تازہ ترین

عوام، عوامی ایکشن کمیٹی اور سیانی سرکار۔ تحریر: انجینئر تحسین علی رانا

عوامی ایکشن کمیٹی، اپوزیشن اور انجمن تاجران کو حکومت نے رام کرلیا شائد یہی وجہ ہے کہ لانگ مارچ سے خوفزدہ ہوکر متفق شدہ تین نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ میں سے کسی بھی نکتے پر عمل درآمد کی بجائے فقط ٹیکس ایڈاپٹیشن ایکٹ کی وقتی معطلی کرکے قوم پر احسان عظیم کردیا۔ اپوزیشن ،ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کے رہنماؤں نے بھی 2 مہینے کی ڈیڈلائن دیتے ہوئے حکومتی نوٹیفیکیشن کو قبول کرلیا۔ اور اسکے بعد ایک پریس ریلیز کے زریعے حکومت ی اقدام کو ناکافی قرار دیکر جانے کیا حساب برابر رکھنا چاہا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اگر حکومت متفقہ تین نکاتی چارٹر پر عمل درآمد نہیں کر رہی تھی تو عوامی نمائیندہ بغیر کسی دستخط اور دستاویز کے واپس آجاتا اور عوام سے رجوع کرتا جو کہ پہلے ہی حکومت سے نالاں اور سڑکوں پر موجود تھی ، تاکہ عوام کو نون لیگی حکومت کی اصلیت مکمل طور پر آشکار ہوتی۔ بے شک تحریک کا اگلا مرحلہ فروری سے سٹارٹ کرتے لیکن فقط معطلی والے اقدام کو ناکافی قرار دیتے ہوئے قبول کئے بغیر واپس آجانا چاہئے تھا۔ اس سارے عمل میں پیپلز پارٹی نے بھی حکومت کو مشکل سے نکالنے میں بھرپور مدد فراہم کی۔ امجد ایڈوکیٹ کی سی ایم حفیظ سے ملاقات اور پھر مہدی شاہ کی طرف سے عشائیہ اس کہانی کو سمجھنے میں سہولت پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ ٹیکس کا معاملہ اگلی آنے والی حکومت کیلئے بھی ایک چیلنج بننا ہے اور پی پی پی خود کو اگلی دفعہ برسر اقتدار دیکھ رہی ہے اسلئے انہوں نے بھی حکومتی مشکلات کم کرنے اور عوامی ایکشن کمیٹی کو کارنر کرنے میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ اس سب کے باوجود اس تحریک کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ عوام کو بہت زیادہ شعور و آگاہی ملی۔ عوام کو یہ امید ملی کہ اگر عوام متحد ہو اور مخلص اور نہ بکنے والی قیادت ہو تو وہ اپنے تمام جائز مطالبات اور حقوق حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ بات امید دلاتی ہے کہ جلد گلگت بلتستان کی عوام سیاسی قائدین کی اسیری ، خلاصہ سرکار کے نام پر زمینوں کے قبضوں اور اپنی متنازعہ حیثیت کے مطابق حقوق کے حصول کیلئے جلد میدان عمل میں ہوگی۔

About Muhamamd

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*