تازہ ترین

استور کے کچھ صحافیوں نے اپنی قیمت سر عام لگادی۔

استور(نامہ نگار خصوصی) تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز محکمہ واٹر اینڈ پاور میں بجلی لائنوں کی ڈسٹربیوشن کے ٹینڈرز ہورہے تھے۔ جس میں ٹھیکداروں کے درمیان اتفاق نہیں ہوپایا اور ٹھیکداروں نے مطلوبہ ٹھیکہ لینے کے لئے ریٹس کم کر کے جمع کرادئے۔ جسکی وجہ سے محکمے کے ذمہ دار پریشان ہوگئے۔ کیونکہ اس سے پراجیکٹ کی ناکامی کا اندیشہ تھا۔ ایکسین واٹر اینڈ پاور نے کنٹریکٹرز برداری کو دوبارہ بیڈ(BID) دیں۔ استور کے کچھ صحافیوں کو جب اس حوالے سے اطلاع ملی تو کیمروں کے ساتھ محکمہ ہذا کے دفتر پہنچ گئے اور کچھ صحافیوں کی کیمروں سمیت دفتر آمد کو دیکھ کر محکمے کے ذمہ داران پریشان ہوگئے کیونکہ ٹھیکیداروں کو دوبارہ بیڈ(BID) دینے کا موقع فراہم کرکے محکمے نے رولز کی خلاف ورزی کی تھی۔اس پریشانی کو دیکھ کر ٹھیکدار برادری کے ذمہ دار محکمے کے ذمہ داروں کو اس مصیبت سے بچانے کے لئے میدان میں کود پڑے، اور ذرائع کے مطابق مبلغ ایک لاکھ روپے میں انہی صحافیوں کے ساتھ معاملہ طے پایا اور ٹھیکداروں سے پیسے جمع کرکے استور کی ایک مشہور سیاسی شخصیت نے انہی صحافیوں کے حوالے کردی۔ گلگت بلتستان کے صحافی براداری کے لئے استور کے کچھ صحافیوں کا یہ کھلم کھلا رشوت لینا انتہائی شرمندگی کا باعث ہے۔ اور انکا یہ اقدام پیشہ صحافت سے وابستہ فرض شناس صحافیوں کے منہ پر بھی طمانچہ ہے۔ اخباری مالکان و ذمہ داران صحافت کی آڑ میں کھلم کھلا بلیک میلنگ اور رشوت خوری کرنے والے صحافیوں کے خلاف نوٹس لیں۔ عوامی حلقوں نے استور پریس کلب کے صدر کو اس معاملے میں تحقیقات کرکے صحافت کے مقدس پیشے کو بدنام کرنے والوں کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

About Muhamamd

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*