تازہ ترین

فضاؤں کو مسخّر کرنے والی گلگت بلتستان کی پہلی خاتون کمرشل پائلٹ

اسلام آباد( خصوصی رپورٹ) پاکستانی معاشرے میں خواتین کے لیے خود کو منوانا اتنا آسان نہیں۔ لیکن اسی قدامت پسند معاشرے میں اب خواتین اپنی ہمت کے بَل پر ہر میدان میں آگے آ رہی ہیں۔ بائیس سالہ پاکستانی کمرشل پائلٹ ایمن عامر اس کی ایک روشن مثال ہیں۔
ایمن عامر کا تعلق پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے خوبصورت شہر سکردو سے ہے۔ ایمن کہتی ہیں کہ جہاں لوگ ایک گاڑی چلانے والی خاتون کو عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں وہاں جہاز اڑانے کے خواب کو پایہٴ تکمیل تک پہنچانا اتنا آسان نہیں تھا۔

ایمن بتاتی ہے کہ جب بچپن میں اسکول کی طرف سے ایئر فورس بیس کا دورہ کرایا جاتا تھا تو وہ اکثر سوچتی تھیں کہ ایک دن شاید وہ بھی جہاز اڑا سکیں گی۔ وہیں سے اُن کے دل میں فضاؤں کو تسخیر کرنے کی خواہش شدید ہوتی گئی۔

ایمن نے بتایا کہ جیسے جیسے وہ بڑی ہوتی گئیں آسمانوں کو چھونے کی خواہش جنون بنتی گئی۔ آخر انہوں نے یہ جان لیا کہ وہ مستقبل میں صرف پائلٹ بننا چاہتی ہیں۔ وہ پاکستان کی ائیر فورس میں بطور فائٹر پائلٹ شامل ہونا چاہتی تھیں لیکن جس سال انہوں نے انٹر میڈیٹ کیا اُس سال پاکستانی فضائیہ میں انٹری ٹیسٹ صرف مرد حضرات کے لیے متعارف کرائے گئے تھے۔ ایمن کے بقول اِس بات نے انہیں بہت مایوس کیا اور انہیں پہلی بار محسوس ہوا کہ شاید وہ اس لیے جہاز نہیں اڑا پائیں گی کیونکہ وہ ایک لڑکی ہیں۔ ایمن کی والدہ انہیں ڈاکٹر بنانا چاہتی تھیں۔
ایمن بتاتی ہیں،’’ مجھ میں فضاؤں کو تسخیر کرنے کی لگن اتنی زیادہ تھی کہ میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ کیا وہ مجھے کمرشل پائلٹ کی ٹریننگ دلوا سکتے ہیں؟ نجی طور پر پائلٹ بننا بہت منہگا ہوتا ہے اور میں اپنے والدین پر کوئی بوجھ بھی نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔‘‘

ایمن کے والد نے اُن کا ساتھ دیا اور وہ اپنا خواب پورا کرنے جون سن دو ہزار پندرہ میں اسلام آباد آ گئیں جہاں انہوں نے اسلام آباد فلائنگ کلب میں داخلہ لے لیا۔ اور آج ایمن ایک کمرشل پائلٹ ہیں۔ وہ گلگت بلتستان کے علاقے سے تعلق رکھنے والی پہلی بلتی خاتون پائلٹ بھی ہیں۔

ایمن کہتی ہیں کہ اُن کے علاقے کے لوگوں کے لیے ایک لڑکی کا جہاز اڑانا بہت عجیب بات تھی کیونکہ انہوں نے پہلے کبھی یہ نہیں دیکھا تھا۔

ایمن کے لیے لوگوں کو یہ سمجھانا ایک بڑا چیلنج تھا کہ فلائنگ کا شعبہ لڑکیوں کے لیے بُرا شعبہ نہیں ہے۔ آغاز میں تو ایمن کے علاقے کے لوگوں نے اُن کے پائلٹ بننے کے فیصلے کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا لیکن اب وہ اس بات کو قبول کر رہے ہیں۔

ایمن کی رائے میں کام کرنے کی جگہوں پر بھی ایک عورت کا دوسری عورت کو قبول کرنا اور پھر اسے سپورٹ کرنا بہت ضروری ہے جو کہ بدقسمتی سے پاکستانی معاشرے میں بھی کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔

ایمن کہتی ہیں کہ پاکستانی معاشرے میں آج بھی عملی طور پر مردوں کی اجارہ داری ہے اور پاکستان میں کئی پسماندہ علاقے ایسے ہیں جہاں بچیوں کے اسکول جانے کو سماجی اقدار کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ یہ معاشرتی رویہ ملک کی ترقی اور بہتری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

ایمن نے لڑکیوں کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہا،’’ لوگوں کی باتوں پر توجہ مت دیں۔ اُن کی باتوں کا اثر بھی قبول مت کریں۔ صرف اپنے والدین کی بات سنیں اور وہ کر گزریں جو آپ کرنا چاہتی ہیں۔‘‘

ایمن کا یہ بھی کہنا تھا کہ زندگی میں ہمیشہ بڑے خواب دیکھنے چاہئیں اور اونچے مقاصد سامنے رکھنے چاہئیں کیونکہ بڑا سوچے بغیر بڑے کام کرنا ممکن نہیں۔

ایمن کے بقول اگر ایک عورت ایک نئی زندگی تخلیق کر سکتی ہے تو وہ دنیا پر حکومت بھی کر سکتی ہے۔ بائیس سالہ کمرشل پائلٹ ایمن نے مزید کہتی ہے کہ دنیا جلد ہی عورت کی قدر وقیمت جان لے گی اور بالخصوص پاکستان میں یہ بہت جلد ہو گا۔

ایمن کی رائے میں اگر کسی خاتون کے اپنے آپ کو منوانے کی راہ میں کوئی حائل ہے تو وہ خود اُس کی اپنی ذات ہی ہے۔ ایمن کے بقول،’’ آپ کو کوئی اپنے خوابوں کی تکمیل سے نہیں روک سکتا۔ ہر وہ خاتون جو اپنی قدر جانتی ہے، معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔‘‘

  •  
  • 1.2K
  •  
  •  
  •  
  •  
    1.2K
    Shares

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*