تازہ ترین

مادری زبان اور ہماری شناخت (2) تحریر:احمد سلیم سلیمی

گزشتہ باب میں مادری زبانوں کی اہمیت اور اپنی مٹی سے جُڑے رہنے میں ان کے کردار پر بات ہوئی تھی۔اسی مقصد کی خاطر جی بی کی مادری زبانوں کے نظامِ لکھائی پڑھائی (Orthography)کی تشکیل کے لیے فورم فار لینگویج انّیشی ایٹیوز ،FLI اسلام آبادکے ماہرین نے گلگت کا دورہ کیا تھا۔قراقرم یونیورسٹی کے ماڈرن لینگویجز کے آڈیٹوریم میں ۲۹ سے ۳۱ دسمبر ۲۰۱۷ تک تین روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا تھا۔جس کا بنیادی مقصد جی بی کی مادری زبانوں کے نظامِ لکھائی پڑھائی کو ایک حتمی قابل عمل شکل دینا تھا ۔اس ورکشاپ کے محرک اور روح رواں ،کمیٹی کے سربراہ ظفر تاج صاحب تھے۔شنا ،بروششکی ،کھوار اور وخی زبانوں کے ۲۵ کے قریب ماہرین اور اہل قلم اس تربیتی ورکشاپ کے شرکا تھے۔اس ورکشاپ میں FLIاسلام آباد کے جن ماہرین نے اپنے تجربات ، مشاہدات اور لسانی و فنی مہارت کے ذریعے سہولت کاری کے فرائض سر انجام دئے ۔ان میں زبیر توروالی صاحب،محمد زمان ساغر صاحب ،نسیم حیدر صاحب اور امیر حیدر صاحب شامل تھے۔ان صاحبان نے برسوں پاکستان کے شمالی علاقوں کی مادری زبانوں کی بقا کی جنگ لڑی ہے۔لسانی اور فنی بنیادوں پر انہوں نے قابلِ قدر کام کیا ہے۔پہلی تین شخصیات کا تعلق سوات ،کالام اور چترال سے ہے ۔امیر حیدر صاحب بگروٹ گلگت کے ہیں ۔یہ سب اسلام آباد میں عملی کام کرتے ہیں ۔ان دنوں قراقرم یونیورسٹی میں سرمائی تعطیلات ہیں ۔اس لیے اس ورکشاپ کے تینوں دن ،یونی ورسٹی کے وسیع و عریض احاطے کے اندر خزاں رسیدہ پیڑ پودے نظر آتے تھے۔یا پھر اس ورکشاپ کے شرکا،کہیں کہیں ٹولیوں میں ،رخصت ہوتے دسمبر کی گُد گداتی دھوپ میں خوش گپیاں کرتے دکھائی دیتے تھے۔شہر کے ہنگاموں سے دور ،غم دوراں سے ہٹ کے ،اپنی مادری زبانوں کے تحفظ اور ترویج کے لیے یہ اہل قلم سر جوڑ کر بیٹھے ہوئے تھے ۔سب کی ایک ہی سوچ تھی ،ایک ہی جذبہ تھا کہ ایک نتیجہ خیز مرحلہ طے کریں گے۔ اس کمیٹی کے چیئرمین ظفر تاج صاحب کی باتوں میں ایک عزم بھی تھا۔ایک درد بھی تھا کہ بس بہت تاخیر ہوچکی۔۔۔اب اپنی زبانوں کو زندہ کرنا ہے۔انہیں عملی زندگی کے رویوں سے آشنا کرانا ہے۔یہ پہلے بھی ذکر کیا تھا شنا حروف تہجی کی تشکیل اور شنا قاعدے کی ترتیب میں عبدالصبور صاحب کا بھی اہم کردار رہا ہے ۔اس ورکشاپ کے پہلے دن انہوں نے شنا زبان کے حرو ف تہجی اور نظام لکھائی پڑھائی کے لسانی اور تیکنیکی پہلؤوں پر گفتگو کی ۔شنا کے لیے وضع کردہ اصولوں کو جدید ذرائع ابلاغ کے لیے آسان اور ممکن العمل بنانے کے مرحلے بتادئے ۔