تازہ ترین

تعصب سے سوا ہو پاک دھرتی!!

سماج میں بھلائی اور بُرائی کا تصور ایک حقیقت ہے انسان ایک سماجی حیوان ہونے کے ناطے سماجی معمولات زندگی کا اہم حصہ ہے اور انسانی زندگی کا دارمدار ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہو کر فلاح کے لٸیے کام کرنے میں مضمر ہے۔ اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو قوموں کی ترقی کا راز ہم پر عیاں ہو جاتا ہے۔دوسری جنگ عظیم سے پہلے مغرب کی حالات کچھ ہم سے مختلف نہیں تھے وہ مختلف قسم کےتعصبات جن میں علاقائی ،قومی،لسانی اور مذہبی وغیرہ کے اسیر تھے جب انہوں نے ان تعصبات کو ختم کیا تو وہ دنیا میں ترقی کے منازل طے کرنے لگے۔جس طرح کل مغرب سماجی طورپر بیمار تھے أسی طرح سماجی بیماری کا جھکاو مشرق یعنی ہمارے معاشرے میں بڑی حد تک سرایت کر چکا ہے۔کھبی مذہب کی نام پر تعصب کا بازار گرم کیا جاتاہے تو کھبی لسانی ،مسلکی و علاقاٸی تعصب کا علم بڑے شوق سے اٹھایا جاتا ہے۔ ہم نفرت کو بغیر کسی ججھک کے پھیلانے کے لٸیے دوسرے کے ہمسر بن جاتےہیں یہ شعوری و غیر شعوری دونوں ہوسکتے ہیں۔ہم یہ سوچے بنا اپنی بات دوسرے تک پہنچانے کی کوشش کر لیتا ہے کہ اس کا سماجی اثرات کی حد کیاہو گی۔انسانی معاشرے کا علمیہ ہے چاہے وہ مشرق میں ہو یا مغرب ہم سب ایک انا کے غلام ہے جوتعصب کی پہلی سیڑھی بن کرعمل دیکھاتا جاتاہے۔جو بعد میں ایک بہت بڑا معاشرتی و سماجی لاعلاج مرض بن جاتاہے۔وہ مثال تو سنی بلکہ دیکھی بھی ہو گی کہ پانی کا قطرہ قطرہ مل کر سمندر بن جاتا ہے اور جب یہ پانی کے قطرے أپس میں مل کر دریا و سمندر بن جاتا ہے تو وہ راستے میں أنے والی ہرشے کو بہا کر لے جاتا ہے۔یہ قدرت کا بھی قانون ہے جو بوٸے گے وہی کاٹنے کو مل جاتا ہے۔اگر ہمارے ملک عزیز پاکستانی کی مثال لے لیا جاٸے تو یہ بات ہم سب کے لٸیے تکلیف کاباعث بن جاتا ہے کہ یہاں پر سماجی وملکی ترقی کا سب سے بڑا روگ مختلف قسم کے تعصبات کا ہونا ہے۔کہی پر مذہبی تعصب ہے تو کہی پر مسلکی رنجشیں دیکھنے کو ملتی ہے کہی پر نسلی تعصب کی بھینٹ چڑھتے سماج دکھاٸی دیتاہےتو کہی پر علاقاٸی وقومی درجہ بندی کے زریعے کے نفرت کا پرچار۔مگر لوگ پھر بھی ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزرا لیتے یے ۔دراصل یہ جو تعصبات کی ہواہے وہ مضنوعی ہے یہ مختلف قسم کے مفاداتی گروہوں کی پیدا کردہ ہے ورنہ یہ مختلف قسم کے گروہ پہلے بھی سماج میں امن و شانتی سےرہتے تھے۔مختلف قسم کے لوگ جس کو فشاری گروہ بھی کہا جاتاہے وہ مختلف قسم کے مفادات جس میں سیاسی و مالی دونوں ہوتے ہے کو حاصل کرنے کی خاطرعوام وسماج کومختلف طبقات میں تقسیم کر کے انتشار کے دلدل میں چھوڑ دیتےہیں مزے کی بات تو یہ ہوتی ہے دلدل میں پھنسےانسان دلدلی مٹی کو ہی ذرخیز مٹی سمجھنے لگتی ہے۔ورنہ اگر دیکھا جاٸےتو انسان فطرطً ترقی و خوشحالی کادلداہ ہوتا ہے۔

محبت ،امن،خوشحالی ،ترقی چاہتے ہم

تعصب سے سوا ہو پاک دھرتی چاہتےہم

اسی دعا کے ساتھ ہم سب کو ہر قسم کے تعصب سے پاک ہو کر مملکت پاکستانی کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما۔

تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

طالب علم رہنما سوشل ورکر

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*