تازہ ترین

گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

اسلام آباد( نمائندہ خصوصی) گلگت بلتستان میں ٹیکسز کی نفاذ کے خلاف حالیہ احتجاج اور لانگ مارچ کے بعد گلگت بلتستان کے نوجوانوں میں بیداری کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔ احتجاجیوں کو ملکی میڈیا میں کوریج نہ ملنے پر نوجوانوں طبقہ مایوس نظر آتا ہے۔ اس حوالے سے ہم نے مختلف سوشل فورم وٹس ایب اور فیس بُک گروپ کے علاوہ کراچی اور اسلام میں میں احتجاج کرنے والوں نے اس مسلے کی حل کیلئے رائے معلوم کیا نوجوانوں کے جذبات نے حیران کردیا۔ تقریبا 1500کے قریب یوتھ اور گلگت بلتستان کے اہل فکر طبقہ سے یہی سوال کیا تو چند ایک کے علاوہ سب کی یہی رائے تھی کہ حفیظ الرحمن ٹیکس پر ہفتوں سبق یاد کرکے گھنٹوں عوام کو لیکچر دینے کے بجائے تمام مسائل کا ایک مستقل حل جس میں قانونی جواز بھی موجود ہے اُس پر توجہ دیں تو گلگت بلتستان میں نہ صرف ٹیکس کا معاملہ حل ہوسکتا ہے بلکہ سی پیک کے تناظر میں گلگت بلتستان کو حکومت کی توقع سے ذیادہ فائدہ ہوگا۔ سروے میں ذیادہ تر افراد کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت پر کسی کو انکار نہیں مملکت پاکستان گلگت بلتستان کو اس لئے صوبہ نہیں بنا پارہا ہے کیونکہ یہ خطہ مسلہ کشمیر سے منسلک ہے اور کشمیر ی سمیت اقوام متحدہ کے چارٹرد میں بھی گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت واضح ہے ایسے میں وہ تمام قوانین جو بھارت کے زیر انتظام کشمیر اور آذاد کشمیر میں نافذ ہیں اُن قوانین کا گلگت بلتستان میں معطل ہونا سوالیہ نشان ہے۔ کیونکہ جب صوبہ نہیں بن سکتا تو قوانین بھی متنازعہ حیثیت کے مطابق بین الاقوامی معاہدات کے مطابق نافذ ہونا چاہئے لیکن گلگت بلتستان والے اس وقت نہ تین میں شامل ہیں اور نہ تیرہ میں ۔ ایسے وقت کی ضرورت ہے کہ اس خطے میں بھی قانون باشندہ سٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزی کو روک کر یہاں متنازعہ حیثیت کی بنیاد پر نظام کی تشکیل دیں ورنہ یہ معاملہ مستقبل میں مزید گھمبیر صورت حال اختیار کرسکتاہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*