تازہ ترین

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی دیامر کیمپس غیر ضروری مضامین سلیبس میں شامل جسں کا کوئی اسکوپ ہی نہیں۔

چلاس(شفیع اللہ قریشی)دیامر طلباء کا مستقبل داؤ پر لگ گیا،دنیا دوکھہ دیتی ہے مگر یہاں دوکھہ کی جگہ پھر سے دوکھہ دیا گیا، دیامر کے طلباء کے ساتھ صوبائی حکومت نے ایک بارپهرسازش کے تحت سوتیلا رویہ اختیار کیا ہے انتہائی افسوسناک ہے چیئرمین مسلم یونائٹڈ موومنٹ حسین احمد کی صحافيوں سے گفتگو. انھوں نے کہا کہ کےآئی یو دیامر کیمپس کا قیام عمل میں لایاگیا ہے یہ خوش آئین بات ہے مگر بد قسمتی یہ کہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی دیامر کیمپس میں ایسےمضامین رکهیں گئےہیں جس میں طلباء کو کوئی دلچسپی ہے نہ رکهتے ہیں۔اور ایسے مضامين کے اسکوپ سے دیامر  کے طلباء کو کوئی فائدہ نہیں ہے وہ مضامين رکھے گئے ہیں جو ڈگری کالج میں بھی نہیں, انھوں نے کہا کے آئی یو دیامر  کیمپس کےلئے مضامین منتخب کرنے سے پہلے پرنسپل ڈگری کالج چلاس سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی جو کہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے ابھی تک ان مضامين کے لیے کوئی داخلہ فارم بھی جمع نہیں ہوئے ہیں, جسے ہم سازش اور بدنیتی کانام دےسکتےہیں۔ اعلی حکام دیامر کو دیوار پرلگارہے ہیں لیکن اس بات سے دیامرکے منتخب نمائندوں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔دیامر کے نااہل آن پڑھ اور جاہل نمائندوں کی وجہ سے دیامر میں کوئی ترقی نہیں ہو رہی ہے.جوکہ دیامر کے منتخب نمائندوں کے لیے سوالیہ نشان ہے,انھوں نے کہا کہ جلد مضامین پر غور کریں اور مشاورت کیساتھ مضامین کا انتخاب کیا جائے,انھوں نے چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ڈاکٹر کاظم نیاز,فورس کمانﮈر جی بی  سے اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس اہم مسلئے کا ازخود نوٹس لیکر اس کو ترجی بنیادوں پر حل کریں اور داخلہ کی تاریخ میں مزید اضافہ کیا جائے.

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*