تازہ ترین

کیا گلگت بلتستان میں انقلاب آیا ہے؟ تحریر : محمد حسن جمالی

گزشتہ سال کے آخری مہینے میں گلگت بلتستان کی سرزمین پر عوام نے تاریخی احتجاج کا ریکارڈ قائم کیا گیا – اس احتجاج کی سب سے بڑی خوبی یہ تهی کہ تمام مکاتب فکر سے تعلق رکهنے والوں نے بڑهہ چڑهہ کر اس میں حصہ لیا اور مذہبی لسانی وعلاقائی اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے جی بی عوام نے متحد ہوکر باشعور قوم ہونے کا مظاهرہ کیا گیا- اگرچہ عوامی اس تحریک کو کامیاب ہوتے دیکهہ کر وزیر اعلی گلگت بلتستان جناب حفیظ الرحمن نے مذہبی اختلافات کو ہوا دے کر عوام کو تقسیم کرکے احتجاج کو بے اثر اور بے نتیجہ کرنے کی سر توڑ ناکام کوشش کی گئی, مگر عوام پر وزیر اعلی کے اس پرویپگنڈے کا موئے سر کے برابر بهی اثر نہیں ہوا ،بلکہ عوام نے اتحاد کی عظیم طاقت سے لیس ہوکر ایسی آواز بلند کی جس سے صاحبان اقتدار عوامی مطالبات کے سامنے گٹهنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئے- گلگت بلتستان کے باشعور لوگ یہ بات نہ صرف سمجهہ چکے ہیں بلکہ اس پر انہیں کامل طور پر یقین بهی ہوا ہے کہ ہماری ستر سالہ محرومیوں کے اسباب وعلل میں سے بنیادی سبب ہمارا عدم اتحاد ہے- ہم نے اس پورے عرصے میں یکدل ہوکر کهبی بهی اپنے حقوق کی جنگ نہیں لڑی – ہم نے ہمیشہ قومی ایشوز کو بهی اختلافات کے خول میں بند رہ کر حل کرنے کی کوشش کی گئی – وحدت جیسی عظیم طاقت پر ہم نے توجہ دینے کی زحمت نہیں کی گئی- ہم یہ سوچنے میں مگن رہے کہ گلگت بلتستان میں تو مختلف زبان اور مذہب لے لوگ رہتے ہیں لہذا خطے کے مسائل پر ان کا اجماع ہونا ممکن نہیں وغیرہ.. مگر حالیہ احتجاج کے قائدین اور عوام نے عملی طور پر یہ ثابت کردیا کہ گلگت بلتستان کے مسائل ومشکلات کے حل کا راز عوامی اتحاد ہے- اتحاد سے بڑهہ کر نہ کوئی طاقت ہے اور نہ ہی کوئی دولت- جس کا ثمرہ ہم نے اسی احتجاج میں ہی دیکهہ لیا – اب ضرورت اس بات کی ہے کہ گلگت بلتستان کا پڑها لکها طبقہ سمیت باشعور لوگ اس بے بدیل عوامی اتحاد کی طاقت کو مخدوش کرنے والوں کے ساتهہ ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہیں اور نسل جدید کے شفاف ذہنوں کو اتحاد ویکجہتی کی اہمیت وافادیت سے روشناس کرتے رہیں – یہ کام گهر میں والدین اور اسکولز وکالجز میں اساتذہ اور معاشرے میں باشعور لوگ سر انجام دے سکتے ہیں- یقین کیجئے اگر گلگت بلتستان کے عوام اسی طرح متحد رہ کر اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرتے رہیں گے تو بہت جلد گلگت بلتستان کی محرومیاں دور ہوں گی اور خطے میں خوشحالی آکر عوام کو سکهہ کی زندگی میسر آئے گی-مفکر پاکستان علامہ اقبال رح اتحاد کے علمبردار اور داعی تهے- ایک جگہ وحدت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے یوں لکها ہے :’مسلمانوں اور دنیا کی دوسری قوموں میں اصولی فرق یہ ہے کہ قومیت کا اسلامی تصور مختلف ہے۔ ہماری قومیت کا اصل اصول نہ اشتراک زبان ہے نہ اشتراک وطن اور نہ اشتراک اغراض اقتصادی بلکہ ہم لوگ اس برادری سے تعلق رکھتے ہیں‘ جو جناب رسالت مآب صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قائم فرمائی تھی, اس لیے شریک ہیں کہ مظاہر کائنات کے متعلق ہم سب کے عقائد کا سرچشمہ ایک ہے‘‘۔ [عروج اقبال صفحہ 24]اقبال نے امت مسلمہ کے اتحاد، یگانگت اور یکجہتی پر بڑا زور دیا ہے نمونے کے طور پر ان کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
