تازہ ترین

امریکہ نے ایک بار پھر پاکستان سےڈومور کا مطالبہ کردیا۔

واشنگٹن (آئی این پی )امریکہ نے کہا ہے کہ وہ حافظ سعید کو دہشت گرد سمجھتا ہے، جو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کا ایک حصہ ہیں، حکومت پاکستان نے حافظ سعید کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا، ہم نے پاکستانی حکومت سے اپنے تحفظات اور تشویش واضح طور پر بیان کر دیے ہیں، اس شخص کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئے ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے حافظ سعید کو1267 فہرست میں شامل کر رکھا ہے، جو القاعدہ پر تعزیرات کی کمیٹی ہے، حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات میں مشکل وقت ضرور آیا لیکن توقع ہے کہ دہشت گردی کے معاملات کے حل کے لیے پاکستان زیادہ کام کرے گا، یہ ایسی بات ہے جس پر ہم ہمیشہ بالکل واضح رہے ہیں۔ گزشتہ روز اخباری بریفنگ میں ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ہیدر نوئرٹ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ 2008 کے ممبئی حملوں کا سرغنہ ہے، جس میں متعدد افراد ہلاک ہوئے، جن میں امریکی بھی شامل ہیں۔انھوں نے کہا کہ ایسی رپورٹوں پر نظر پڑی ہے جن میں بتایا گیا کہ حکومت پاکستان نے حافظ سعید کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا۔ترجمان نے کہا کہ ہم نے پاکستانی حکومت سے اپنے تحفظات اور تشویش واضح طور پر بیان کر دیے ہیں۔ ہمارے خیال میں اِس فرد کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہونی چاہیئے۔نوئرٹ نے کہا کہ زیادہ دِن نہیں گزرے، جب پاکستانی حکومت نے انھیں نظربندی سے رہا کر دیا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کے خلاف قانون کی عمل داری کی مکمل حدود کے تحت مقدمہ چلایا جانا چاہیئے۔انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے انھیں 1267 فہرست میں شامل کر رکھا ہے، جو القاعدہ پر تعزیرات کی کمیٹی ہے، چونکہ وہ لشکر طیبہ سے منسلک ہیں، جسے غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے، میں لوگوں کی یاددہانی کے لیے بتائیں گی کہ یہ کون شخص ہیں، اور یہ بات واضح کروں کہ ہم نے حکومتِ پاکستان کو اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات میں مشکل وقت ضرور آیا ہے۔ ترجمان نے اس توقع کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے معاملات کے حل کے لیے پاکستان زیادہ کام کرے گا۔ ترجمان نے کہاکہ یہ ایسی بات ہے جس پر ہم ہمیشہ بالکل واضح رہے ہیں۔ آپ کو پتا ہے کہ کچھ ہفتے قبل ہم نے پاکستان کے کچھ سکیورٹی فنڈ روکنے کا اعلان کیا تھا۔واضح رہے کہ 2012 میں امریکہ نے حافظ سعید کو انصاف کے کٹہرے تک پہنچانے کے لیے اطلاعات کی فراہمی پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام بھی مقرر کیا تھا

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*