تازہ ترین

فکری تربیت کے بغیر تعلیم مفید نہیں۔۔ تحریر: محمد حسن جمالی

کسی بھی ملک و قوم کی ترقی کے لئے تعلیم کے ساتھ طالب علموں کی فکری تربیت بھی ضروری ہے۔ اس کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ فکری تربیت سے محرومی پسماندگی کا سبب ہے۔ تعلیم انسان کو اچھے، برے افراد، صفات، اور خصائص کی پہچان کراتی ہے۔ تعلیم انسان کو دوست دشمن کی شناخت حاصل کرنے کے لئے درست راہ کی نشاندہی کراتی ہے۔ تعلیم کے ذریعے قومیں اپنا معیار زندگی بناتی ہیں ، بلکہ ملک و معاشرے کے لئے بہترین افرادی قوت بھی فراہم کرتی ہیں، شرط یہ ہے کہ تعلیم حاصل کرنے والے تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ فکری تربیت یافتہ بھی ہوں ۔ طلباء کو فکری تعلیم سے آراستہ کرنا اساتذہ کی اہم ذمہ داری ہے۔ اگر اساتذہ احساس ذمہ داری کے ساتھ طلباء کی علمی تشنگی کو بجھانے کے ساتھ ان کو فکری تربیت سے بھی آراستہ کریں، تو آئندہ معاشرہ فکر و منطق پر استوار ہوگا۔ اس لئے کہ مستقبل کا معاشرہ انہی سے تشکیل پائے گا۔ فکری تربیت سے مراد عقل و فکر کی پرورش ہے۔ جب اسٹوڈنس حصول تعلیم کے ساتھ فکری تربیت کے بھی حامل ہوں گے، تو وہ بآسانی جھوٹی بات سے سچی بات کو جدا کرسکیں گے۔ ضعیف بات سے قوی بات کو، منطقی بات سے غیر منطقی بات کو جدا کرنے پر قادر ہوں گے۔ بدون شک قوم کے بچے اساتذہ کے ہاتھوں امانت ہیں۔ ان کے بننے یا بگڑنے کا تعلق اساتذہ سے ہے۔ ایک استاد کا ہدف صرف یہ نہیں، کہ وہ کچھ معلومات، اطلاعات، اور فارمولے طالب علم کے دماغ میں ڈال دے، وہاں پر ذخیرہ سازی کردے اور اس کا ذہن ایک ایسے حوض کی مانند ہوجائے کہ جس میں تھوڑا سا پانی جمع ہوجائے، بلکہ معلم کا ہدف اس سے بہت بلند ہے ، اور وہ یہ ہے کہ طالب علم کی فکری توانائی کو پروان چڑھائے، اسے خود اعتمادی و خود سازی بخشے۔ واقعی طور پر استاد کا کام آگ جلانے کیلئے ہیزم کی مانند ہے، استاد طالبعلم کے اندر علم کا ایک شعلہ روشن کرتا ہے۔ سورہ زمر کی ایک آیت ہے جس میں یوں ارشاد حضرت حق ہوتا ہے کہ “میرے بندوں کو بشارت دے دو جو بات کو کان لگا کرسنتے ہیں۔ اس کے بعد کیا کرتے ہیں؟ جو بھی سن لیں اس پر یقین کرلیتے ہیں اور اسی پر عمل کرنے لگتے ہیں یا تمام کے تمام کو رد کر دیتے ہیں؟ (قرآن کہتا ہے) یہ لوگ نقاد ہیں، کھوٹے کھرے کا جائزہ لیتے ہیں اور بہتر انتخاب شدہ پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ قرآن فرماتا ہے یہ وہ لوگ ہیں، جو اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ ہیں۔ یہی لوگ حقیقت میں صاحب عقل ہیں۔ ہمارے تعلیمی مراکز میں فکری تربیت کا کوئی معقول انتظام نہ ہونے کے سبب آج ہمارے اسٹوڈنٹس عقل و خرد کے ذریعے تدبر و تفکر کرکے اپنے انفرادی و اجتماعی مسائل کو حل کرتے دکھائی نہیں دیتے، بلکہ ان پر خیالات و توہمات کا غلبہ دکھائی دیتا ہے۔ اپنی شعوری قوت کو بروئے کار لانے کے بجائے زندگی کے تمام شعبوں میں تقلیدی ذہنیت ان پر حاکم نظر آتی ہے۔ یہ ایک ناگزیر حقیقت ہے، کہ انسان معاشرے کا ایک مفید اور فعال رکن بن کر قوم، وطن، اور ملت کی خدمات احسن طریقے سے تب سر انجام دے سکتا ہے ، جب اس کو معیاری تعلیم دلوانے کے ساتھ ساتھ اس کی فکری تربیت کا بھی خصوصی انتظام کیا جائے۔ طلباء کی فکری بنیادوں کو مستحکم کئے بغیر ان کا معاشرے کی تعمیر و ترقی کے لئے سودمند اور مفید ثابت ہونے کی توقع رکھنا لغو ہے۔ فکری تربیت کے یوں تو بہت سارے فائدے ہیں، سب سے اہم فائدہ تخلیقی صلاحیت کا پیدا ہو جانا ہے۔ آج کے اس پیشرفتہ دور میں جتنی ضرورت اس کی ہے، اتنی ضرورت کا احساس شاید تاریخ کے سابقہ ادوار میں نہیں تھا۔ تخلیقی صلاحیت سے مراد انسان کی وہ استعداد و صلاحیت ہے، کہ جس کی بدولت وہ نئے نئے آئیڈیاز تخلیق کرتا ہے، اور اس کی بنیاد پر عملی زندگی کے مختلف میدانوں میں نئی نئی چیزیں اختراع کرتا ہے ۔ بلاشبہ آج کا یہ دور ترقی و پیشرفت کا دور ہے، تمام شعبہ ہائے زندگی میں حیرت انگیز اختراعات ہوئی ہیں، یہ ساری اختراعات، ایجادات اور انکشافات تخلیقی صلاحیتوں کا معلول ہیں۔ تخلیقی صلاحیتوں کے اجاگر کرنے میں حوصلہ افزائی کا اہم کردار ہے۔ روزمرہ زندگی میں یہ ہمارا مشاہدہ ہے، کہ جن افراد کو بچپنے میں حوصلہ افزائی ملتی ہے، وہ بڑے ہوکر بےپناہ تخلیقی صلاحیتوں کا مالک بن جاتے ہیں اور اس کا برعکس جن کو چھوٹی عمر میں حوصلہ شکنی سے دوچار کیا جاتا ہے، وہ بڑے ہوکر معاشرہ انسانی میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے بل بوتے پرلائق تعریف خدمات سر انجام دینے سے قاصر و ناتواں دکھائی دیتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے تعلیمی مراکز میں حکومت اور تعلیمی اداروں کے ذمہ دار افراد کی غفلت اور بے توجہی کی وجہ سے طالب علموں کی فکری تربیت کا کوئی ٹھوس انتظام موجود نہیں۔ ہمارے اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز میں صرف اور صرف روایتی انداز اور مغربی طرز فکر کے مطابق پڑھا کر اور کتابوں کو رٹوا کر بچوں اور جوانوں کی استعداد پر کاری ضرب لگا رہے ہیں۔ ان میں سمجھ کی قوت کو پروان چڑھائے بغیر کتابوں کو طوطی وار رٹانا نہ صرف مفید نہیں بلکہ مضر ہے۔ فکری تربیت سے چشم پوشی کرنے کا نتیجہ ہے، کہ آج ہمارے اکثر طالب علموں میں تخلیقی صلاحیت کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ ہمارے طالب علموں کی یہ پوری ذہنیت بنی ہوئی ہے، کہ بس ہم نے کسی نہ کسی طریقے سے امتحانات پاس کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے، ڈگری لینی ہے، پھر اس ڈگری کے ذریعے ہم نے ایک اچھی جاب تلاش کرکے اپنی بقیہ زندگی کے لمحات کو خوش خرم گزارنا ہے۔ جبکہ حصول تعلیم کا ہدف اس سے بہت بلند و ارفع ہے۔ یہ ذہنیت خودی خود ناگہانی طور پر ہمارے متعلمین کے شاداب ذہنوں میں راسخ نہیں ہوئی ہے، بلکہ یہ عرصہ دراز ہماری فکری تربیت سے خالی تعلیمی درسگاہوں میں رہ کر حاصل کی ہوئی خشک تعلیم کا نتیجہ ہے۔ یہی وجہ ہے، کہ ہمارے سکولوں میں ان بچوں اور جوانوں کو اساتذہ ذیادہ پسند کرتے ہیں ،جو بغیر چوں و چرا کے دوسروں کی باتوں کو چپ چاپ قبول کرتے ہیں۔ بدون اشکال و اعتراض اساتذہ کے پڑھائے ہوئے دروس اور دیئے ہوئے لیکچرز سنتے ہیں۔ کچھ سمجھ میں آئے یا نہ آئے کلاس میں وہ خاموشی کے بت بن بیٹھے ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں وہ بچے جو ذیادہ سوال پوچھتے ہیں، سوچنے اور فیصلہ کرنے میں خودمختار ہیں، تمام باتوں کو من و عن چپ چاپ قبول نہیں کرتے ہیں، ہماری درسگاہوں میں ان کا کوئی خاص مقام نہیں ہوتا ہے، ان کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ شہروں سے دور نالہ جات کے سکولوں میں تو فکری تربیت کجا، خود تعلیمی نظام بالکل نہ ہونے کے برابر ہے۔ ٹیچرز ایسے نہیں کہ وہ اسکول سنبھال سکیں، وہ برائے نام اساتذہ تو ہیں مگر ان میں پرائمری اسکول چلانے کی اہلیت نہیں۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے، کہ تعلیمی شعبہ میں ان افراد کی بھرتی میرٹ پر نہیں ہوئی ہے، بلکہ سیاسی اثرورسوخ چلاکر ان کو اہلیت نہ رکھتے ہوئے بھی رشوت لے کر قوم کے غریب نونہالوں کے اوپر مسلط کر دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر غیر حاضر رہتے ہیں۔ اگر اسکول جاتے بھی ہیں تو بچوں کو پڑھا نہیں سکتے ہیں۔ صرف ٹائم پاس کرکے اپنی حاضری لگا کر واپس چلے جاتے ہیں۔ اب بھی وقت ہے تعلیمی اداروں کے ذمہ دار افراد گلگت بلتستان کے تعلیمی مراکز میں تعلیمی مضبوطی کے ساتھ ساتھ طالب علموں کی فکری تربیت کے لئے بھی خصوصی توجہ سے ٹھوس نظام وضع کریں، اور تعلیمی شعبہ انتہائی اہم شعبہ ہے اسے بھی سیاسی رنگ دے کر اس مقدس شعبہ کے ساتھ کھیل کر، اس کی بےحرمتی کرنے والے افراد کو قانونی دائرے میں کھینج کر قانونی سزا دلوانے میں تاخیر نہ کریں۔

About Muhamamd

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*