تازہ ترین

بیرونی ایجینٹ کے طعنے اور حقوق کی جدوجہد۔ تحریر: انجینئر شبیر حسین

دنیا سیاست جد و جہد سے عبارت ہے ، حصول حق کی جد و جہد ہو یا کسی عوامی مفادات کے خلاف اقدام کے خلاف جد و جہد حکومتوں کی غلط پالیسیوں کے خلاف ہو یا کسی طرح کے ظلم و جبر کے خلاف دنیا جہاں میں یہ روایت جا بجا دیکھنے کو ملتی ہے کہ عوام اپنے حق کئلیے احتجاج کرتی پے ، جلسے کرتی ہے ، جلوس نکالتی ہے۔ دنیا کے مختلف مقامات پر اپنی حکومتوں کے خلاف مختلف انداز میں احتاجات ہوتے ہیں ، کئی دفعہ یہ احتجاجات پر امن ہوتے ہیں اور کئی مرتبہ یہ پر تشدد بھی ہو جاتے ہیں ، ، کئی دفعہ یہ عوامی احتجات کامیاب ہوتے ہیں اور کئی دفعہ ناکامی سے دو چار ہو جاتے ہیں۔ ان احتجاجات کی کامیابی در اصل اس ہدف پر منحصر ہوتا ہے جس ہدف کئلیے یہ احتجات منعقد کئی جاتے ہیں ، دوسری اہم چیز جس سے ان احتجاجات کی کامیابی جڑی ہوتی ہے وہ عوام عوامی حمایت ہے اور عوامی حمایت پہلی شرط یعنی ہدف پر منحصر ہوتی ہے -سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب ساری دنیا اپنے حقوق کئلیے احتجاج کی راہ اپناتی ہے تو ہمارے ہاں اس طرح کی جد و جہد کو کسی بیرونی ایجنڈے اور ان احتجاج کر نے والوں کو کسی دشمن ملک کا ایجنٹ کیوں کہا جاتا ہے ؟ پنجاب سے نکل کر دوسرے کسی بھی صوبے کے حقوق مانگنے والوں کو کسی دشمن ملک کا ایجنٹ کیوں سمجھا جاتا ہے ؟ گلگت بلتستان کو ہی لے لیجئے ،کیا گلگت بلتستان کی عوام کو ستر سالوں سے تمام تر بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کا ذمہ دار بھارت ہے ؟ کیا آپ بھارتی مقبوضہ کشمیر کو نہیں دیکھتے کہ وہاں آئنی طور پر کشمیر کے عوام کا سٹیٹس دوسری تمام ریاستوں سے اس لئیے بہتر ہے کہ تمام رہاستوں جتنے اختیارات اور حقوق ہو نے کے باوجود مرکزی حکومت کا کوئی قانون تب تک وہاں لاگو نہیں کیا جا سکتا جب تک کشمیر کی اپنی اسمبلی اس کی توثیق نہ کرے ۔ کیا متنازعہ گلگت بلتستان پر سے گندم کی سبسڈی کا خاتمہ انڈیا کی حکومت نے کیا تھا ؟ کیا سی پیک سے حاصل ہونے والے 56 بلین ڈالرز میں سے ایک روپیہ تک جی بی پر خرچ نہ کرنے کا ذمہ دار انڈیا یا کوئی اور ہے ؟ کیا حالیہ ٹیکس ایڈاپٹیشن ایکٹ کا نفاذ کسی دشمن ملک نے کیا تھا ؟ کیا گلگت بلتستان کی زمینوں کو خالصہ سرکار کے نام پر کوئی دشمن ملک ہتھیا رہا ہے ؟ کیا جی بی کو میڈیکل کالج ، انجئیرنگ یونیورسٹی سے محروم رکھنے کے ذمہ دار کوئی دشمن ملک ہے ؟ اگر ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو ان زیادتیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے کسی کے ایجنٹ کیسے ہوئے اور کیوں کر اپ اور اپکے زر خرید غلام (جی بی کے حکمران) اپنی زیادتیوں کا اعتراف کرتے ہوۓ ہمیں ہمارے حقوق دینے کی بجاۓ ہمیں ایجنٹ ڈکلئیر کرنے پہ تلے ہوئے ہیں ؟ اگر ان حقوق کی پامالیوں کے ذمہ دار آپ ہوۓ تو آپ کسی کا ایجنٹ ہوۓ یا ہم ؟ اگر دینا آج جی بی کی متنازع حیثیت کی وجہ سی سی پیک پر انگلی اٹھا رہی ہے تو اس کے ذمہ دار ہم ہیں یا آپ؟ ہمارے آزاد کردہ علاقے ہم نے دوبارہ متنازعہ بنایا یا آپ نے ؟ اگر آپ اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے تو ڈوگروں سے اپنے آپ لڑ کر آزادی حاصل کر کے آپ کی جولی میں آ گرنے والے ، آپ کے چہیتے کشمیر کیئلئے ستر سالوں سے محرومیوں کے شکار ، آپ کے دفاع کئلیے کارگل ، سیاچن ، سوات ، وزیرستان میں آپنا خون بہانے والے ، کیسے کسی کا ایجنت ہو سکتا ہے ۔ جسے تم دشمن کہتے ہو اسے تو ہم نے 70 سال پہلے مار کر بھگایا تھا ،مگر آج بھی حق مانگنے پر انہیں کے ایجنٹ گرداننے کا مطلب کیا ہم یہ سمجھیں کہ آپ ہمیں حقوق دینے کی بجاۓ ہمیں غدار کہ کر حقوق کی جد و جہد سے روکنا اور مزید محرومیوں میں دھکیلنا چاہتے ہیں – لیکن یاد رکھو جی بی کی یوتھ اب جاگ چکی ہے ، عوام کو آخر کار احساس ہو چکا ہے کہ ہمیں ستر سالوں سے کن کن حقوق سے محروم رکھا گیا ہے ، اوریہ ایجنٹی کے ڈرامے ، بیرونی ایجنڈے کے طعنے ، کسی اور سے ملانے والے تانے بانے نہیں چلیں گے ۔ اب تم زیادہ دیراس طرح کے الزامات لگا کر ہمیں ہمارے حق سے محروم نہیں رکھ سکتے ۔ بہتر ہے کہ ہمیں ہمارے تمام تر حقوق دئیے جائیں ساتھ بلوچستان طرز کا ایک ایسا پیکج دیا جاۓ جس سے ہماری ستر سالہ محرومیوں کا آزالہ ہو اور ملک کے دوسرے صوبوں کے برابر آنے میں مددملے ۔ جی بی کو زیادہ عرصہ مھروم رکھا کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*