تازہ ترین

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا گلگت بلتستان میں منسوخ شدہ ٹیکس اڈاپٹیشن ایکٹ سے لا تعلقی کا اظہار

سکردو(پ،ر)محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن گلگت بلتستان نے حالیہ دنوں جی بی کونسل سے منسوخ ہونے والا ٹیکس اڈاپٹیشن ایکٹ سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے آفیسر ںاصر علی کا کہنا تھآ کہ اڈاپٹیشن ایکٹ 2012 سےمحکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا کو ئی تعلق نہیں ہے۔ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا محکمہ گاڑیوں کی رجسٹریشن ، سالانہ رینول فیس ، مسا فر گاڑیوں کے لیئے کرایہ نامہ ایشو کرنا اور اس پے عمل درامد کرانے سمیت مسافر گاڑیوں کی فیزیکل فٹنس چیک کرکے سرٹیفکٹ اور روٹ پرمٹ ایشو کرانا ہے۔ یہ محکمہ گلگت بلتستان سیلف گورنینس اینڈ ایمپاورمنٹ آرڈر 2009 کے تحت وجود میں آیا ہے ۔ جی بی کونسل کی نافذ کردہ پراپرٹی ٹیکسوں سے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا کو ئی تعلق نہیں ہے۔علاوہ ازیں چوری،ٹمپرڈ ،اور مشکوک گاڑیوں کو پکٹرنے کے لیئے صوبائی حکومت نے ملک کے دیگر صوبوں کے طرز پر قانون پاس کیا ہے۔ جس کا نام گلگت بلتستان سیزر اینڈ ڈسپوزل آف موٹر وہیکل رولز 2017 ہے۔ اس قانون کے تحت ملک کے دوسرے صوبوں کی طرح گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں غیر قانونی گاڑیوں کے خلاف آپریشن چل رہا ہے اور یہ آپریشن بلتستان کے چاروں اضلاع میں بھی جاری رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہو رہی ہے البتہ پہلے سے رجسڑد گاڑیوں کی سالا نہ رینیول ہوتی رہیے گی ۔اس کے علاوہ فینسی اور غیر نمونہ نمبر پلیٹ لگانے والی گاڑیوں کے خلاف بھی کاروائی جاری رہے گی۔ اور زائد کرایہ لینے والے ٹراسپورٹروں کے سا تھ آہینی ہاتھوں سے نمٹا جاےگا۔ اس سلسلے میں محکمے میں افرادی قوت کو بڑھانے کے لیئے عملی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ اور مختلف جگہوں پر چیک پوسٹیں بھی قائم کی جا رہی ہیں جہاں پر روزانہ کی بنیاد پر گاڑیوں کی چیکنگ ہو گی جس سے زائد کرایہ لینے والی گاڑیاں اور فیزیکل فیٹنس سرٹیفیکٹ نہ لینے والی گاڑیاں بھی آسانی سے قانون کی گرفت میں ائیں گی۔
انکا مزید کنہا تھا کہ علاقے کے غریب عوام کے وسیع تر مفاد میں محکمہ ایکسائز کی طرف سے جاری کردہ کرایہ نامہ پر عمل درآمد اور ان کی جان و مال کی حفاظت کے لیئے مسافر گاڑیوں کو فیزیکل فیٹنس سرٹیفیکٹ کے بغیر چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*