تازہ ترین

قوم کا حقیقی سرمایہ۔

قومی حقیقی سرمایے کے بارے میں کوئی ایسا نظریہ نہیں جس پر تمام لوگوں کا اجماع ہو، بلکہ اس کے بارے میں لوگوں کے نظریے مختلف ہیں، بعض کے نذدیک قوم کا اصل سرمایہ ملک کی ثروت ہے ، کچھ کہتے ہیں قوم کا بنیادی سرمایہ عوامی جمعیت ہے، بعض اس بات کے قائل ہیں کہ قومی بزرگان اور عمر رسیدہ سفید ریش افراد ہی قوم کا سرمایہ ہیں- یہ نظریے جزئی طور پر تو درست ہوسکتے ہیں مگر کلی طور پر قابل قبول نہیں بلکہ ایک ادنی سی توجہ سے یہ معلوم ہوگا کہ کسی بهی قوم کا حقیقی اور اصلی سرمایہ اس کے جوان ہی ہیں- کوئی بهی ملک ظاہری طور پر مادی کتنی ہی ثروت سے مالا مال ہو اگر وہ اپنے جوانوں پر توجہ نہ دے تو جلد یادیر اس کی نابودی اور زوال یقینی ہے- اس کا برعکس جو ملک اپنے جوانوں کو سب سے ذیادہ اہمیت دے، ان پر سرمایہ کاری کرے، ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کی مادی ومعنوی ضروریات پر توجہ دے، ان کی تعلیمی اور فکری تربیت کا اہتمام کرے تو وہ ظاہری طور پر کمزور ہی کیوں نہ ہو بہت جلد ترقی اور پیشرفت کی چوٹی پر پہنچنا قطعی ہے- اب ہم اسی تناظر میں ذرا پاکستانی قوم کی موجودہ حالت پر نظر دوڑائیں تو انتہائی مایوس کن صورتحال ہمیں دکهائی دیتی ہے- اس ترقی یافتہ دور میں بهی پاکستانی قوم ضروریات اولیہ وضروریہ سے محروم ہے – عوام کو نہ پینے کے لئے صاف پانی میسر ہے اور نہ روشنی کے لئے بجلی دستیاب- انہیں نہ طبی امداد کی سہولیات مہیا ہیں اور نہ مکان روٹی اور لباس فراہم – فقر اور غربت سے بے چارے لوگ خودکشی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں- گرمیوں میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کتنے افراد گرمی کی شدت کا تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں – ہر سال پینے کا صاف پانی میسر نہ ہونے کے سبب بہت سارے افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں -قوم کے ذہین وفطین بچے فیس فورم اور کتابوں کے لئے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم کو خیر باد کرکے مختلف جگہوں پر کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور جو طلباء ہزاروں مسائل اور مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے پوری جدوجہد سے تعلیمی مراحل طے کرتے ہوئے فارغ التحصیل ہوجاتے ہیں وہ بهی پریشان اور مایوس حالت میں اپنے گهروں میں محصور ہونے پر مجبور دکهائی دیتے ہیں جس کی دو بڑی علت ہوتی ہیں ان کے پاس یا رشوت کے پیسے نہیں ہوتے یا ان کے پاس ٹهوس سفارش نہیں ہوتی جب کہ ہمارے اداروں میں بهرتی کا واحد معیار رشوت اور سفارش ہے اس کے بغیر تعلیم یافتہ افراد کو خواہ جتنے بهی باصلاحیت ہوں کہیں جگہ ملنا ممکن نہیں -اس کے علاوہ پاکستانی قوم بے شمار مسائل میں گرفتار ہے جن سے نجات پانے کا واحد راستہ نسل نو کو قومی حقیقی سرمایہ سمجهتے ہوئے ان پر توجہ مرکوز کرنا ہے، چونکہ کوئی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ پاکستانی عوام کو درپیش مسائل، تعلیم وتربیت سے تہی حکمران اشرافیہ طبقوں کا کیا دهرا ہے، ملک کے وزیراعظم سے لے کر چپراسی تک چور اور ڈاکو ہیں جو دونوں ہاتهوں سے ملک کی ثروت لوٹنے میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشیش کرتے رہتے ہیں تو عوام کا فقیرتر اور غریب تر ہونا فطری ہے ،آج وطن عزیز پاکستان میں پاکستانی قوم کی جان مال اور عزت وآبرو کے دشمن ہمارے خلاف خود ہمارے نوجوانوں کو ہی استعمال کررہے ہیں ، انہیں باقاعدگی سے دہشتگردی کی تربیت دے کر دہشت گرد بنارہے ہیں ،انسانیت کے خلاف کاموں میں جوانوں کی جوانی استعمال ہورہی ہے، فحشا ء ومنکرات میں نوجوانوں کی صلاحیتیں ضائع ہورہی ہیں ،جب تک ہم اپنے نوجوانوں کو قوم وملک کا حقیقی سرمایہ ہونے پر یقین کرتے ہوئے ان کی تربیت اور تعلیم کا وسیع پیمانے پر اہتمام وانتظام نہیں کریں گے موجودہ متنوع مسائل اور گوناگون مشکلات سے چھٹکارا پانا ممکن نہیں ۔ آپ پاکستان کی ان عظیم شخصیات کی زندگی وسیرت کا بغور مطالعہ کریں کہ جنہوں نے پاکستان کو دل وجان سے محبت رکھی ، ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر قوم اور ملک کی ترقی اور تکاملی کے لئے شب وروز انتھک محنت اور جدوجہد کی تو آپ کو معلوم ہوگا کہ انہوں نے سب سے ذیادہ نوجوان وجوانوں کو اہمیت دی، وہ جوانوں کو ہی حقیقی سرمایہ سمجھتے تھے ۔مثال کے طور پر بانی پاکستان حضرت قائد اعظم (رح) نوجوانوں کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے ان کی زیادہ تر امیدیں نوجوانوں ہی سے وابستہ تھیں اور وہ نوجوانوں کو ہی ملک و قوم کا حقیقی سرمایہ سمجھتے تھے۔انھوں نے ایک موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” پاکستان کو اپنے نوجوانوں بالخصوص طلباء پر فخر ہے جو ہمیشہ مشکل وقت میں آگے آگے رہتے ہیں طلباء مستقبل کے معمار ہیں ان کو چاہیے کہ اعلٰی تعلیم و تربیت حاصل کریں اور اپنی ذمہ داریوں کا پورا پورا احساس کریں ۔لکھنو میں خطاب کرتے ہوئے آپ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ” نوجوانوں! اپنی تنظیم کرو۔ یک جہتی اور مکمل اتحاد پیدا کرو اپنے آپ کو تربیت یافتہ اور مضبوط سپاہی بنا اپنے اندر اجتماعی جذبہ اور رفاقت کا احساس پیدا کرو اور ملک و قوم کے نصب العین کے لئے وفاداری سے کام کرو “۔ مارچ 1948ء کو ڈھاکہ میں قائد اعظم محمد علی جناح نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” میرے نوجوانوں! میں تمھاری طرف توقع سے دیکھتا ہوں کہ تم پاکستان کے حقیقی پاسبان اور معمار ہو۔ دوسروں کے آلہ کار مت بنو،ان کے بہکاوے میں مت آﺅ۔ اپنے اندر مکمل اتحاد اور جمیعت پیدا کرو اور اس کی مثال کر دو کہ جوان کیا کر سکتے ہیں “ 1)

۔علامہ اقبال
اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد

تحریر : محمد حسن جمالی
اسلامک اسکالر

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*