تازہ ترین

گلگت بلتستان میں اصل حکومت کس کی ہے؟ سابق وزیر اعلی نے اہم انکشاف کردیا۔

اسلام آباد(بیورو رپورٹ) پاکستان پیپلزپارٹی کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں گلگت بلتستان کی حیثیت پر قومی سمینار سے خطاب کرتے ہوئے گلگت بلتستان کی حقوق کے حوالے سے اہم انکشاف کردیا۔ اُنکا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں ٹیکس پاکستانی ہے زمین پاکستانی ہے وسائل پاکستانی ہے مارشل لاء لگانے اور کوڑے مارنے کیلئے پاکستانی ہیں۔ لیکن جب ہم اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ ہے اگر ایسا ہے ہم سے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ واپس لے۔ پاکستان کا نام روشن کرنے میں گلگت بلتستان کے عوام کی کارکردگی شامل ہیں لیکن ہمیں حقوق نہیں دیا جارہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اصل حکومت بیورکریسی کی ہے اور بیورکریسی حقوق گلگت بلتستان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں جس میں نے اپنے پانچ سالہ دور میں بہت قریب سے دیکھا ہے۔ اُنہوں کہا سی پیک پاکستان لیکن جب سی پیک میں گلگت بلتستان کے حقوق کا مطالبہ کریں تو متازعہ یہ فراڈ اب مزید ہم برداشت نہیں کریں گے۔ اُنہوں نے سوال کیا کہ اگر گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں تو ہمارے سرحدوں پر فوج کس کے ہیں اور دو نشان حیدر کس کو دیا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یقینا گلگت بلتستان عوام بیدار ہوچُکی ہے اور ہم مزید نعروں پر بلکل ہی یقین نہیں کریں گے اگر وفاق میں پاکستان پیپلزپارٹی دوبارہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور گلگت بلتستان کو صرف نعروں پر ٹرخانے کی کوشش کرتے ہیں تو میں سیاست چھوڑ کر گھر میں بیٹھنا پسند کروں گا کیونکہ ہمیں مزید اپنے عوام سے جھوٹ نہیں بول سکتے۔ انہوں نے کشمیری قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاملات میں جب اُن سے مشاورت کرتے ہیں تو اُن کے معاملات میں بھی ہم سے مشاورت کرنا چاہئے۔ اُنکا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے قائدین نے 1947 میں بغیر کسی معاہدے کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا جسکی سزا آج تک ہمارے عوام بھگت رہے ہیں۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*