تازہ ترین

پی پی کے دور حکومت میں امن و امان کی مخدوش صورتحال۔ اصل محرک مسترد شدہ سیاسی اداکار۔

گلگت بلتستان کی پرامن فضاء کو مقدر 1971 کی جوہر علی خان کی تحریک کے بعد کیا گیا۔ یہاں پر بیرونی طاقتوں نے مقامی لوگوں کے اتحاد سے خوفزدہ ہوکر فرقہ واریت کا بیج بو یا۔ جسمیں چند مقامی لوگوں نے بطور آلہ کا ر کام کیا۔ پیپلز پارٹی کے 2009 میں گورننس آرڈر کے تحت دئے جانے والے پیکج کے بعد اس پرامن فضاء کو خراب کرنے میں کچھ سیاسی عوامل بھی کارفرما تھے۔ 2009 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے بھاری اکثریت حاصل کرکے حکومت بنائی۔ اور وزرات اعلیٰ کا تاج سکردو سے تعلق رکھنے والے سید مہدی شاہ کو پہنایا گیا۔ اس سیاسی تبدیلی کو چند ناعاقبت اندیش سیاسی عناصر نے مذہبی رنگ دے کراپنی دانست اس پیکج کی بساط لپیٹنے کی ناکام کوشش مذہبی منافرت پھیلا کر کرنے کی کوشش کی۔ گورننس آرڈر کے تحت دئے جانے والے پیکج کے خلاف مظاہرے کئے گئے۔ اور اسکو ایرانی پیکج کہہ کر چند لوگوں نے مسترد کردیا۔پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کی محترمہ بینظیر بھٹو کا تختہ الٹنے کے لئے میاں نواز شریف نے آسامہ بن لادن کی حمایت اور ان سے مالی مدد بھی لی۔ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں فرقہ واریت کی فضاء کچھ زیادہ حد تک پھیلائی گئی۔ اور اس دور میں شاہراہ قراقرم پر (کوہستان۔لولوسر۔چلاس) ناخوشگوار واقعات بھی رونما ہوئے۔ جسکو گلگت بلتستان کے اہل دانش لوگوں نے جس میں تمام مکتبہ فکر کے لوگ شامل تھے شدید مذمت کی۔ اور امن کی فضاء قائم کرنے کے لئے پیپلز پارٹی کی حکومت نے مساجد کمیٹیز قائم کرکے مذہبی ہم آہنگی کے لئے بھرپور کام کیا۔ اور اس امن کا سہرا اس دور میں عوامی حقوق کے لئے کام کرنے والی عوامی ایکشن کمیٹی کے سر بھی جاتا ہے۔جنہوں نے گلگت بلتستان کے تمام لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ اور اتحاد کا نعرہ لگایا۔
موجودہ مسلم لیگی مقامی حکومت جو اس ا من کا سہرائاپنے سر لینے کی کوشش کرتی نظر آرہی ہے۔ اور سابق حکومت کے دور کو امن و امان کو سبوتاژ کرنے والی حکومت سے تشبیہ دیتے ہوئے یہ کیوں بھول جاتی ہے۔ کہ جب آپ حکومتی ایوانوں سے دور تھے تو یہ منافرت کا بیج 2009 کے سیاسی سیٹ آپ کی آڑ میں کس نے بویا تھا؟۔ اقتدار سے ٹھکرائے ہوئے لوگوں نے پیکج کو مسترد کیوں کیا۔ اور آج اسی پیکج سے استفادہ حاصل کررہے ہیں۔ پی پی کی حکومت کو ناکام ثابت کرنے کے لئے شاہراہوں اور گلگت شہر میں ناخوشگوار واقعات رونما کرائے گئے۔ اور واقعی اس دور میں مہدی شاہ حکومت ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کرنے میں ناکام بھی نظر آئی۔ بہت سارے دوراندیش تجزیہ کاروں اور سمجھدار سیاسی کارکنوں کی یہی رائے تھی کہ اقتدار سے ٹھکرائے ہوئے لوگ کسی اور طاقت کی معاونت سے ہی یہ کھیل کھیل رہے ہیں۔مگر آج یہ سہراء اقتدار ملنے کے بعد وہی عناصر آپنے سر لے رہے ہیں۔ اس دور میں انہی لوگوں کی سطحی نظر تھی۔ یہ عناصر دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے تو شاید پرامن فضاء اس حد تک خراب نہ ہوتی۔ اور اقتدار تو سابق لوگوں کی ناکامیوں سے ہی متبادل نمائندوں کو مل ہی جانا تھا۔ مگر بات صبر کی تھی جو ان سے نہیں ہوئی۔
تحریر۔ وزیر نعمان

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*