تازہ ترین

غربت کی کہانی میں کیسے سناوُں۔

غربت،بھوک و افلاس نٸی اصطلاح تو نہیں لیکن میں اس وقت حیران ہوا جب ایک کچی آبادی میں ایک نجی ادارےیعنی این جی اوز کے زریعے میڈیکل کیمپ رکھا گیاڈاکٹر صاحب کے ساتھ میڈیکل کیمپ میں بطور والینٹر میں بھی شامل تھا اور وہاں غریب  مریض معاٸنےکے لٸیے باری باری آتے جارہے تھے اسی اثنا ایک چھوٹا بچہ ڈاکٹر کے پاس آگیا اور ڈاکٹر صاحب سے دھیمی لہجے میں کہا جومیں نے نہیں سنالیکن اسکے بات ڈاکٹر صاحب کی رونے کی آواز نے مجھے متوجہ کیا تو میں نے ڈاکٹر صاحب سےاستفسار کیا کہ رونے کی وجہ کیاہے تو ڈاکٹر کی طرف سے ملنے والی جواب نے میرے دل کے ٹکرے ٹکرے کر دیا  اس ننھا سا بچہ نے ڈاکٹر سے کہا تھا کہ ڈاکٹر صاحب ایسی دوا دینا جس سے مجھے بھوک کم لگے کیونکہ جب مجھے بھوک ذیادہ لگتی ہےتو میں اپنی ماں سے کھانا مانگتا ہوں پر میری ماں مجھے کھانے کے بدلے مار دیتی ہے جس سے میں رونے لگتی ہوں اور جب میں رونےلگتی ہوں تو میرے ماں بھی ساتھ رونےلگتی ہے۔میں اپنی رونے پر پریشان نہیں ہوتی کیونکہ میں جب روتی ہے تو ماں کچھ نہ کچھ ضرور دیتی ہے مگرمیری ماں جب روتی ہے تو انہیں کچھ نہیں ملتی ۔یہ بات سننا تھا میرے سینے میں عجیب درد شروع ہوا چونکہ کیمپ کے دوران بھاگ دوڑ نے مجھےبھی بھوک سے نڈھال کر رکھا ہوا تھا اوراُس وقت  ان کی باتیں سن کر احساس کا جاگ جانا ایک فطری عمل تھا ۔دوستو بھوک وہ نہیں جو ہم دن بھرمیں گاہے باگاہے محسوس کرتے ہےمیرے نزدیک تو وہ مٹھاس کی تبدیلی کا چھوٹا سا بریک ہے اصل بھوک معلوم کرنےکی ہمت ہے تو کھبی غریبوں کے مسکن کی طرف رخ کرٸیں جہاں دو وقت کی روٹی حاصل کرنا ناممکنات میں سےہے۔جیسےکےٹو سر کرنے کے لٸیے مہم جوکو جتنی محنت کرنا پڑتا ہے اس سے ذیادہ محنت کرنا غریبوں کا روز کا معمول ہے۔پاکستان میں 40فیصد سے ذیادہ لوگ انتہاٸی خطہ غربت سے نیچے زندگی گزاررہا ہے ۔اقوام متحدہ کے ادارے UNDP کے مطابق 47 بلین لوگ خوراک کی کمی کا شکارہے اگر میں یہ کہے تو غلط نہیں ہو گا کہ یہ تعداد بہت کم  دکھایا گیا ہے ۔ان میں یقیناًوہ سفید پوش لوگ شامل نہیں ہو نگے جو اپنے خود داری کے باعث بھوک سے چھپ کےتنہا لڑتےہیں۔بھوک ہی وہ سماجی مسٸلہ ہے جو تمام سماجی مساٸل کو تقویت دیتے ہیں ۔آٸے روز پیش ہونےوالےجراٸم کےواقعات کا شاخسانہ ہی بھوک کیوجہ سے ہی ہیں۔بھوک اور ہوس میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ پل بھر میں انسان کو حیوان اور پھر شیطان بنادیتا ہے۔ماہرین سماجیات کے مطابق تمام جملہ معاشرتی مساٸل کی بڑی وجہ بڑھتی ہوٸی بےروزگاری اورغربت ہے۔اس وقت اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی دولت کا95 فیصد 10 افراد کے ہاتھوں منجمد ہے جس کی وجہ سے غربت اور بھوک میں بڑی حدتک اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمارےملک عزیز پاکستان میں غربت کی شرح بڑھتے بڑھتے 40 فیصد تک پہنچ چکا ہے جس کی وجہ ہمارے منتخب نماٸندوں کے نااہلی ہے تو دوسری طرف ملکی قانونی نظام ناقص ہونےکی بڑی دلیل ہے۔اس سے نہ صرف ملکی دولت کی بندر بانٹ ہو رہی ہے تو دوسری طرف دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہو رہے ہیں۔جب تک منصفانہ دولت کی تقسیم نہیں ہو گی تب تک ملک میں انصاف کی حکمرانی نہیں ہو گی اور امن، انصاف اور معاشی وسماجی ترقی بہترین رہنماکے بغیر ناممکن ہے۔تو آٸے کیوں نہ ہم اپنے ووٹ کی طاقت کو حقدار تک پہنچا دیتےہے تاکہ غربت اور بھوک افلاس کا کوٸی شکار نہ رہے ۔

تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

طالب علم رہنما سوشل ورکر

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*