تازہ ترین

وزیر اعلی کی آف دی ریکارڈ پریس کانفرنس،، تحریر: منظر شگری

طویل عرصے بعد جب وزیراعلی حفیظ الرحمن اسلام آباد کے گرم موسم سے گلگت نقطہ انجماد سے گرا ہوا درجہ حرارت کے شہر اقتدار گلگت پہنچے تو انکے مشیروں نے پریس کانفرنس کا مشورہ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتوار کے روز محکمہ اطلاعات کی جانب سے ماسوائے میرے تمام میڈیا نمائیندگان کو وزیراعلی کی پریس کانفرنس کا یہ پیغام(آج 3 بجے سی۔ایم سکریٹریٹ میں وزیراعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن اہم پریس کانفرنس کریں گے۔صحافی حضرات پابندی وقت کے ساتھ شرکت کو یقینی بنائے۔شکریہ )
محکمہ اطلاعات گلگت بلتستان نے
بذریعہ موبائیل میسج تمام رپورٹر جوکہ اخبارات ، ٹی وی چینلز سے وابستہ ہیں پہنچا دیا ————— 3 بجے شروع ہونےوالی پریس کانفرنس میں وزیراعلی کا خطبہ اتنا طویل رہا کہ میڈیا سے وابستہ رپورٹرز کو شام 6 بجے ایوان وزیراعلی سے آزاد کردیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب دوست احباب سے اس پریس کانفرنس کی اہم بات دریافت کرنے کی کوشش کرتا رہا تو بتایا گیا کہ پریس کانفرنس آف دی ریکارڈ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تعجب تب ہوا میڈیا نمائندگان کو پریس کانفرنس کیلئے طلب کیا گیا ۔۔۔۔۔ وہ بھی آف دی ریکارڈ ———————–
وزیراعلی گلگت بلتستان نے آف دی ریکارڈ پریس کانفرنس کرکے ایک نئی تاریخ قائم کی اور ساتھ انہوں نے میڈیا نمائندگان کو یہ ہدایت بھی کی کہ وزیراعلی کی تمام گفتگو کو ذرائع کرکے اخبارات میں رپورٹ بھی کی جائے —————
یہ ایک عجیب منطق میڈیا کو خود وزیراعلی سیکھارہے کہ صحافت ( رپورٹینگ ) زرائع کہہ کر بھی کی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب کوئی میڈیا کا ادارہ اپنے زرائع کو ظاہر کیے بغیر خبر دیتا ہے تو حکومت کے ماتحت محکمہ اطلاعات نوٹس جاری کرتا ہے جس میں زرائع ظاہر نہ کرنے پر اخبار کی اشاعت پر پابندی لگانے کی دھمکی دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے کئی شواہد موجود ہیں ۔ حیران کن بات یہ بھی رہی منگل کی صبع جب اخبار پڑھنے کا اتفاق ہوا تو ان کی شہ سرخیاں زرائع کرکے شائع ہوئی تھی۔
جس میں گلگت بلتستان کو آئینی تحفظ دینے اور صوبے کے برابر اختیارات دینے کی بات کی گئی ۔ یہ کونسی پوشیدہ بات تھی جوکہ ( آف دی ریکارڈ) کی گئی ۔
بہرکیف اس دوران جب 3 بجے وزیراعلی نے ھنگامی اور آف دی ریکارڈ پریس کانفرنس طلب کی اتحاد چوک دھرنے کے مقام پر عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماء مولانا سلطان رئیس اور دیگر رہنماوں کی گلگت آمد کا استقبالی جلسہ بھی شروع ہوچکا تھا ۔ راقم بھی اتفاق سے اس جلسے میں موجود تھا لیکن اس جلسے کے دوران گنتی کے 4 رپورٹرز کے علاوہ تمام رپورٹرز مولانا سلطان رئیس کے خطاب سے قبل جلسہ گاہ سے غائب تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جلسے کے اختتام پر جب معلومات جمع کرنے کی کوشش کی تو وزیراعلی ہاوس نے محکمہ اطلاعات کا ہتھیار استعمال کیا اور براہ راست اخبارات کے مالکان سے رابطہ کیا اور اپنے رپورٹرز کو اتحاد چوک جلسہ چھوڑ کر وزیراعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی آف دی ریکارڈ پریس کانفرنس کی کوریج کیلئے دباو ڈالا تاکہ اتحاد چوک کے عوامی جلسے کی کوریج کم سے کم ہو۔
آف دی ریکارڈ پریس کانفرنس کو زرائع کرکے اخبارات میں شائع ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس تحریر کا مقصد بھی منگل کے روز شائع خبر جس میں زرائع لکھا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ کوئی خفیہ زرائع نہیں ۔۔۔ بلکہ چیف ایگزیکٹو گلگت بلتستان ۔۔۔ حفیظ الرحمن خود ہیں ۔۔۔۔
انکی عقل بھی خاص تھی محکمہ اطلاعات کیساتھ اپنی آف دی ریکارڈ پریس کانفرنس کی تصویر بھی میڈیا کیلئےجاری کردی ۔ تاکہ زرائع کا عام شہریوں کو علم ہوسکے ۔ لیکن اخبارات کو بھی ایک سنگل کالم خبر آف دی ریکارڈ پریس کانفرنس کے ریکارڈ کے مطابق اخبارات میں شائع کرکے عوام کو آگاہی دینے کی ضرورت تھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*