تازہ ترین

بلتی(بلتستان،لداخ،تبت) کا سالانہ کیلنڈر، جس کے بارے میں شاید ہی کسی کو علم ہو۔

سکردو(ہلچنگرا رپورٹ) بلتی کیلنڈر 127 سال قبل مسیح پہلا تبتی بادشاہ نیا کھری ژھین پو کی تاجپوشی سے شروع ھوتا ہے تبت کا پہلا بادشاہ نیاکھری ژھین پو کا تخت ہمیشہ لوگوں کے کاندھوں پر ہوتا تھا لوگ اس سے اتنی محبت کرتے تھے کہ وہ اس کی تخت کو زمین پر رکھنا ہی گوارا نہیں کرتے تھے اسی وجہ سے اس کا نام نیا کھری ژھن پو پڑھ گیا سنیا کا مطلب کاندھا کھری کا مطلب تخت اور ژھن پو کا مطلب بادشاہ جب وہ بادشاہ بنا تو اسی سے تبتی کیلینڈر کی ابتدا ہوئی ہے پھر تبت کے 33 ویں بادشاہ سترونگ ستن زگامپو کے زمانے میں جب تبت میں بدھ مت مذھب آیا تو انہوں نے ایک نئی قمری کیلنڈر کے تحت اس شمسی کیلنڈر میں ایک اور ماہ کا اضافہ کرکے اسے 13 ماہ کا بنا دیا یوں بدھ مت کیلنڈر وجود میں آیا لیکن تبت کے یرلونگ سلطنت کے لوگوں نے بدھ مت کیلنڈر کو قبول نہیں کیا کیونکہ ان کا تعلق بون مذھب سے تھا انہوں نے اپنی قدیم روایت کو باقی رکھا اور یہ سلسلہ چلتا ہوا تبت کا آخری بادشاہ خلنگ درما تک پہنچا جب وہ ایک بدھ مت پنڈٹ کے ہاتھوں قتل ہوا تو بدھ مت عناصر نے بون مذھب کے لوگوں کو ملک بدر کیا اس کے بعد ملک بدر ہونے والے بون مذھب کے کچھ لوگ لداخ میں آباد ہوئے اور کچھ بلتستان میں اگرچہ بون مذھب کے لوگوں کو اپنا شہر چھوڑنا پڑا لیکن انہوں نے اپنی قدیم تہذیب کبھی نہیں بدلی اسی وجہ سے صرف لداخ اور بلتستان میں اکیس دسمبر کو لوسر منایا جاتا ہے لیکن تبت میں ابھی یہ متروک ہے کیونکہ تبت میں بدھ مت رائج ہے اگرچہ اس وقت لداخ میں بھی بدھ مت مذھب رائج ہے لیکن اپنی پرانی روایت باقی رکھا ہوا ہے ورنہ بدھ مت مذھب کے کیلنڈر کے مطابق نیا سال 17 فروری سے شروع ہوتا ہے۔ بلتی تبتی کیلنڈر کے مطابق بارہ مہینے مختلف بارہ جانوروں کے نام پر ہیں جن کے نام یہ ہیں۔
1 ستق لزا ( چیتا ) 2 یوس لزا ( خرگوش ) 3 بروک لزا ( ڈراگون ) 4 غبول لزا ( سانپ ) 5 ہرتا لزا ( گھوڑا ) 6 لوک لزا ( بھیڑ ) 7 سپری لزا ( بندر ) 8 بیا لزا ( مرغا ) 9 کھی لزا ( کتا ) 10 فق لزا ( سور ) 11 بی لزا ( چوہا ) 12 خلنگ لزا ( بیل )
اور تبتی کیلنڈر کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بارہ سالوں کو بھی شمار کرتے ہیں جسے لوسکور بولتے ہیں اور ان بارہ سالوں میں سے ہر ایک سال کا نام بھی انہی حیوانوں کے نام پر ہے لیکن سال کی ابتدا یوس ( خرگوش ) سے ہوتا ہے جبکہ مہینے کی ابتدا ستق ( چیتا ) سے ہوتا تھا اس بنا پر بارہ سالوں کے نام یہ ہونگے۔
1 یوس لو 2 بروک لو 3 غبول لو 4 ہرتا لو 5 لوک لو 6 سپری لو 7 بیا لو 8 کھی لو 9 فق لو 10 بی لو 11 خلنگ لو 12 ستق لو ۔اس کیلنڈر کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ایک سال کو مذکر اور دوسر/ے سال کو مؤنث شمار کیا جاتا ہے
اور تیسری خصوصیت یہ ہے کہ ان بارہ سالوں میں سے ہر ایک سال پانچ عناصر میں سے ایک ایک عنصر کی طرف منسوب ہوتا ہے ان کی ابتدا آگ سے ہوتی ہے :
1 آگ 2 مٹی 3 لوہا 4 پانی 5 لکڑی
اب ہر سال کو ان حیوانوں کے ناموں کے ساتھ ساتھ ان عناصر میں سے ایک کو بھی ملایا جاتا ہے اور ساتھ میں جنس کو بھی کہ یہ مذکر ہے یا مؤنث
تو کل سالوں کی تعداد ساٹھ بنتی ہے 12 ضرب 5 = 60
سنہ 2018 کو بلتی تبتی کیلنڈر کے مطابق (( سا فو کھی لو )) کہیں گے یعنی سال کا نام کھی لو ہے عنصر مٹی ہے اور جنس مذکر ہے۔
چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ جب لوسکور ( 12 سال ) بارہ ہوجائے تو اسے کھیم سکور کہا جاتا ہے ایک کھیم سکور میں 144سال ہوتے ہیں جس میں ہمارا سورج ملکی وے گیلیکسی کے گرد ایک چکر مکمل کر لیتا ہے تعجب کی بات یہ ہے کہ ہمارے آباواجداد کو 2145 سال پہلے اس کا علم کیسے ہوا جبکہ ملکی وے گیلیکسی کی حقیقت کل آشکار ہوئی ہے جب سائنس نے عروج حاصل کیا۔

یاد رہے بلتستان اور کرگل میں بزرگ لوگ آج بھی سال کا حساب کتاب اسی کلینڈر کے مطابق کرتے ہیں لیکن حکومتی سطح ثقافت بچانے کیلئے منظم پلیٹ فارم نہ ہونے کی وجہ سے بلتستان میں اب پہلے کی نسب خاص طور پر نئی نسل اس کلینڈر کے بارے کم ہی اگہی رکھتے ہیں۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*