تازہ ترین

گلگت بلتستان کے سیاسی میدان میں پیپلزپارٹی اور پیپلزپارٹی میں ٹاکرا۔ معاملہ کیا ہے؟

گلگت( نامہ نگار) پاکستان پیپلزپارٹی کے اہم رہنماوں کے درمیان حکومت مخالف اخباری بیانات دینے میں دوڑ لگی ہوئی ہے گزشتہ دنوں نگر سے نو منتخب ممبر قانون ساز اسمبلی جنہیں اپوزیشن لیڈر بنانے کیلئے بھی کوششیں کی گئی تھی لیکن بے سود ثابت ہوئی لیکن اسمبلی اور میدان میں اُنہوں نے جارحانہ طرز سیاست اپنایا ہوا ہے ۔ ممبر پاکستان پیپلزپارٹی جاوید حسین نے پہلے عوامی ایکشن کمیٹی کو غدار کہا جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ٹیکس مخالف تحریک کو مرکزی قیادت کی حمایت حاصل تھی، اسی طرح اُنہوں نے وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد لانے کا بھی اعلان کیا مگر اُس اعلان کے دوسرے ہی دن صدر پاکستان پیپلزپارٹی امجد حسین ایڈوکیٹ نے حیران کُن طور پر موجود حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی باتوں کو مسترد کرتے ہوئے ٹائم پورا کرنے کا موقع دینے کی بیان نے سیاسی حلقوں کو حیران کردیا۔مقتدر حلقوں کا کہنا ہے کہ امجدایڈوکیٹ کا خیال ہے کہ اس وقت گلگت بلتستان میں مسلم لیگ نون کی حکومت آخری سانسوں پر چل رہا ہے وفاق میں 2018کی الیکشن کے بعد ویسے بھی نون لیگ کی سیاست کا سورج غروب ہونا ہے دوسری طرف گلگت بلتستان میں پاکستان تحریک انصاف دھڑے بندوں میں تقسیم ہے مستقبل کی سیاست میں اُن کیلئے کوئی واضح امکانات نہیں۔لہذا اُنکا خیال ہے کہ گراونڈ پاکستان پیپلزپارٹی کیلئے فیورٹ ہے اور اس بار امجد ایڈوکیٹ کی نظریں وزیر اعلیٰ کی کرسی پر ہے اس وجہ سے وہ موجودہ حکومت کو ذیادہ چھیڑخانی نہیں کرنا چاہتے تاکہ مستقبل میں اُن کیلئے کوئی سیاسی مسائل پیدا نہ ہو۔ لیکن جاوید حسین ذاتی طور سمجھتے ہیں کہ اُنہوں نے دو اہم پارٹیوں کو شکست دیکر یہ سیٹ حاصل کرکے قانون ساز اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی وجود کا احساس دلایا ہے کیونکہ عمران ندیم ایک خاموش سیاست دان ہے۔ یوں ان دنوں پیپلزپارٹی کے درمیان بھی کریڈیٹ اور اختیارات کی سرد جنگ چل رہی ہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*