تازہ ترین

ریسکیو1122دیامر کے ملازمین گزشتہ کئی ماہ سے تنخواہوں اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم۔

چلاس(شفیع اللہ قریشی)انسانی خدمت کرنے والاادارہ ریسکیو1122دیامر کے ملازمین بنیادی مسائل کا شکار۔ریسکیو اہلکارگزشتہ پانچویں مہینے کے تنخواہوں سے بھی محروم ہو کر رہ گئے۔صوبائی حکومت ریسکیو ملازمین کو تنخواہوں سے محروم رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے,ریسکیوں ملازمین تنخواہوں کے محرومی کی وجہ سے انکی گھریلوں زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا, ریسکیو دیامر کے ملازمین قرضوں میں ﮈھوب گئے,دکانداروں نے بنیادی ضروریہ زندگی کی اشیاء دینے انکار کر دئیے جس کے باعث زہنی ازیتوں میں مبتلا ہو کر رہ گئے ۔گھروں میں  چھولے ٹھنﮈ پڑ گئےفاقے کی نوبت سے زندگی جبران بن گئی.24گھنٹہ انسانی خدمت خلق کی سروس جاری رکھنے والا ادارہ ریسکیو1122کے ملازمین گزشتہ پانچ مہینوں سے تنخواہ سےمحروم ہو کر رہ گئے۔ریسکیوں ملازمین کو بر وقت تنخواہیں نہ ملنے پر کھانے پینے کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہیں ۔جبکہ اکثر ملازمین گھر کے خود کفالت ہیں۔ان خیالات کا اظہار عوامی حلقوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب سے ریسکیو اہلکاروں کو دیامر میں تعینات کیا گیا اس کے بعد غریب عوام کا بوجھ ہلکا ہوا ہے۔دیامر میں دن رات الرٹ رہنے والے ریسکیوں اہلکاروں کو تنخواہیں نہ ملنا حکومت کی نا اہلی ہے۔عوامی حلقوں نے صوبائی حکومت گلگت بلتستان کو آڑے ہاتھوں لے کر کہا کہ سیاست کے پوجاری حکمران خود اپنے گریباں میں زرا جھانک کے دیکھے،ہر کوئی فرد اپنا اور اپنے بچوں کے پیٹ پالنے کے لئے محنت مزداری کرتا ہے۔حکمراں ایک دن بھوکھا رہے کر دیکھائیں۔انھوں نے مذید کہا کہ انکو بروقت تنخواہیں نہ ملنے سے اپنے بچوں کے اسکول فیس ادا کرنے سے قاصر ہے۔انھوں کہا کہ حکام بالا ریسکیوں 1122کے ملازمین کو بروقت تنخواہوں کو یقینی بنایا جائے۔تاکہ انسانی خدمگار کو درپیش مسائل سے نجات مل سکے۔انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور چیف سیکریٹری جی بی نوٹس لیکر اہلکاروں کی داد رسی کریں تاکہ سکھ کا سانس لے سکیں۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*