تازہ ترین

اکیسویں صدی اور گلگت بلتستان۔

آج جس دور میں ہم جی رہے ہیں یہ جدید ٹیکنا لوجی کا دور ہے، اور ٹیکنالوجی کی اہمیت سے کوئی باشعور شخص انکار نہیں کرسکتا، انسانی زندگی کا کوئی شعبہ اس ٹیکنالوجی سے خالی نہیں رہا، چاہے وہ تعلیم کا شعبہ ہو یا کھیل کا ، زراعت ہو یا صنعت و تجارت ، طب کا شعبہ ہو یا میدان جنگ ہو،لباس، کھانا، سفر ، سواری،رہن سہن غرضیکہ صبح بستر سے اٹھنے سے لے کر دوبارہ بستر پر جانے تک انسان ٹیکنالوجی میں گھرا ہے ۔ اس ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو تو بہت آسان بنا دیا ہے، لیکن گلگت بلتستان میں رہنے والے عوام دیگر بنیادی انسانی حقوق کی طرح اس ٹیکنالوجی مسلے کو لیکر کئی سالوں سے پریشان ہیں، مگرایک ادارے کی اجارہ داری ختم کرنے کیلئے کوئی بولنے والا نہیں ہے .اج یہ سن کے بہت خوشی ہوئی کہ ٹیکس کے مسئلے کے حل کے بعد اب گلگت بلتستان کے عوام 4جی کے لیے سات فروری تک کی مہلت دی تھی لیکن اس کے بعد بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوا اس لیے عوام نے 10 فروری سے باقاعدہ احتجاج کے طور پر بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے. اس سے پہلے ایک مرتبہ تھری اور فور جی سروس کو ٹیسٹ کے بعد گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہے اور کبھی یکم اگست کبھی چودہ اگست کو تھری اور فور جی سروس کے دوبارہ آغاز کی نوید سنا دی گئی لیکن وہ نوید ہی رہی ، ستمبر کے مہینے پھر افواہ چلی کہ چھ ستمبر کو یوم دفاع پاکستان کے موقع پر ایس سی او نیٹ صارفین کو تھری اور فور جی کا تحفہ دے گی تو کبھی نیا سال کا تحفہ کی امید پر لوگوں کا صبر کا امتحان لیا گیا. .اور لگتا ہے کہ اب یکم اپریل کی تاریخ کا اعلان کردیا جائے گا اور عوام خوشی خوشی یکم اپریل کا انتظار کر رہے ہو نگے ..کشمیر میں جب تھری اور فور جی سروس کی سہولت دی جا سکتی ہے تو پھر گلگت بلتستان میں رہنے والوں کا کیا قصور ہے ؟ اور جب سے کشمیر کی سیم میں یہ سہولت موجود ہے تب سے کشمیر کی سم گلگت بلتستان میں پانچ ہزار سے دس ہزار میں فروخت ہو رہی ہے. اس امتیازی سلوک کو بند کردیا جائے اور اگر یہ اس سروس کو فراہم کرنے میں ناکام ہیں تو دوسرے موبائل کمپنیوں کو موقع دیا جائے تاکہ عوام کو اس اذیت سے نجاد ملے۔عوام یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ یااجارہ داری ختم کرو یا صحیح سے کام کرو اور عوام تک جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی ممکن بناو یا پھر اپنا راستہ پکڑو۔

تحریر: علی جاوید

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*