تازہ ترین

آل بلتستان آن لائن طرحی مشاعرہ۔

دوسری ہفتہ وار نشست
6 جنوری 2018 کی سرد شب کو ہمارے واٹس ایپ گروپ میں محفل گرم رہی ۔یہ ہمارا دوسرا طرحی مشاعرہ تھا جس میں 24 شعراء نے اپنے کلام سے 24 چاند لگادیے۔

کچھ شعراء جو غیر حاضر رہے ہم ان سے بے حد ناراض ہیں
طرحی مصرع کےلئے غالب کے معروف شعر کا مصرع دوم منتخب تھا جو کہ یہ ہے
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
دوسرے طرحی مشاعرے سے انتخاب

قلتِ لفظ کا یہ عالم ہے
شعر کہنے کو قافیہ نہ ہوا
سکندر علی زریں کھرمنگ

ایک بیمار سے ملی تھی شفا
مرض میں پھر میں مبتلا نہ ہوا
کاچو اظہر عبّاس کواردو

دل جلا جس کا بغضِ حیدر میں
پھر تو وہ لائقِ دوا نہ ہوا
بابر علی غاسنگی کھرمنگ

اس سے پوچھا ‘کسی سے پیار کیا؟’
اس نے بس مجھ سے یہ کہا ‘ نہ ہوا’
آغا عسکری جلالی کھرمنگ

دل تھا کہ دردِ دل بیان کروں
ان کے ہاں ایک لفظ ادا نہ ہوا
ابراھیم خلیلی کواردو

اس تسلی پہ جی رہا ہوں میں
دل تو دل سے کبھی جدا نہ ہوا
ناصر شمیم کھرمنگ

در قفس کا کھلا تو تھا لیکن
میں وہ پنچھی ہوں جو رہا نہ ہوا
علی ارشد یولتر

کب تلک منتظر رہوں صابر
کوئی مجھ سے ابھی خفا نہ ہوا
صابر کمال نجفی کھرمنگ

ہم کو شاعر بنا گئے لیکن
ان سے اک لفظ تک ادا نہ ہوا
شریف ولی عارف کھرمنگ

دکھ نہیں ہے کہ جو کہا نہ ہوا
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
نثار حامدی گلتری

پوچھتا ہے ہوا فراق سے کیا
یہ نہیں دیکھتا کہ کیا نہ ہوا
اشرف آخوندزادہ کھرمنگ

ذات کے تنگ قید خانے سے
چاہ کر بھی کبھی رہا نہ ہوا
وزیر رضا رمزی حسین آباد

دل میں جب عشقِ مصطفیٰ نہ ہوا
دل ہوا خانہء خدا نہ ہوا
شکور شاکری یولتر

لاکھ سجدے کیے تھے چھپ چھپ کر
بت مگر بت رہا خدا نہ ہوا
نادم شگری صاحب

خاک تھا خاک میں ہی جانا تھا
آمدِ مرگ بس بہانہ ہوا
کاچو اظہر عبّاس کواردو

زیست کا نام بس تخیل ہے
دل جو غیروں کا آشیانہ ہوا
روح اللّه ثاقب گانچھے

تُو تو میرا ہوا ہے برسوں سے
درد یہ ہے کہ میں ترا نہ ہوا
اطہر موسوی روندو

بےوفائی بھی اس طرف سے ہوئی
جرم یوں باعثِ سزا نہ ہوا
قیصر محمود گانچھے

جانے کیوں تو نگاہِ دنیا میں
بے وفا ہو کے بے وفا نہ ہوا
اعجاز حسینی روندو

بس اداسی نے ساتھ میرا دیا
سو میں تنہا کبھی ہوا؟ نہ ہوا
آصف آرزو گمبہ سکردو

دل کا صدقہ دیا تھا میں نے تو
پھر بھی ثقفی وہ کیوں ترا نہ ہوا ؟
مختار ثقفی کھرمنگ

قد و قامت بڑھے مرے لیکن
دل تو بچہ رہا بڑا نہ ہوا
نثار یاور صاحب سکردو

رات بھر محوِ گفتگو بھی رہے
اور اک لفظ بھی ادا نہ ہوا
حمایت نظیر گانچھے

دکھ تسلی سے بھی ہوا یعنی
دل لبھانا بھی دل دُکھانا ہوا
حمید رضا کھرمنگ

About Muhamamd

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*