تازہ ترین

عظیم ہستی ماں تجھے سلام!!!

آج دنیا کی اس عظیم ہستی کے بارے میں قلم اٹھانے کی کوشش کر رہا ہوں جو دنیا انسانیت کے لئیے محبت کا عملی مثال ہیے.میرے محترم قارئین سے معذرت اگر میں اس عظیم ہستی کے بارے میں لکھنے کے دوران حق ادا نہ کر پاوّں تو کیونکہ اس عظیم ہستی کے بارے میں قلم کشائی اوران کی منزلیت کا احاطہ مجھ جیسے حقیر بندے کی بس کی بات نہیں .میری فکر اتنی وسیع نہیں ہیے کہ میں اس عظیم ہستی کے بارے قلم اٹھانے کی جسارت کروں چونکہ ماں کے بارے میں لکھنا سمندر کو کوزے میں بند کرانے کے مترادف ہیے .اس لیئے اسے کالم نہیں سمجھیے بلکہ سلام عقیدت و محبت کی ایک چھوٹی سی کاوش پر اکتفا کرئیں.ورنہ میری ہلاکت یقینی ہیے .بلاشبہ دنیا میں ہر انسان کی محبت کا صلہ مل سکتی ہیے لیکن ماں کی محبت کا صلہ زندگی بھر ادا نہیں کر سکتے  .اگر ماں کی محبت کا معیار جانچنا ہیے تو خداوندا کے اس فرمان سے لے لو جس میں رب کریم فرماتا ہیے  اے میرے مخلوق میری محبت کا اندازہ لگانا ہیے تو اپنی ماں کی محبت دیکھ میں تجھ سے تیری ماں سے ستر مرتبہ سے ذیادہ محبت کرتا ہوں.اس سے اندازہ ہوتا ہیے کہ دنیا میں محبت کا اگر کوئی چشمہ بہتا ہیے تو وہ ماں کی محبت ہیے.جب بچہ تھک کر گھر پہنچتا ہیے اور ماں کی آغوش میں سر رکھ لیتا ہیے تو آرام سے سو جاتا ہیے. دوستو ماں کی محبت کا دنیا میں کوئی نعم البدل نہیں ہوتا ہیے.وہ ہر حال میں بچوں کی خوشی کے لئیے اپنی خوشی قربان کر دیتا ہیے.ماں کی محبت و دعا ایک قصاب کوحضرت موسیٰ علیہ اسلام کا جنت کا ساتھی بنا دیتا ہیے .کہتے ہیے جن کی ماں ذندہ ہوتی ہیے ان کو دعا کی ضرورت نہیں ہوتی ہیے.کیونکہ ماں ہی دعا کا اعلیٰ مثال ہیے.میں نے شقی القلب عورتوں کو بھی معاشرے میں دیکھے ہیے لیکن سنو جب اولاد پر کوئی مصیبت پڑی تو میں نے انہیں دریا کی طرح آنسو بہاتے دیکھا ہیے.ماں ماں ہوتی ہیے چاہیے وہ کہیں پر بھی ہو .چاہیے جونسا قبیلے اور نسل کا ہو میں نے انہیں اولاد کے لئیے تڑپتے دیکھا ہیے میں نے انہیں اولاد کے لئیے روتے دیکھا ہیے میں نے انہیں اولاد کے لئیے بھوکے پیٹ دیکھا ہیے.میں نے ماں کی محبت سے بڑھ کر کوئی اور دنیا کی محبت نہیں دیکھی.ساری رات جاگ جاگ کر گزارتی ماں صرف اس لئیے اولاد کے لئیے باعث سکوں ملے لیکن جب بوڑھاپے کو پہنچ جاتی ہیے تب میں نے اکثر ان کو بے بس و لاچار دیکھے .میں نے کہی ماوں کو اولڈ ہوم میں دیکھا ہیے تو کہی ماوں کو بھیگ مانگتے سڑکوں کے کناروں پر بھی دیکھے ہیں.میں نے بہوں اور اولادوں کے ہاتھوں ماں جیسی عظیم ہستی( آہ لکھتے ہوئے سینے میں درد سا محسوس ہونے لگا ہیے)کو پیٹتے بھی دیکھا ہیے .میں نے ماڈرن زمانے کی ایک دن کی مدر ڈے بھی دیکھا ہیے جس میں اولاد اپنے ماں کے نام دنیا میں اس عظیم ہستی کو تماشا بنا لیتے ہیں .میرا سلام عقیدت ہو میری ان ماوں کو جنہوں نے اولاد کی خوشی کے لئیے سب کچھ سہے.ماوں کو میں نے بڑے سے بڑے شکوے کرتے سنے ہیے لیکن بددعا دیتے نہیں .دوستو یہاں پر ماں کے بارے میں لکھنے کا مقصد ان کے عظیم رتبے کو بیان کرنا ہی نہیں بلکہ ہماری معاشرتی مجموعی بے حسی کو آپ تمام تک پہنچانا ہیے.ورنہ اوپر کے چند سطور میں راقم نے اپنی قابلیت کا اظہار کر لیا تھا.آج ہمارے معاشرے پر نظر ڈالا جائے تو اولاد کا ماں باپ کے ساتھ رکھا جانے والا سلوک بلکل بھی اعتدالی نہیں ہیے.ماں باپ کو چھوڑ کر اپنے فیملی کے ساتھ الگ ریائش اختیار کیا جا رہا ہیے.والدین کی وہ عزت ہمارے معاشرے میں اب نہیں رہا جو ہمارے اباواجداد کے زمانے میں رائج تھا .آج کل کے تعلیم یافتہ دور میں ہم بلکل بھی بے حس ہو چکے ہیں اب وہ واقعات سنے کو مل رہیے ہیے جو ہماری سرزمین کے نے کھبی نہیں دیکھا  اور سناتھا .وقت بڑا ظالم ہوتا ہیے یہ کسی کو نہیں بخشتا بس باری باری کی بات ہیے اس سے آگے بیان نہیں کرونگا سب قارئین عقلند ہیے.اسی دعا کے ساتھ تمنائے دل لئیے رخصت چاہتا ہوں خدا ہمیں  اپنے اپنےوالدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں

تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

طالب علم رہنما،سوشل ورکر

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*