تازہ ترین

یہ دلاور نہیں ہے ،،، تحریر گل زہرا رضوی

یہ دلاور عباس ہے (بلکہ تھا) ۔

اسکا بھی وہی تعارف ہے جو ایسے دوسرے طلباء کا ہوتا ہے : وہ مسافر تھا ، طالب علم تھا ، والدین کا اکلوتا بیٹا تھا ، آنکھوں میں مستقبل کے خواب سجائے پڑھنے گلگت بلتستان سے لاہور آیا تھا ، اسے تخت لاہور میں وحشیانہ تشدد کیبعد مار دیا گیا ، ایف آئی آر میں نامزد ملزمان آزاد ہیں کہ پولیس پر مقامی نونی ایم این اے کا دبائو ہے ۔

ایسے وحشتناک واقعات اب اتنے تسلسل سے ہونے لگے ہیں کہ تعزیت کے لئے الفاظ کم ہو گئے ہیں ۔ یہ کیسا معاشرہ ہو چکا ہے ؟ ہم کیا بنتے جا رہے ہیں ؟ انسانیت ، ہمدردی ، انصاف کہاں ملتے ہیں ؟ کبھی کوئی ہجوم مشال خان کو پتھرائو کر کے مار دیتا ہے تو کبھی کوئی مشتعل کھلاڑیوں کا ہجوم دلاور عباس کو تشدد کر کے ختم کر دیتا ہے ۔ کھلاڑی ، وہ جنکے اندر پوزیٹو توانائی بھری ہونی چاہئے ، وہ جو صحتمند معاشرہ تشکیل دیتے ہیں ، وہ جو بے فکرے کھلنڈرے ہوتے ہیں ان کھلاڑیوں نے ایک جوان مسافر طالبعلم کو زندگی سے محروم کر دیا ۔

اس سے بھی زیادہ وحشتناک ریاستی رد عمل ہے جسے عوام نہیں اپنے کالعدم اثاثے عزیز ہیں ۔ جب کھلاڑیوں کا ہجوم دلاور عباس کو مار رہا تھا تب ریاستی کارندے کالعدم جماعتوں کیساتھ ایوان_صدر کے گرم کمرے میں پیغام پاکستان کانفرنس میں مصروف تھے ۔ ملک کے اہم ترین شہر میں ایک بیگناہ انسان جان سے چلا گیا اور کسی حکومتی کارندے نے ایک مذمتی بیان تک نہ دیا ۔

گلگت بلتستان جس نے پہلے ہی سوائے محرومیوں کے اور کچھ نہیں دیکھا ، جو پہلے ہی بنیادی وسائل سے محروم ہے ، جسکی کسی قومی ادارے میں کوئی نمائندگی نہیں ، جسکے طلباء بالخصوص پنجاب میں شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں ، ریاست کم سے کم اسی معاملے کو سنجیدگی سے لے ، دلاور عباس کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے تک لائے تاکہ گلگت بلتستان کے لوگ خوش نہیں تو کم سے کم مطمئن تو ہو جائیں ۔ کئی دنوں تک گلگت بلتستان میں ٹیکس ایشو اور بجلی کا بحران رہا لیکن کسی میڈیا گروپ نے 20 لاکھ آبادی کے مسئلے کو درخورد اعتنا نہ جانا ۔ اب کم سے کم اتنا تو انصاف ہو کہ اس نوجوان طالب علم کے قتل پر نون لیگ ہوش کے ناخن لے اور اپنے پالے ہوئے ایم این ایز جو بپھرے کبھی قصور میں دندناتے ہیں اور کبھی لاہور میں ، کو نکیل ڈالے ۔

اور اگر (حسب_توقع) حکومتی کارندے اس واقعے پر روایتی نظر اندازی دکھاتے ہیں تو کم سے کم ڈاکٹر طاہر القادری اور دیگر سیاسی جماعتیں اس مظلوم مسافر کیلئے بھی ماڈل ٹائون شہداء کیطرح آواز اٹھائیں ۔ ظلم ، ظلم ہے خواہ کسی قوم قبیلے کیساتھ ہو ۔ اگر آپ مشال خان کا غم محسوس کرتے ہیں لیکن دلاور عباس کیلئے خاموش ہیں تو آپ منصف نہیں ۔ اسیطرح اگر آپ صرف دلاور عباس کیلئے آواز اٹھاتے ہیں لیکن دوسرے مظلومین کیلئے نہیں تب بھی آپ منصف نہیں ۔

  •  
  • 249
  •  
  •  
  •  
  •  
    249
    Shares

About admin

2 comments

  1. محمدایوب

    سلام ماشاءالله بهت هی اچها مطالب کو تحریر کیا

  2. محمدایوب

    سلام ما شاءالله بهت اچها مطالب تحریر فرمایا

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*