تازہ ترین

معاشرتی مسائل اور صاحبان قلم کی ذمہ داری۔تحریر: محمد حسن جمالی

انسانی معاشرے میں مختلف قسم کے مسائل کا پیدا ہونا فطری ہے، چونکہ معاشرہ افراد سے تشکیل پاتا ہے اور افراد مختلف خیالات کے مالک ہوتے ہیں، ہر کوئی اپنے خیال اور فکر کے مطابق آگے بڑهنے کی کوشش کرتا ہے- یہی وجہ ہے کہ ہمیں انسانی معاشرے میں انسان بهی دکهائی دیتے ہیں اور انسان نما وحشی درندے بهی نظر آتے ہیں- اگر اسلامی تعلیمات کے مطابق انسان کی تربیت نہ ہوجائے تو وہ انسانی شکل میں سانپ اور بچهو بن کر معاشرے کی تباہی کا سبب بن جاتے ہیں۔ چنانچہ آج پاکستانی معاشرہ انسان نما درندوں سے بهرا ہوا ہے، جنہوں نے عوام کو طرح طرح کے مسائل اور مشکلات میں گرفتار کرکے اپنا الو سیدها کررہے ہیں، جس کے باعث ملک کرپشن، قرض ،دہشتگردی جیسے مسائل کے دلدل میں پهسا ہوا ہے- وطن عزیز میں انسان کی جان کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی، حد یہ ہے کہ ہمارے مردہ معاشرے میں انسان نما درندوں کے حملوں سے معصوم بچوں تک کی عزت اور جان محفوظ نہیں- واقعتا انسان کا ضمیر جب مرجاتا ہے تو انسان اس قدر پست و گهٹیا بن جاتا ہے کہ سات سالہ معصوم بچی کو بهی ہوس کا نشانہ بنا ڈالتا ہے- قرآن مجید نے اسی لئے فرمایا کہ ایسے لوگ چوپائیوں سے بهی بدتر ہیں- حالیہ قصور میں زینب نامی معصوم بچی کے ساتھ  پیش آنے والا ظلم کا واقعہ زبان زد عام وخاص ہے- اس سے پہلے بهی ایسے ہزاروں واقعات پیش آتے رہے ہیں- مگر حکمرانوں کی بے توجہی سے اب یہ غیر انسانی کام معمول بنتا جارہا ہے- پنجاب کی بے غیریت حکومت کو شرم سے مرجانا چاہیے، اسی قصور میں ہی یہ واقعہ تکرار کیوں ہوتا رہتا ہے- جب حالیہ معصوم بچی زینب کا واقعہ پیش آیا تو لوگ آپے سے باہر ہوئے، سڑکوں پر نکل کر عوام نے مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا تو طلال چوہدری اور رانا ثناء اللہ سمیت تمام ن لیگی وزراء نے یہ کہہ کر عوام کے زخم پر نمک پاشی کی کہ زینب جیسے واقعات ہوتے رہتے ہیں یہ عام سی بات ہے میڈیا انتشار پھیلا رہا ہے اور لوگوں کو مشتعل کررہا ہے اور لوگ سیاست کررہے ہیں وغیرہ – ستم بالائے ستم یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے مظاہرہ کرنے والوں پر گولی چلا کر دو نفر کو موت کے گهاٹ اتار دیا گیا- اس افسوس ناک صورتحال میں ہر پاکستانی کا یہ فرض ہے کہ اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرے اور مجرم کو سرعام عبرتناک سزا دلوانے کا مطالبہ کرے اور جو صاحبان صحافت کے شعبے سے مربوط ہیں وہ اپنی قلمی طاقت کے ذریعے ایسے گهناونے جرائم میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنے میں سب سے بہتر کردار ادا کرسکتے ہیں – یاد رہے کہ صحافت کا شعبہ انتہائی حساس ہے – اس میدان میں قدم رکهنے کے لئے جہاں آدمی کو علم اور معلومات کا خوگر ہونا شرط ہے وہیں اسے اخلاق، ادب اور بصیرت کا حامل ہونا بهی ضروری ہے- ایسی صفات اور خصوصیات والے اہل قلم ہی معاشرے میں اپنا فریضہ بہتر طور پر ادا سکتے ہیں-سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اہل قلم کی ذمہ داری کیا ہے ؟ اس کا سیدها سادہ جواب یہ ہے کہ معاشرتی مسائل کی درست نشاندہی کرانا اہل قلم کا فریضہ ہے- اہل قلم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مقتدر افراد کو لوگوں کی مشکلات کے حل کی طرف متوجہ کرائیں اور معاشرے سے ان کا خاتمہ کرانے کے لئے کردار ادا کریں تاکہ لوگوں کو عزت امن اور سکون کی زندگی میسر ہو- آج پاکستانی معاشرہ مختلف نوعیت کے مسائل اور مشکلات میں گرا ہوا ہے مگر درددل اور احساس ذمہ داری کے ساتهہ ان کی نشاندہی کرانے والے ان پر تجزیہ وتحلیل یا تبصرہ لکهنے والے اہل قلم خال خال ہی نظر آتے ہیں- اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ پاکستانی معاشرے میں لکهنے والوں کی کمی ہے یا اہل قلم کا بحران ہے ,بلکہ انٹرنٹ کی سہولت نے جہاں معلومات تک رسائی کو انسان کے لئے آسان بنادیا ہے وہاں قلم کاروں کی تعداد بڑهانے میں بهی بڑا کردار ادا کیا ہے ،اس کے باوجود وظیفہ سمجھ کر عوام کے اصل مسائل پر قلم اٹھانے والوں کی قلت کے سبب ہمارے معاشرے میں نہ فقط مسائل ختم نہیں ہورہے ہیں بلکہ آئے دن نت نئے مسائل پیدا ہوتے جارہے ہیں، جس سے لوگوں کی پریشانیوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ،جن میں سر فہرست بد امنی اور دہشتگردی کا مسئلہ ہے- کوئی ہفتہ نہیں گزرتا ہے جس میں کوئی نہ کوئی دلسوز واقعہ رونما نہ ہوتا ہو – پاکستان کے اندر بدامنی وبا کی شکل اختیار کرچکی ہے جس سے نہ بڑے محفوظ ہیں اور نہ چهوٹے۔ ایسے میں اہل قلم کی یہ ذمہ بنتی ہے کہ وہ ہر قسم کے تعصبات سے بالاتر ہوکر مظلوم کے دفاع میں اپنا قلم چلائیں، جہاں بهی ظلم پر مبنی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس کے اسباب وعلل پر تجزیہ کرکے ظالم کو کیفر کردار تک پہنچانے کی کوشش کریں۔

About Muhamamd

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*