یہ بات پہلے بھی بیان ہوچکی ہے کہ جی بی کی تمام مادری زبانوں کی چند آوازیں ایسی ہیں جن کے لیے اردو عربی میں حروف دستیاب نہیں ۔ان اصوات کے لیے ایسے نئے حروف اور علامات تشکیل دینے تھے جو ایک طرف قابل فہم ہوں ،دوسری طرف جدید کمپیوٹرائز نظامِ لکھائی پڑھائی کے لیے قابلِ عمل بھی ہوں۔UNICODE جیسے عالمی ادارے کے Orthography کے اصولوں سے مطابقت بھی رکھتے ہوں۔انٹرنیشنل فونیٹک ایسوسی ایشن( IPA )سے جو تسلیم شدہ بھی ہوں ۔شینا کے ماہرین نے چونکہ یہ محنت طلب اور کلیدی مرحلہ طے کیا تھا۔اس لیے انہی اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے ،باقی زبانوں کے لیے بھی بہت حدتک مشترک حروف اور علامات تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے پیچھے شینا کی بالادستی ثابت کرنا نہیں ،بلکہ مزید تاخیر سے بچنے اور قومی لسانی یکجہتی کا شعوری احساس تھا۔ورکشاپ کے دوسرے دن زبیر توروالی صاحب ،محمد زمان صاحب ،نسیم حیدر صاحب اور امیرحیدر صاحب نے شرکا کو فنی لسانی اور سائنسی بنیادوں پر حروف تہجی اور نظام لکھائی پڑھائی کے بنیادی اصول بتا دیے۔ان کے مطابق محض کسی زبان میں مہارت حاصل کرنے یا پھر اپنے انداز میں لکھنے سے زبان کی ترقی ممکن نہیں ۔اسے جدید ذرائع ابلاغ کے اصولوں کے مطابق ڈھالنے سے ہی زبان کی ترقی و ترویج کے نئے افق تلاش کیے جاسکتے ہیں۔کسی بھی مادری زبان میں آج سے پہلے جو کام ہوا ہے وہ قابل قدر ہے ۔مگر وہ تصنیف و تالیف کا زاتی اور عمومی انداز تھا۔اس کی رسائی اور ابلاغی اثر پزیری بھی محدود تھی۔اب جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اسے قومی ،علمی اور فنی شکل دینی ہے۔تبھی ہماری مادری زبانیں معدومیت کے خطرے سے باہر آسکتی ہیں۔یہ ضروری نہیں یہ کام حتمی ہو ۔دنیا کی بڑی بڑی زبانوں میں بھی نظام لکھائی پڑھائی کامسئلہ ابھی تک بحث طلب ہے ۔اس لیے دل بھی اور سوچ بھی وسیع رکھنی ہے۔ایک دفعہ یہ بنیادی ڈھانچہ قائم ہو ۔ پھرآنے والے دور میں نئے ماہرین اور محققین اسے نئے لسانی اور فنی بنیادوں پر وضع کر سکیں گے۔جی بی کی چاروں زبانوں کے اہل قلم اور ماہرین نے اپنے تجربات ،مشاہدات اور تصنیفات کی روشنی میں سوالات بھی کیے۔تجاویز بھی دیں ۔مسائل بھی بتادئے۔اس کمیٹی کے چیئرمین ظفر تاج صاحب سمیتFLI کے تمام ماہرین نے سب کی باتیں سنیں ۔سب کے اختلافات ،اعتراضات اور لاینحل مسائل کو ایک قابل قبول حد تک ممکن العمل بنانے کے امکانات تلاش کئے گئے۔وائٹ بورڈ اور چارٹس کے ذریعے حروف تہجی ،اضافی اصوات ،مصوّتوں (vowels) ،مصمّتوں (consonants)اور ان کے اظہار کی حرفی علامات پر پُر مغز بحث و تمحیص ہوتی رہی۔ ورکشاپ کے تیسرے اور آخری دن بہت مفید اور نتیجہ خیز نشست رہی۔