تازہ ترین

محسن قوم ۔۔ تحریر : ذوالفقار علی کھرمنگی

معاشرے میں استاد کی قدر و منزلت سے انکاری ممکن نہیں.استاد چراغ کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو ڈھلتے اندھیروں میں روشنی دےکر انسان کے وجود کو برقرار رکھتا ہے۔ اُستاد وہ پھول ہے جو اپنی خوشبو سے معاشرے میں امن، مہرومحبت و دوستی کا پیغام پہنچاتا ہے۔ اُستاد ایک ایسا رہنما ہے جو آدمی کو زندگی کی گم راہیوں سے نکال کر منزل کی طرف گامزن کرتا ہے.استاد ایک ایسا سیڑھی ہے جو انسان کو اعلیٰ منزل تک پہنچانے کے لئیے راستہ فراہم کرتا ہے .استاد کی منزلت کے لئیے یہی کافی ہے کہ خدا وندا تعالیٰ نے ہمارے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ کو معلم بنا کر بھیجا.اگر میں یہاں استاد کی صفات و منزلت لکھتے رہے تو شاید میری کالم بہت ہی ذیادہ لمبی چوڑی ہو جائی گی.قارئین یہ نہ سمجھے مجھ میں تعلیم کی کمی ہے یا معلومات سے عاری ہے .الحمداللّہ ایسے استاد کا شاگرد ہوں جس نے مجھے زندگی کے ہر لمحات کی عکاسی کرنے کا فن خوب سکھایا ہے .میری لئیے کالم تحریر کرتے ہوئے جب مشکل پیش آتے ہیں تب میں اپنے استاد محترم کے ان کلمات اور اسباق کو یاد کرتا ہوں جو بڑے پیار و محبت سے انہوں نے ہم تک پہنچائے تھے اس کے بعد کیا ہماری تحریر نوید سحر بن جاتا ہے.جو معاشرہ استاد کی قدر و منزلت کو جانتا ہے وہ معاشرہ علمی و عملی میدان میں ترقی و کامرانی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے.آج میری قوم کی کامیابی کا جب کہیں بھی ذکر ہوتا ہے تو ایک نام القلم پبلک اسکول کا نام آتا ہے.القلم پبلک اسکول کی جب بھی جہاں بھی ذکر ہو جاتا ہے تو ایک نام میرے استاد محترم سر فدا علی صاحب کا چمکتے ہوئے چاند ستاروں کی مانند ظہور ہو جاتا ہے .میں کیوں نہ ناز کروں اپنے آپ پر مجھے ایسے استاد ملا ہے جس نے میری قوم کو زمیں سے عرش پر پہنچا دیا ہے.استاد محترم نہایت ہی ملنسار ,عزت و تکریم کے قابل و ہر شخص کو عزت دینے والا انسان ہے.میرے استاد نے جس طرح القلم پبلک اسکول سکردو کو کوالٹی ایجوکیشن کا بہترین ادارہ بنایا ہے اس کی سکردو شہر میں شایدمثال ملے.میرے استاد کے لئے یہی کافی ہے کہ ان کی وجہ سے باڈر ایریا آف اولڈینگ جیسے پسماندہ علاقے کے نوجوانوں کی پہنچ آج اعلیٰ تعلیمی اداروں تک ہے.میرے علاقے میں تعلیمی کامیابی کا سہرا استاد محترم کے مرہون منت ہے.آج دسیوں ڈاکٹرز ,انجیئنرز ,اور دوسرے شعبے سے منسلک طلباء و طالبات کی بڑی تعداد زیور تعلیم سے آراستہ ہو چکے ہیں .استاد محترم کے کئی شاگرد بیرون ملک اعلیٰ تعلیم و اعلیٰ ملازمت حاصل کر چکے ہیں.ان سب میں میرے استاد محترم کی پوری زندگی کی محنت و عظمت شامل ہے.استاد محترم نے اپنے زندگی کے 23 سے 24 سال اس ادارے کے لئیے وقف کر دیے ہیں .ایک غیر سرکاری ادارے میں اپنے عمر کا بہت بڑا حصہ صرف کرنا ان کی قومی درد رکھنے کی کھلی دلیل ہے .میرے استاد محترم نے مختلف اسکولوں کے مالی فوائد دینے کی پیشکش صرف اس لئیے ٹھکرایا کیونکہ استاد محترم خود حقیقت میں ایک تحریک تھا.ان کا ایک بہترین قومی نظریہ تھا.استاد محترم کے اس نظریے کے بدولت آج ہماری قوم کی پہچان ایک ایجوکیشنل سوسائٹی کے طور پر کی جاتی ہے.کسی محقیق نے کہا تھا کہ استاد خوف بادشاہ نہیں ہوتا بلکہ بادشاہ پیدا کرتا ہے .میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں میرے استاد محترم نے بادشاہیں پیدا کر کے خود شہنشاہ بن گیا۔.

About Muhamamd

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*