تازہ ترین

آج خود سے شرمسار ہو کر آئینہ نہیں دیکھا!! تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

آج کی دور کے انسان ہونے پر شرمندہ ہوں جب سے قصور کا واقعہ سُنا ہیے دل خون کے آنسو رو رہیے ہیں پورا دن عجیب کفیت میں گزاری ہیے.کل رات کو جب واقعہ کا علم ہوا تو پوری رات آنکھوں سے آنسو بہتا رہا.اپنے شعور و علم پر افسوس ہوا.ہوا کی ننھی اور کمسن بیٹی کے ساتھ ابن آدم کا اتنی درندگی و سفاکی نے مجھے جھنجوڑ کے رکھ دیا.قلم اٹھانے کی طاقت نہیں تھی لیکن یہ سوچ کر ہمت کی کہ ایسے حادثات کی روک تھام میں اپنا حصہ دینا شرعی فریضیہ ہیے.اگر ہم اسی طرح کے حادثات پر چپ چاپ رہیے تو معلوم نہیں کل حادثات کا نہ روکنے والے سلسلہ شروع نہ ہو.کیونکہ ہمارے حکمرانوں ,ججوں اور سول و عسکری قیادت کے بچوں کی سکیورٹی تو حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہیں مسئلہ تو ہم غریبوں کی ہیے.لہذا ہر باشعور انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے اپنی آواز کی طاقت کو وقت کے فرعونیوں و یزیدیوں تک پہنچانے کی ضرورت ہیے.جب تک ہم ان کو نیست و نابود نہیں کرینگے اس وقت تک بنت ہوا کی عزت تار تار ہوتے رہینگے.اسلام نے عورت کو عزت و احترام سے نوازا ہیے.عورت کسی ابن آدم کی ماں ,بہن,بیٹی اور بیوی ہوتی ہیے.ہمارا مقدس دین ہمیں یہ باور کرتا ہے کہ ان رشتوں کی کس طرح عزت کی جاتی ہیں.کس طرح ان کے تقدس و عزت ناموس کک حفاظت کرنی ہوتی ہیں .جس معاشرے میں عورت کی عزت نہیں کی جاتی سمجھ لینا وہ معاشرہ درندہ صفت انسانوں کی آماجگاہ ہیے.قصور میں ہونے والے پے در پے واقعات اور حالیہ ننھی زینب کے ساتھ پیش آنے والے اندوہناک سانحات معاف کیجیے ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتا ہیے.کیوں نہ ہو جناب مجرم کو کسی بھی قسم کا خوف نہیں ہو تو طاقت ور ہونا لازمی امر ہیے.جب انصاف فراہیم کرنے والے ادارے پولیس حکومت اور عدلیہ ہی نے ان کو کھلی چھوٹ دی جائے تو اور کس میں ہو گا دم جس کووہ روک سکے.می نے پہلے ہی کہا ہیے کہ جب معاشرے میں جرائم کی شدت میں اضافہ ہونے لگا تو سوچ لینا وہاں انصاف بھیگ جاتا ہیے.وہاں کے ہر شخص قاتل بن جاتا ہیے.قصور میں ہونے والا یہ پہلا واقعہ نہیں جناب اس سے پہلے بھی اس اندھے سرزمیں میں کئی معصوم بچوں کی عصمت دری کی جا چکی ہیے.میڈیا کے مطابق یہ ایک بہت بڑا کاروبار بن چکا ہیے جس میں معصوم بچیوں اور بچوں کے والدین کو ہراساں کر کے پیسے بٹورے جاتا ہیے.اف اتنی بڑی جرائم اور ہماری حکومت و ایجینسیاں کہاں ہیے .جو اب تک اس سفاک درندوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچا سکا کہیں اس کاروبار میں یہ سب ملوث تو نہیں ورنہ مجال کہاں ہماری حکومت و ادارے اتنے کمزور تو نہیں.یہ بات حقیقت کی طرح عیاں ہیے کہ ہمارے ملک میں بنت ہوا کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا کھبی تلافی نہیں ہوا البتہ اس سے ان کے عزت کے جنازے مذید نیلام ہوئے ہیں.ایسا کیوں ہیے کہ ہمارے ملک میں کام کرنے والے انسانی حقوق کے اداروں کی کامیابی کا تناسب بھی حکومتی اداروں سے بلکل بھی مختلف نہیں ہوتا.میں نے پہلے بھی اوپر کے سطور میں کئی مرتبہ کہنے کی کوشش کی ہیں کہ جیسا دیس ویسا بیس کی باسی ہیے.شاید ان انسانی حقوق کے کارکنان بھی حکومتی چمچوں کی طرح عوام اور ڈونر کو بیوقوف بنا رہا ہو تاکہ ان کا دال روٹی گل سکے.مختصراً اتنا سا عجزانہ گزارش کے ساتھ اپنی کالم کو اختتام کی طرف لے جاوّں گا اب ہمیں یعنی عوام کو ہی آواز اٹھا کر ہی مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہیے .جس کے لئیےلمبی اور دیرپا قربانی کی ضرورت ہو گی.اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو باریوں کا انتظار کرنا مقدر بن جائے گا۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*