اک عمر میں نہ سمجھے اس کو زمین والے
جو بات پاگئے ہم تھوڑی سی زندگی میں
ہیں جذب باہمی سے قائم نظام سارے
پوشیدہ ہے یہ نکتہ تاروں کی زندگی میں
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیﷺ، دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
یہی مقصود فطرت ہے، یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانی
تبان رنگ و بو کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا
نہ تو رانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی
ہوس نے کردیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہوجا-
یہ نکتہ بهی قابل توجہ ہے کہ گلگت بلتستانیوں کو اس غلط فہمی کا شکار بهی نہیں ہونا چاہئے کہ ہم نے مسلسل مظاهرہ کرکے اپنے مطالبات منوالیے ہیں- ٹیکس کے نفاذ کو معطل کرکے ہم اپنے ہدف میں کامیاب ہوگئے ہیں ہم نے بڑا انقلاب لایا ہے و …. چنانچہ سوشل میڈیا پر گزشتہ چند دنوں سے کچهہ لوگ احتجاج کی کامیابی کا کریڈٹ لینے کے لئے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں- مختلف لوگوں کی تصویریں دهڑا دهڑ فیس بک اور واٹساپ پر اپلوڈ کرنے کا سلسلہ چلا ہوا ہے- ان تصویروں کو دیکهتے ہوئے احساس یہ ہوتا ہے کہ شاید گلگت بلتستان میں کوئی انقلاب آیا ہے – لیکن عرض یہ ہے کہ ہماری ناقص فہم کے مطابق اس احتجاج کی کامیابی کا سہرا فقط گلگت بلتستان کے غیور اور باشعور عوام کے سر سجتا ہے- اس کا کریڈٹ عوام کو ہی جاتا ہے -البتہ دهرنے کے قائدین کی محنت اور شب وروز کی سعی پیہم سے کوئی انکار نہیں کرسکتا- انہوں نے لائق تحسین کردار ادا کیا ہے- ہماری دعائیں ان کے ساتهہ ہیں- لیکن دهرنے کی کامیابی کا محرک اصلی عوامی طاقت ہی ہے – سخت سردی میں عوام نے استقامت کا مظاهرہ کیا گیا،اپنے روز مرہ زندگی کے کاموں اور مشغولیات کو چهوڑ کر دسمبر کی خون جمانے والی سردی اور یخ بستہ ہوا میں ناجائز ٹیکس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے رہے، یوں عوامی طاقت نے بالآخر اپنا اثر دکهایا- عوام اپنے مطالبے پاس کرانے میں کامیاب ہوکر اس احتجاج سے سر خرو ہوکر باہر نکلے- دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ہماری نظر میں احتجاج کی کامیابی کو جی بی عوام کی پوری کامیابی سمجهنا حماقت کی انتہا ہے- البتہ یہ جی بی عوام کی کامیابی کا پہلا قدم ضرور ہے- یہ تو انقلاب کی منزل تک پہنچنے کی پہلی سیڑهی ہے -گلگت بلتستان میں اس دن کو ہی انقلاب کا دن سمجهنا معقول ومنطقی ہوگا کہ جس دن عوام اپنے آئینی حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے – مگر سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی تصویروں سے تو لگتا یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں کوئی انقلاب آیا ہے ان افراد سے ہم بهی یہ پوچهنے کا حق رکهتے ہیں کہ دوستو کیا 2017 کے احتجاج سے گلگت بلتستان میں کوئی انقلاب آیا ہے؟

About Muhamamd

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*