تازہ ترین

قصور ہم سب کا ، تحریر ؛حمایت خیال

پنجاب، قصور میں رونما ہونے والا واقعہ ملکی تاریخ کا پہلا واقعہ نہیں۔ ہم آئے دن ایسے واقعات، سانحات اور المیوں سے گزر جاتے ہیں۔اب ہم ایسے واقعات، سانحات اور المیوں کے عادی ہو چکے ہیں۔ اگر ہم مزید ایسے دل سوز اور شرمناک واقعات کو نہیں دیکھنا چاہتے تو ہمیں مزمتی بیانات پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے، جب تک ہم کسی بھی المناک حادثوں کی تہہ تک پہنچ نہ جائیں ، انہیں تلف نہیں کر سکتے۔ اور نہ ہی ٖصرف حکومت کو موردالزام ٹھرانا درست ہوگا۔ حکومت ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فرض ہے کہ وہ ریاست کے ہر شہری کی حفاظت کرے۔لیکن یہ کہہ کر ہم بری زمہ نہیں ہو سکتے۔جہاں ہم اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن ، اپنے فرائض کو بھول جاتے ہیں ۔ ریاست کی ناکامی میں حکومت کیساتھ ساتھ ہماری بھی کوتاہی اس میں شامل ہے ۔ واقعات، سانحات اور المیوں پر ہمارا ری ایکشن یہی ہوتا ہے، کہاں رونما ھوا؟ کون سے لوگ تھے؟ کیا کر رہے تھے؟ ان کا مذہب ، مسلک کونسا تھا؟ جب سب کچھ ہمیں معلوم ہوجا تا تب جا کے ہمارا ری ایکشن سامنے آتا ہے۔ اب حالیہ دل سوز واقعے پر ہم اس لئے خاموش ہیں کہ یہ واقعہ قصور کا ہے۔یا یہ کہ ان لوگوں کا مسلک میرے مسلک سے مختلف ہے۔ اگر کچھ زیادہ ہی دلسوز واقعہ ہے تو ہم سڑکوں پہ نکل آتے ہیں۔ مگر وہ طبقہ کہاں جن کے اطراف میں حفاظتی حصار موجود ہے۔ وہ لوگ کہاں جن کی حفاظت کے لئے چوکیداروں کی کثیر تعداد ہمیشہ موجود ہے۔ آج ان لوگوں میں زرا سی بھی انسانیت ہوتی تو وہ ہم سے پہلے احتجاجی مظاہروں میں موجود ہوتے۔ اپنے پرٹوکول کو ختم کر تے۔مگر یہاں تو بندہ مزدور اس کے ایک مزمتی بیان سے بہل جاتا ہے۔
ہم اگر اپنے آس پاس جھانکتے اور اپنے ہمسایوں سے کچھ سیکھ لیتے تو آج قصور والا سانحہ نہ ہوتا۔ہمارے پڑوس ایران میں بھی ایسا ہی واقعہ رونما ہوتاہے۔ جس میں ایک بنت حواکو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد مار دیا گیا ۔ پولیس مجرم کو گرفتا ر کر لیتی ہے اور عدالت سے سرعام پھانسی کا حکم صادر ہوتا ہے۔ اور اسے سر عام پھانسی دی جاتی ہے۔ اب وہاں کیسے کوئی دوسرا مجرم پیدا ہوگا۔ جس ملک کی پولیس کی پہنچ مجرم تک نہ ہو۔ اگر ہاتھ آئے تو ان کی حفاظت کرنے لگ جائے ، اپنے حق کے آواز آٹھانے والوں کو گولیوں سے خاموش کرائے، اور اس سے اس کے عوض ترقی مل جائے تو کیسے معاشرے برائیوں سے پاک ہوگا۔
ہمارا معاشرہ ایک بیمار معاشرہ بن چکا ہے، یہ یہاں کی سماج نے نفسیاتی سماج کا روپ دھار لیا ہے۔ایسے بیمار معاشرے میں رہنے والا نفسیاتی مریض کو حوصلہ مل جاتا ہے۔انہیں معلوم ہے کہ ریاست ان تک اپروچ نہیں کرے گی، اگر حوالات تک پہنچ بھی جائیں تو بری ذمہ گھر واپس لوٹیں گے۔ آج ہم جس بیمار معاشرہ اور نفسیاتی سماج کا حصہ بن چکے ہیں ، یہاں بنت حوا کی عزت کوئی محفوظ نہیں۔
اگر ہم اس بیماری کا خاتمہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے ہی گریباں کو جھانکنا بہت ضروری ہے۔ کہیں وہ وحشی درندہ ہمارے اندر موجود تو نہیں۔ کہیں کوئی بنت حواہماری گندی حرکتوں کی وجہ سے گھرپہ محصور تو نہیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*