تازہ ترین

کراچی سے بُری خبر، ایم کیو ایم لندن پر قیامت ٹوٹ پڑی۔

کراچی(مانیٹرینگ ڈیسک) متحدہ قومی موومنٹ (لندن) کے رہنما پروفیسر حسن ظفرعارف کی لاش ابراہیم حیدری کے علاقے سے ملی ہے‘ میت کو پوسٹ مارٹم کے لیے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری سے ملنے والی لاش کی شناخت ایم کیو ایم لندن کے رہنما کے طور پر ہوئی ہے‘ ایس ایچ او ابراہیم حیدری کے مطابق وہ اپنی گاڑی کی عقبی نشست پر مردہ حالت میں پائے گئے‘ ذرائع کا کہنا ہے کہ پروفیسر حسن ظفر عارف گزشتہ روز سے لاپتہ تھے اور ان کی تلاش جاری تھی۔ جناح اسپتال کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق جب انہیں اسپتال لایا گیا تو ان کی موت واقع ہوچکی تھی‘ موت کے اسباب کاتعین پوسٹ مارٹم کے بعد ہی ممکن ہوسکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاش پر کسی قسم کے تشدد کے نشانات نہیں ہیں پروفیسر حسن ظفر عارف کی عمر 70 سال تھی اوربائیس اگست 2016 کو ایم کیو ایم کراچی اور لندن قیادت کے درمیان علیحدگی کے بعد لندن اور پاکستان کے نام سے دو دھڑے وجود میں آئے ۔ ڈاکٹرحسن ظفرعارف جنہوں نے محض چند ماہ قبل ایم کیو ایم میں شمولیت اختیارکی تھی‘ انہیں عبوری رابطہ کمیٹی میں ڈپٹی کنوینرنامزد کیا گیا‘ لندن ونگ کی پہلی پریس کانفرنس بھی انہی کی قیادت میں منعقد کی گئی تھی۔

پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفر عارف جامعہ کراچی شعبہ فلاسفی کے سابق استاد رہے ہیں ۔وہ مختلف سیاسی موضوعات پر کئی کتابیں لکھ چکے ہیں ، ان کی پوری زندگی علمی موضوعات اور سیاسی جدوجہد سے منسلک رہی ہے۔ بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہوں گے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی پہلی بار وطن واپسی کی تحریک کو کامیاب بنانے میں اہم کردار اداکرنے والوں میں پروفیسر حسن ظفر کا نام سر فہرست تھا جنہوں نے پس پردہ رہتے ہوئے بی بی کی واپسی میں اہم کردار ادا کیا۔انیس سو پچاسی میں دائیں بازو کے نظریات رکھنے کی پاداش میں انہیں کراچی یونیورسٹی سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*