تازہ ترین

ریڈیو سیٹ | تحریر عقیل نواز | قسط دوم

جو ں جوں وقت گزرتا گیاریڈیو سے ہماری عقیدت بڑھتی گئی۔سکول سے گھر لوٹتے ہی آنکھیں ریڈیو والے بزرگ کے گھر کی طرف لگی رہتی تھیں اور اس بات کا شدّت سے انتظار ہوتا کہ وہ کب ریڈیو ہاتھ میں تھامے شاہانہ انداز میں باہر تشریف لاتے ہیں۔کبھی کبھار زیادہ انتظار کی نوبت نہیں آتی اور کبھی نا امیدی اور مایوسی کے بادل چھا جاتے۔۔۔ لیکن خدا بھلا کرے اُن کا کہ وہ کبھی ناغہ نہ فرماتے تھے۔۔ لگتا ہے کہ وہ صاحب ہم سے بھی زیادہ اس صوتی مشین کے شیدائی تھے۔
ان صاحب کا ایک اصول تھا کہ وہ ریڈیو کی سماعت کے دوران بچوں کو اپنے آس پاس پھڑکنے نہ دیتے تھے ۔ البتہ ہمارے معاملے میں وہ کبھی با اصول نہ رہے۔شاہد انہیں ہماری عقیدت کا علم تھا ۔۔۔ یا شاید دوسرے بچے شور و غُل سے ان کی سماعت میں مخل ہوتے تھے۔۔۔۔۔ بحر حال شوکت تھانوی کی طرح ہمارا شوق عقیدت کی وادیوں کو چُھوتا ہوا جنون کی منزل تک پہنچ چکا تھا۔
ایک دن بیٹھے بیٹھائے خیال آیا کہ کب تک پرائی چیز پر انحصار ہو۔۔ کب تک انسان دوسروں کی مرضی کے مطابق ریڈیو سُنے۔۔اس زندگی کا کیا فائدہ جب انسان اپنی پسند کا ریڈیو اسٹیشن بھی نہ بدل سکے۔۔کبھی اپنی پسند کا پروگرام نہ سُن سکے۔۔
نتیجاً ہچکچاہٹ ، ڈگمگاہٹ اور جھیجک کے ساتھ دل کے دور دراز کونے پر فیصلہ ہوا کہ کسی مناسب موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے گھر والوں سے ایک عدد ریڈیو کا مطالبہ کیا جائے۔۔
ان دنوں گھر میں صرف حصول علم کے خیال کو غلبہ حاصل تھا۔۔گھر والوں کا خیال تھا کہ ایک طالب علم کا واسطہ صرف کتابوں سے ہونا چاہئے۔اُس کے اُٹھنے ، بیٹھنے ، جاگنے ،سونے کا تعلق بھی صرف کتاب سے ہو۔۔اُسے ہمیشہ امتحان میں اوّل آنا چاہئے۔۔روزانہ سکول سے دیا ہوا کام وقت پر کرنا چاہئے۔۔ اگر ان تمام سرگرمیوں کی انجام دہی کے بعد موقع میسّر آئے تو کبھی کبھار نماز بھی پڑھ لینی چاہئے۔۔لیکن ان ہدایات پر عملدر آمد کے حوالے سے ہم انتہا کے کوتاہ ثابت ہوئے۔لاکھوں مرتبہ کی تنبیہ کے باوجود ہم ریڈیو کی صحبت کو ترک نہ کرسکے۔شاہد اس لئے بھی کہ گھر کی طرف سے ہمیشہ زُبانی احکامات صادر ہوئے ۔کبھی بھی کوئی پُر تشدّد کاروائی اس ضمن میں نہیں ہوئی۔۔ شاید ہمارا ہر امتحان میں اول آنا اس چیز کا مانع بن گیا ۔
اب اس بات کا ادراک تو ہوچکا تھا کہ ایک عدد ریڈیو سیٹ کے بغیر ہماری زندگی ایک بن خوشبو پھول کی مانند تھی۔ اور ہماری حالت ماہی بے آب کی مانند۔۔۔ لیکن مذکورہ ماحول میں اس حوالے سے بات کرنا جوئے شِیر لانے کے برابر تھا۔۔
مگر آتشِ چاہ کی تاب بھی کوئی کم نہ تھی۔۔ ۔لہذا ایک دن جرء ت اظہار کا مظاہرہ ہوا،
جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ دیہاتوں میں بچے والد کے مقابلے میں ماںسے زیادہ مانوس اور نڈر ہوتے ہیں۔ہم نے بھی اس دائو کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔ایک دن ابا جی کی غیر موجودگی میں ہم نے کسی نہ کسی طریقے سے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ حسبِ توقع گھر والے ہماری انوکھی فرمائش پر نہ صرف خوب ہنسے بلکہ ہمیں ریڈیو والے بزرگ کے نام سے بھی فیض یاب کیا۔اور ہماری اس گستاخانا حرکت کو ان کی صحبت کا نتیجہ قرار دیا۔اُس طرف بات ہنسی مذاق پر ختم ہوگئی اور اِس طرف بے چینی اور اضطراب کی انتہا ہوگئی۔۔۔ اپنی کامیابی کے امکانات کہیں نظر نہیں آرہے تھے۔ سو ہم نے بھی مصلیحتاً اپنی خواہش کو اپنے قلب میں ہی دبایے رکھنے کا فیصلہ کیا۔۔ دوسری طرف ریڈیو والے صاحب کی خدمت میں حاضری کو یقینی بناتے رہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔

About Khayal

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*