تازہ ترین

ایل جی آر ڈی کے ترقیاتی فنڈز میں کرپشن کی داستان۔

محترم قارئین کرپشن کرنے والوں کو جب کسی ملک میں دستور ساز اداروں کے ذریعے تحفظ فراہم کرنا شروع کریں توکشکول اُس ملک کا مقدر بن جاتی ہے۔ اور گلگت بلتستان جیسے معاشرے میں جہاں پہلے ہی ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہیں ،یہاں سرکاری اداروں میں کرپشن اور آفسر شاہی نے اس خطے کو مسائلستان بنایا ہوا ہے۔ مگر بدقسمتی سے کرپشن کے خلاف کے کاروائی کے ذمہ داران جب خود براہ راست کرپشن اور اقرباء پروری میں ملوث ہو تو ماتحت ادارے اور اُن اداروں میں کام کرنے والے افسران کرپشن کو ڈیوٹی کا حصہ سمجھ کر سرانجام دیتے ہیں ۔ ویسے بھی گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت ایل جی آر ڈی سکرٹیریز کی رحم کرم پر چل رہا ہے یوں ایل جی آر بھی ایک طرح سے محکمہ پی ڈبیلو ڈی کی طرح کچھ افراد نے اکھاڑ خانہ بنایا ہوا ہے۔ میرا تعلق ضلع کھرمنگ یونین کونسل مہدی آباد سے ہے اور یونین کونسل مہدی آباد میں مہدی آباد ٹاون ،غاسنگ ، آخونپہ اور منٹھوکھا آتا ہے۔ مہدی آباد کئی محلوں پر مشتمل ہے بلکل اسی طرح غاسنگ ،آخونپہ اور منٹھوکھا بھی محلہ جات پر مشتمل ہیں اس یوسی کے کُل سات ممبران ہیں جس میں چار مہدی آباد اور تین غاسنگ منٹھوکھا کے حصے میں آتا ہے۔یہاں لوکل گورنمنٹ فنڈ ہو یا دیگر فنڈ ہمیشہ سے تعلقات اور کمیشن کی بنیاد پر تقسیم ہوتے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ علاقہ ترقیاتی کاموں کے حوالے سے قبرستان کا منظر پیش کررہا ہے ۔یہاں پانی کی کٹاو سے ہر سال عوام کو اپنی زخیز زمینوں اور درختوں سے ہاتھ دوھونا پڑتا ہے مگر اس سلسلے کی بچاو کیلئے جب تک سفارش اور کمیشن یا سیاسی اثررسوخ نہ ہو کام ہونا مشکل بلکل ناممکن ہے۔ یونین کونسل مہدی آباد کے نام پر منظور ہونے 50لاکھ سے زائد بجٹ اور اُس بجٹ میں غاسنگ ،آخونپہ ،اور منٹھوکھا کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے خبروں کے بعد عمائدین علاقہ نے کئی بار میٹنگ کرکے ادارے کے ذمہ داران تک اپنی فریاد پونچائے لیکن افسر شاہی کے اس عالم میں عام آدمی کی شنوائی ایک خواب سے کم نہیں۔ متعلقہ افسران کی جانب سے مسلسل ٹال مٹول کے بعد اہل علاقہ نے ایک آخری اُمید کے طور پر میڈیا کا سہارا لینے کی کوشش کی اور ایک پریس ریلیز کے ذریعے مورخہ 23دسمبر کو روزنامہ بادشمال، اوصاف،محاسب ،رہبر اور آن نیوز سائٹ تحریر میں اس مسلے کو اقتدار کے ایوانوں تک پونچانے کی کوشش کی اور راقم نے ذاتی طور پر اُس وقت کے سیکرٹری ایل جی آر ڈی آصف اللہ خان کو بذریعہ واٹس ایپ تمام اخبارات کی کٹ پیس انبکس کیا تاکہ بروقت کاروائی ممکن ہوسکے۔ لیکن بدقسمی اس قوم کی جو عوام کے پیسوں پر سرکاری عہدوں پر جمان ہوتے ہیں اور خود کو اُس ادارے کا خدا سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ اس دوران عمائدین علاقہ نے کئی بار متعلقہ ایکسن جس کا تعلق بھی مہدی آباد سے ملاقاتیں کی مگر سوائے وعدوں کے کوئی عملی کام نہیں ہوا ۔