تازہ ترین

غیر قانونی ٹیکسز کی مخالفت بھی غداری ہے؟ تحریر : شیرنادر شاہی

گلگت بلتستان پچھلے کئی ہفتوں سے احتجاجی مظاہروں، ہڑتالوں اور لانگ مارچ کی زد میں ہے اس کی بنیادی وجہ عوامی ووٹوں سے منتخب ہو کر ایوانوں میں پہنچنے والے نام نہاد نمائندوں کی غفلت اور عوام سے زیادہ اپنے آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے مسائل سے رو گردانی اختیار کرنا ہے، عوامی نمائندوں کا کام عوام کی ترقی و خوشحالی کے لئے کام کرنا، ان کے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی کے خلاف آواز اٹھانا، ان کے حقوق ان کی دہلیز تک پہچانا ، ان کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے علاوہ ان کے خلاف ہونے والی بیرونی شازشوں کا سینہ تان کر مقابلہ کرنا ہوتا ہے اور اسی لئے عوام اپنا ضمیر(ووٹ) ان نمائندوں کو دے دیتے ہیں لیکن بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں سارا نظام اس کے برعکس ہے الیکشن کے دنوں میں گھر گھر جا کر عوام کے ساتھ جھوٹے وعدے اور سہانے خواب دکھا کر اسمبلی تک پہنچنے والے جیتنے کے بعد عوام کے حقوق کا تحفظ کرنے کے بجائے ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے لگتے ہیں اور ان کی نمائندگی کرنے کے بجائے اپنے آقاؤں کے ساتھ مل کر عوام کش پالیسیاں بناتے ہیں اور جب عوام اس کی مخالفت کرتے ہیں تو یہ اس حد سے گزر جاتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں عوامی ایکشن کمیٹی نے گندم سبسڈی خاتمے کے خلاف بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا کیونکہ یہ گلگت بلتستان کے عوام کا بنیادی حق تھا اور پچھلے ستر سالوں سے صرف گندم سبسڈی کے لئے اپنی آزادی قربان کرنے والی قوم کے سر سے سبسڈی بھی اٹھ جائے تو ہمسایہ ریاست کا کونسا احسان یاد کرنے کے قابل رہ جاتا ہے ، ہفتوں تک روڑ پر دھرنے دینے والے عوام کو حکومت وقت نے غدار اور ایجنٹ جیسے القابات سے نوازا اور ان پر دیگر الزامات بھی لگائے گئے حالانکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ نام نہاد صوبائی حکومت کے منتخب نمائندے وفاقی حکومت سے خود یہ التجا کرتے کہ سبسڈ ی کا خاتمہ عوام دشمنی کے مترادف ہے کیونکہ گلگت بلتستان کے عوام پہلے ہی غربت کی چکی میں پس رہے ہیں اگر سبسڈی ختم ہوا تو لوگ بھوکے مر جائیں گے لیکن اس کے برعکس مہدی سرکار نے عوام کے خلاف ہی فیصلہ سنا دیا لیکن سلام ایکشن کمیٹی اور عوام کو جو اپنے مطالبات سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے اور بالآخر حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑیں اور مطالبات منظور کر دیئے۔
پچھلے ایک ماہ سے گلگت بلتستان کے عوام ایک بار پھر اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے اپنوں اور غیروں کے ظلم و ستم کے سامنے بھرپور احتجاج کر رہے ہیں اور پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی و جمہوری حق ہے ایک طرف حکومت نے متنازعہ خطے کے غریب عوام پر ”No taxation without representation“ کے عالمی قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ٹیکس ایڈپٹیشن ایکٹ کی مد میں غیرقانونی اور غیر آئینی ٹیکسز مسلط کی ہیں اوپر سے پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف دن بدن نت نئے پروپیگنڈے بھی کر رہی ہیں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وزیر اعلیٰ اور دیگر ممبران اسمبلی خود بخود ایسے عوام کش پالیسیوں کے خلاف وفاقی حکومت کے سامنے سراپا احتجاج بنتے اور یہ باور کراتے کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے اور اس علاقے پر پاکستانی آئین کا اطلاق نہیں ہوتا تو یہاں ٹیکسز کا نفاذ عالمی قوانین کی خلاف ہے لیکن ایسے جرات مندانہ اقدام نام نہاد عوامی نمائندوں سے رکھنا فضول ہیں کیونکہ یہ عوام کے بجائے اپنے آقاؤں کی خوشنودی کے لئے کس حد تک جاسکتے ہیں اس کا اندازہ وزیر اعلیٰ، وزراء، ممبران اسمبلی حتیٰ کہ میڈیا کوارڈینٹرز کے مسلسل غیر سنجیدہ بیانات، الزامات اور نامناسب باتوں سے واضح ہوگیا۔ وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان اور ان کی کچن کیبنٹ کی طرف سے عوامی ایکشن کمیٹی، انجمن تاجران اور عوام گلگت بلتستان پر لگائے جانے والے الزامات افسوسناک ہیں کیونکہ خطے کے اندر اٹھنے والی پرامن تحریک کے مطابات حل کرنے کے بجائے ان کو بیرونی ایجنڈا اور تحریک کے مقامی رہنماؤں کو بیرونی ایجنٹ قرار دینا غلط حرکت ہے اور ان کے نتائج بھی برے آ سکتے ہیں کیونکہ پاکستانی حکمرانوں اور ان کے مقامی آلہ کاروں نے اسّی کی دہائی میں حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی پرامن قوم پرست تحریکوں کے قائدین پر بھی اسی طرح کے بے ہودہ الزامات لگایا تھا تاکہ عوام ان سے دور رہے لیکن یہ حکومت اور ریاست کو مہنگا پڑ گیا کیونکہ آج نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ان تحریکوں میں شامل ہیں اور ان کے نظریات کو تقویت مل رہی ہے جبکہ حکومتی جھوٹے الزامات بے بنیاد ثابت ہورہے ہیں لیکن اس وقت حکومت بجائے الزامات لگانے کے ان تحریکوں کے جائز مطالبات پوری کرتی یا ان قوم پرستوں کو مناتی تو آج حالات بالکل مختلف ہوتے۔ آج پاکستان مسلم لیگ کی مقامی حکومت عوامی ایکشن کمیٹی کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے حالانکہ ان کے مطالبات بالکل جائز اور عالمی قوانین کے مطابق ہیں کیا متنازعہ علاقے میں ٹیکسز کا نفاذ قانونی ہے؟ کیا آئین میں شامل کئے بغیر پاکستان کے اسمبلیوں میں نمائندگی دیئے بغیر ٹیکسز لگانا جائز ہے؟ کیا حکومت خود گلگت بلتستان کو متنازعہ نہیں سمجھتی؟ اگر گلگت بلتستان متنازعہ ہےاور پاکستان کی قومی اور صوبائی اسمبلی میں یہاں کے دو ملین عوام کی نمائندگی نہیں ہے تو پھر جابرانہ ٹیکسز کا نفاذ کس قانون کے تحت؟ اور ان غیر قانونی ،جابرانہ و غنڈہ ٹیکسز کے خلاف آواز اٹھانے والے پرامن عوام بیرونی ایجنٹ یا غدار کیسے؟
حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنی ناکامیوں اور غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے غیر قانونی ٹیکسز کو فی ا لفور ختم کر ے اور پرامن عوام پر فرقہ واریت اور بیرونی ایجنٹ ہونے کے الزامات لگاکر انہیں بدنام کرنے اور اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے بجائے اپنے آمرانہ رویے پر عوام سے معافی مانگیں۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*