بروشسکی ،کھوار اور وخی کے اہلِ قلم اپنے اپنے گروپ کے ساتھ الگ بیٹھ گئےFLI کے ماہرین اور عبدالصبور اور ظفر تاج صاحب نے ا ن کی معاونت کی ۔اس ورکشاپ کے ابتدائی دو دن جو کارروائی ہوئی تھی،اب اس آخری دن اس کی روشنی میں حتمی حروف تہجی اور علامات وضع کرنے تھے۔ایک ڈیڑھ گھنٹے تک یہ گروہی مباحثہ جاری رہا ۔پھر بروشسکی اور وخی کے ماہرین نے ابتدائی حروف اور علامات تشکیل دینے کا قابل قدر مرحلہ طے کر لیا ۔کھوار کے گروپ میں سیاپا پڑ گیا ۔ کھوار چونکہ جی بی سے باہر چترال میں بھی بولی جاتی ہے۔وہاں کے ماہرین اور اہلِ قلم نے بہت پہلے سے ہی اس زبان میں بڑا کام کیا ہے ۔ان کے زیر اثر ضلع غذر کے اہل قلم نے بھی انہی اصولوں کے تحت لسانی اور تحقیقی کام کیا تھا۔ان میں سے کچھ اہل قلم نے تیکنیکی عذر پیش کیا کہ یہاں جو نئے اصول اور قاعدے وضع کیے گئے ہیں ان میں سے بعض حروف اور علامات اُ س سے مختلف ہیں۔فیصلہ یہ ہوا کہ چترال اور غذر کے کھوار حروف تہجی اور علامات الگ الگ ترتیب دئے جائیں گے۔پھر انہیں قاعدے کی شکل دے کر ظفر صاحب افسرانِ بالا کے سامنے پیش کریں گے۔پھر جو فیصلہ ہوگا اسی کے مطابق کھوار کے حروف ،علامات او ر قاعدے کو حتمی شکل دی جائے گی ۔جی بی کی دوسری بڑی زبان بلتی ہے ۔اس کے ساتھ بھی کھوار جیسی صورت حال ہے۔بلتی زبان میں لداخ کے اثرات بہت زیادہ ہیں ۔بلتستان کے اہلِ قلم نے اسی کے زیرِ اثر بلتی زبان میں بڑا کا م کیا ہے۔جی بی کے لیے وضع کردہ نظام لکھائی پڑھائی سے ان کا کام قدرے مختلف ہے۔
اس تین روزہ ورکشاپ میں ان کی عدم موجودگی کی وجہ بھی یہی تھی۔بلتستان کے اہل قلم اپنے حروف ،علامات اور قاعدے کو ترتیب دے کر ریجنل لینگویج کمیٹی میں پیش کریں گے ۔اس کی منظوری کے بعد اسے حتمی شکل دی جائے گی۔امید ہے ان سطور کے پڑھنے تک یہ اونٹ بھی کسی کروٹ بیٹھ جائے گا۔
یہ خاکسار اس تین روزہ ورکشاپ کی ہر نشست میں شریک رہا ۔مجھے لسانیات کی کچھ بھی سمجھ نہیں۔شینا کے لیے نہ ہی میری کچھ خدمات ہیں ۔ایک ادنا سا اردو قلم کار ہوں ۔اپنی زبان شینا سے محبت ہے۔یہ خواہش تھی کہ اس محبت کی زبان میں بھی کچھ لکھ پڑھ سکوں ۔یہ خواہش اب پوری ہورہی ہے۔اسی محبت کی طاقت سے اس لینگویج کمیٹی یا اس ورکشاپ میں شریک ہونے کا شرف ملا۔مادری زبان و ادب پر یہ کوئی پہلا مضمون نہیں ۔دیگر اہلِ قلم کی طرح اس ناچیز نے بھی متعدد بار لکھا ہے۔یہ کوئی کمال نہیں ۔اپنی زبان سے محبت کی مثال ہے۔اور یہی ایک قلم کار کی روحِ عصر سے آشنائی کی دلیل ہے۔
اور ان سطور میں جو کچھ بھی لکھا ہے یہ اس لینگویج کمیٹی کی نتیجہ خیز کوششوں پر ایک عاجزانہ خراجِ تحسین ہے۔۔۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*