اور آخر میں ایکٹنگ ایکسن مظاہر نے یہ کہہ کر عمائدین علاقہ کو خاموش کرایا کہ آپ لوگوں نے اس حوالے سے اخبارات میں خبر دی ہے لہذا مزید مجھ سے کسی قسم کی کوئی اُمید نہ رکھیں۔یعنی گلگت بلتستان میں ایک معمولی افسر پر بھی اخبارات کے خبر کا کوئی اثر نہیں ہوتا ایسے میں بڑے مگرمچھ کا کیا حال ہوگا۔ سُننے میں یہ بھی آیا ہے کہ موصوف ایکٹنگ ایکسن بغیر کسی ٹیسٹ انٹرویوکے سیاسی اثررسوخ کی بنیاد پر یہاں تک پونچا ہے یہی وجہ ہے جب کوئی سیاسی اثررسوخ کی بنیاد پر عہدے حاصل کرتے ہیں تو عوام اور میڈیا کا اُن کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ یوں 90لاکھ کے پروجیکٹ میں غاسنگ منٹھوکھا کو شوربا دکھا کر مہدی آباد کے گلی کوچوں میں بچھایا جارہا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ مہدی آباد کے ٹاون ایریا کے ہر محلے کو الگ الگ گاوں کے نام پر اندراج کرکے ترقیاتی اسکیموں کی تقسیم کی گئی جبکہ موضوع غاسنگ کو دو یونین کونسل ممبر کے ساتھ چار بڑے محلوں پر مشتمل ہونے کے باوجود صرف ایک گاوں اسی طرح موضع منٹھوکھا ایک یونین کونسل ممبر کے ساتھ دو بڑے گاوں پر مشتمل ہونے باجود صرف ایک گاوں کے طور پر اسکیم کے ران کی گوشت کا بُو سونگھایا ۔ جبکہ موضو ع منٹھوکھا جوکہ ندی کنارے آباد ہونے کی وجہ سے ہرسال پانی کے بہاو کی وجہ سے عوامی املاک زیر آب آتے ہیں مگر سیاسی اثررسوخ اورخوش آمد نہ ہونے کی وجہ سے منٹھوکھا ندی کنارے کچھ مقامات کو جہاں سے پانی کا بہاو ہر سال عوامی زمینوں کی طرف آتے کو علاقہ غیر کا درجہ دیا ہوا ہے۔ اس تمام صورت حال کے بعد راقم کو جب علاقے عمائدین کی طرف سے پیغام ملا تو اپنے ذرائع کو استعمال کرکے ایل جی آر ڈی پروجیکٹ لسٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تو معلو م ہوا کہ غاسنگ منٹھوکھا کو بلکل ہی دیوار سے لگایا گیا ہے اور تمام فنڈز کو نہ صرف مہدی آباد کے ہر محلے میں تقسیم کیا ہے بلکہ ایک خود ساختہ پریس کلب جسکا وجود ہی یکطرفہ ہے کھرمنگ کے کسی صحافی کی تائید حاصل نہیں اُ س کیلئے ایک کثیر فنڈ مختص کیا ہے اسی طرح موج ادب کے نام سے ایک گمنام رسالے کو پچھلے سال کی طرح اس سال بھی کثیر رقم مختص کیا ہے۔ اُس رسالے کا چیف ایڈیٹر کیلئے ایک نامعلوم شخص کا نام رکھا ہے لیکن اُس رسالے کا اصل مالک محکمہ پی ڈبیلو ڈی میں باقاعدہ سرکاری ملازمت کرتے ہیں اور رسالے کے تمام معاملات کو وہی چلاتے ہیں جو کہ صحافت کے ساتھ ذیادتی ہے۔ اسی طرح یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مقامی پرنٹ میڈیا رپورٹر کو کیمرہ خریدے کیلئے بھی فنڈز مختص کیا ہے جسکا تفصیل ابھی تک راقم نے پونچا نہیں ہے۔ظلم اور ذیادتی کی اس صورت حال کو دیکھ ایک مرتبہ پھر سیکرٹیری ایل جی آر ڈی سے رابطہ کرنے کا قصد کرکے موبائل نمبر03461110494پر ڈائل کیا سلام دعا کے یہ کنفرم کیا کہ موصوف ہی سیکرٹیری ایل جی آر ڈی ہے۔ آگے سے بڑے ہی شاطرانہ انداز میں ہاں کا جواب ملا تو سمجھ گیا کہ موصوف بھی افسر شاہی ٹولے کا سرغنہ ہے جو عہدے کو بادشاہت سمجھتے ہیں۔ راقم نے اپنا تعارف کرنے کے بعد بڑے ہی مہذبانہ انداز میں اپنا مدعا اُن سامنے رکھنے کی کوشش کی تو پہلے ہی کہہ دیا کہ بلدیاتی فنڈز کی تقسیم میں ٹرانسپرنسی ممکن نہیں ہے مجھے خبر واٹس ایپ کریں اور اپنا کام کریں، میں سمجھ گیا کہ یہاں بھی عوام کو کوئی سُننے والا نہیں ایشو سمجھانے کیلئے نرم انداز میں تکرارکیا تو موصوف کا کہنا تھا کہ میں نے یہاں کوئی عدالت نہیں لگایا ہوا ہے کرکے فون بند کردیا۔لہجہ مقامی لگتا تھا مگرقومی فکر اور احساس ذمہ داری سے بلکل ہی فارغ۔ افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ وزیر اعلیٰ حفیظ روزانہ اخبارات میں کرپشن ختم کرنے کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہوتے ہیں جبکہ دوسری طرف عوام کے ساتھ سیکرٹیرز کا یہ رویہ اس بات کی گواہی ہے کہ جب خود وزیر اعلیٰ اپنے ٹھکیدار بھائی کو سرکاری میٹینگوں میں بٹھا کر فیصلے مسلط کرتے ہیں تو سرکاری ملازمین تو من مانی کرے گا ہی ۔ تمام صورت حال کے بعد بلاخر نااُمید ہوکر سوشل میڈیا پر ہی دل کا بڑاس نکالنے کا فیصلہ کیا تو مہدی آباد کے کئی اہم شخصیات نے رابطہ کیا اور اپنے ہی علاقے کے سرکاری آفیسر کی انصافی پر ہمارے تمام شکوں کی تائید کی۔ کچھ ذمہ داران نے یہاں تک کہا کہ موصوف ایکٹنگ ایکسن کا والد صاحب زندگی بھر سیاسی طور پر مہد ی آباد مخالف سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ہیں آج اگر بیٹا کسی اور علاقے کا حق غصب کرکے مہدی آباد کو آباد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ احسان نہیں بلکہ مہدی کی پاوں میں کلہاڑی ہے۔ کیونکہ مہدی آباد کے حوالے سے پہلے ہی اہل علاقہ بدگمانیوں کے شکار ہیں۔ دوسری طرف مقامی پرنٹ میڈیا کی طرف سے خلاف توقع بلتستان کے سنئیرانسٹگیٹیوجرنلسٹ قاسم بٹ صاحب نے بھی اس معاملے کی چھان بین کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ رات گئے راقم نے موصوف ایکسن مظاہر نے بھی موبائل کا رابطہ تو موصوف اپنے کہے ہوئے باتوں سے مُکر گئے اور اُنکا یہ کہنا تھا کہ ہم نے عوامی مطالبات کو سامنے رکھ کر فنڈز کی تقسیم کو یقینی بنایا ہے اُنہوں نے باتیں بڑی اچھی کی لیکن حقیقت سے دور کا بھی رشتہ نہیں تھا کیونکہ اب سب کچھ فائنل ہوگیا ہے اس کثیر فنڈ کو اصولی طور سات یونین کونسل کے ممبران میں تقسیم ہونا چاہے تھا مگر ایسا نہیں کیا بلکہ ہڈی دکھا کر گوشت کھا گئے اور صفائیاں دینے میں عوامی مسائل کا حل نہیں۔ لہذا اہلیان غاسنگ منٹھوکھا نے وزیر اعلی گلگت بلتستان چیف سیکرٹیری اور ڈی سی کھرمنگ سے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داران کے خلاف قانونی کاروائی کریں اور اس فنڈ ز کی تقسیم کیلئے علاقے چند مفاد پرستوں کے علاو معاشرتی درد رکھنے والوں سے مشاورت کرکے یا کسی غیر سرکاری ادارے کے ذریعے سروے کراکر اس کثیر رقم کو چند افراد کی جیب میں جانے سے بچائیں اور اس فنڈ کو یونین کونسل ممبران حساب سے برابر تقسیم کریں۔

تحریر: شیر علی انجم

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*