تازہ ترین

پیپلز پارٹی کے دور میں جو لوگ خطے میں بدامنی پھیلا رہے تھے آج وہ لوگ حکومت کا حصہ ہیں۔

گلگت ( پ،ر) پاکستان پیپلز پارٹی میڈیا سیل گلگت بلتستان کی جانب سے مشیر اطلاعات و نشریات کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن والے جب مشکل میں ہوتے ہیں تو یہ پاؤں پڑتے ہیں اور جب یہ مشکل سے نکلتے ہیں تو یہ لوگوں کا گلہ پکڑتے ہیں ۔ مشیر اطلاعات کا بیان بھی اسی سلسے کی کڑی ہے ۔ پیپلز پارٹی کی ماضی ،حال سے خطے کی عوام آگاہ ہے ۔ گلگت بلتستان میں قیام امن کے لئے پیپلزپارٹی کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ مسلم لیگ ن نے گزشتہ الیکشن میں کالعدم جماعتوں کے ساتھ ملکر الیکشن میں حصہ لیا اوروزیر اعلی گلگت بلتستان نے جو نعرہ لگایا وہ بھی عوام کے سامنے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے دور میں جو لوگ خطے میں بدامنی پھیلا رہے تھے آج وہ لوگ صوبائی حکومت کا حصہ ہیں ۔ پیپلز پارٹی پر بدامنی کرپشن اور فرقہ واریت کا الزام لگانے والے اپنی ماضی بھول چکے ہیں ۔عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کی ٹیکس ایشوز پرکامیاب ہڑتال کے موقع پر صوبائی وزراء کیمپ آفس میں آکر عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران سے لاتعلقی کروانے کے لئے پیپلز پارٹی کی قیادت کے پاؤں پڑی تھی مگر پیپلزپارٹی کی قیادت نے حکومتی وزراء کو صاف صاف کہہ دیا تھا کہ اس عوامی ایشوز پر پیپلز پارٹی عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔ صوبائی حکومت نے ٹیکس کے ایشوز پر گلگت بلتستان کے عوام کو علاقائی اور لسانی سمیت فرقہ کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی ناکام کوشش کی جس پر گلگت بلتستان کی عوام نے حکومتی سازشوں کو متحد ہو کر ناکام بنا دیا ۔مسلم لیگ ن علاقے میں اقتدار حاصل کرنے کے لئے بھی مذہبی، لسانی اور ہر قسم کا کارڑ استعمال کرتی ہے اور اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے بھی وہی کارڈ استعال کرتی ہے علاقے میں عوام کو تقسیم کرنے کا وطیرہ مسلم لیگ ن کے سر جاتا ہے، پیپلز پارٹی کے نہیں ۔ صوبائی وزیر اطلاعات ونشریات یونیورسٹی اور گلگت بلتستان انویسمینٹ بورڑ میں نوکری نہیں ملنے کا غصہ پیپلز پارٹی پر نکال رہا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات کو سرکاری مراعات ملنے کے بعد رات کو خواب میں بھی صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نظر آتے ہیں ۔ مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت اب بھی ایک ہی محلے کے افراد کے لئے کام کر رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیر اعلی گلگت بلتستان نے جو پریس کانفرنس کی وہ خطے کے عوام نہیں بھولے۔ عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کو راء کا ایجنٹ قرار دینے سمیت عوامی تحریک کو ایک مسلک کا قرار کس نے دیا ؟ عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کے ساتھ حکومت نے شروع دن سے مزاکرات کیوں نہیں کئے۔ عوامی تحریک کو تقسیم کرنے اور سازشوں کے ناکام ہونے کے بعد حکومت نے آخر میں عوامی تحریک کے سامنے گھٹنے ٹیکے دیئے ۔اب اگر حکومت نے ایک مرتبہ پھر کوئی نیا ٹیکس لانے کی کوشش کی تو اس دفعہ یہ حکومت کی آخری غلطی ہو گئی اور اب کی بار حکومت اپنے گھر جائے گی ۔

About Muhamamd

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*