ایڈوکیٹ مظلوم طبقے کی آواز۔

ان سے میری ملاقات گزشتہ موسم گرما میں سکردو کے ایک ہوٹل میں ہوئی تھی۔ انہیں نہایت خوش اخلاق، حق گو اور منکسرالمزاج پایا۔ اس سے پہلے بھی ان سے ایک دو بار گلگت بلتستان کے ایشوز پر بذریعہ فون کال بات ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں کافی دیر آئینی حقوق، سی۔پیک، فور شیڈول پر گفتگو کرنے کے بعد میں اٹھا تو انہوں نے مجھے کتاب The Communist Manifesto اور سوشلزم سے متعلق کراچی سے شائع ہوئے دو جریدے تحفہ میں پیش کر دیئے۔
کل دن کو خبر ملی کہ احسان علی ایڈووکیٹ جو کہ صدر سپریم اپیلیٹ کورٹ بار گلگت بلتستان، بابا جان کے وکیل، سماجی کارکن، گلگت بلتستان کے حقوق کیلئے ہمہ وقت تیار بزرگ “جوان” ہیں، کو توہین_مذہب کے الزام میں گلگت سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اسکی ظاہری وجہ انکے کچھ عرصہ پہلے کے ایرانی احتجاجی مظاہروں سے مطلق ایک سوشل میڈیا پوسٹ بنی جس کے کچھ دنوں بعد انہوں نے نہ صرف اگلی پوسٹ میں اس پوسٹ پر معافی مانگی بلکہ پچھلے پوسٹ کو شیئر کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ انکا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ ایرانی مظاہروں کے پیچھے چھپے محرکات پر مثبت بحث تھا۔ اطلاع کے مطابق انہوں نے اسپر علامہ راحت الحسینی سے بھی معذرت کر لی تھی۔واضح رہے کہ پاکستان میں یہ Trend عام ہوگیا ہے کہ اگر کسی کو اسکی حق گوئی اور حق مانگنے سے روکنا ہو تو اسے “بھینسے” کا ایڈمن بنا کر خاموش کرنے کی کوشش کی جائے یعنی Blasphemy Law کو Balaclava Mask بنا دیا ہے جسے پہن کر آپ جس پر چاہے خنجر سے وار کر دے، آپکی “حقیقی” شناخت کے ساتھ ساتھ آپکی حقیقی Intention بھی چھپ جائے گی گویا “پردہ جو آٹھ گیا تو بھید کھل جائے گا” اور نہ اٹھے تو “بھینسے” کا ایڈمن بن جائے گا۔ CIA کو Weapons of Mass Destruction کا بہانہ ملا ہوا ہے اور چونکہ احسان ایڈووکیٹ، بابا جان، حسنین رمل اور ان جیسے دیگر شخصیات پر ایٹم بم بنانے کا الزام نہیں لگایا جا سکتا تو پاکستان کی کچھ قوتیں ان پر دہشتگردی اور بلاسفیمی کے قانون سے ہی گزارہ کر رہی ہیں۔ گلگت بلتستان میں اگر کوئی بابا جان یا حسنین رمل بننا اور حقوق کی بات کرنا چاہتے ہیں تو سلاخوں کے پیچھے زندگی گزارنے کیلئے تیار رہنا ہوگا اور اگر آزاد رہنا ہے تو وہ “فردوس جمال” جیسے لونڈوں کی طرح ہوجائیں کہ جو مدینے میں بیٹھ کر زمانہ رسالت کے منافقین مدینہ کیطرح منافقانہ پروپیگنڈوں کے ذریعے تفرقہ پھیلاتا ہو کیونکہ گلگت بلتستان کا حق پرست شہری جیل کی ہوا ہی کھا سکتے جبکہ اسکے برعکس اورنگ زیب فاروقی اور ایسے کالعدم تنظیموں کے لیڈران گلگت کا سال میں ایک دو بار چکر ضرور لگا سکتے ہیں۔ نہ یہ عمل دہشتگردی ہوگی اور نہ ہی انکے بیانات تفرقہ بازی یا توہیندین و مذہب۔
ظلم کی داستاں سناؤں گا
آگ دامن کی اب بجھاؤں گا
جتنے پردوں میں چھپا ہو باطل
ایک ایک کر کے سب اٹھاؤں گا

تحریر: سید حیدر کاظمی

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*