تازہ ترین

ضلع کھرمنگ یونین کونسل مہدی آباد میں LGDR پروجیکٹس کی غیر منصافانہ تقسیم ،متاثرین کی جانب سے متعلقہ ایکسن کے خلاف کاروائی نہ ہونے کی صورت میں عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ ۔

کھرمنگ ( نمائندہ خصوصی) ضلع کھرمنگ یونین کونسل مہدی آباد میں لوکل گورنمنٹ LGRD کے تحت منظور ہونے والے ترقیاتی اسکیموں میں ناانصافی کی وجہ سے موضعات غاسنگ ،آخونپہ، منٹھوکھا،منٹھو نالہ،گورق،رونگول کے عوام میں غم اور غصہ پایا جاتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق یونین کونسل مہدی آباد میں کُل 8یونین ممبران ہیں جس میں سے چار مہدی آباد 2غاسنگ 1 منٹھوکھا اور 1منٹھو نالہ پر مشتمل ہیں ۔ جبکہ یونین کونسل کی سطح پر تقسیم میں بھی باثر افراد کی جانب سے من مانی کرتے ہوئے مہدی آباد کے تمام محلوں کو الگ الگ کرکے اندراجکیا ہوا ہے جبکہ غاسنگ جوچار بڑے محلوں پر اور منٹھوکھا دو بڑے محلوں جبکہ منٹھونالہ ،گورق اور رنونگول پر مشتمل الگ الگ گاوں ہونے کے باوجود یونین کونسل کے کاغذات میں صرف ایک ایک گاوں کے طور پر درج ہیں۔ عمائدین علاقہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاہے کہ اس کی اصل وجہ ترقیاتی پروجیکٹ میں ان علاقوں کو نذر انداز کرنے کی سازش ہے جو ہمیں قبول نہیں، عمائدین علاقہ نے حالیہ پراجیکٹ کی تقسیم سے حوالے سے شکوہ کیا ہے کہ یونین کونسل مہدی آباد کیلئے ٹوٹل 22اسکیم منظور ہوئے ہیں جس میں موضع غاسنگ کیلئے صرف ایک اور موضع منٹھوکھا کیلئے صرف دو جبکہ دیگر گاوں کو مکمل طور پر نظرانداز کرکے باقی 19پروجیکٹس کو صرف مہدی آباد کیلئے الاٹ کرنے میں ایکسن مظاہر اور مقامی سیکرٹیری محمدعلی براہ راست ملوث ہیں جو اپنے مذموم مقاصد کیلئے غاسنگ منٹھوکھا اور مہدی آباد کے عوام میں آپس کی بھائی چارگی کو تار تار کرنا چاہتے ہیں۔ اُنکا مزید کہنا تھا کہ ہمارے عوام نے ہر دور میں مہدی آباد کیلئے قربانیاں دی ہے لہذا مخصوص افراد کی جانب سے اس قسم غیر منصفانہ روئے پر مہدی آباد کے قومی سرکردگان کو سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہیتاکہ ہمارے ساتھ ناانصافی نہہو۔ عمائدین غاسنگ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ہمارا مہدی آباد کے عوام اور اچھے خیالات کے ذمہ داران سے کوئی شکوہ نہیں لیکن کچھ عناصر جو حقیقت میں مہدی آباد کے بھی خیرخواہ نہیں وہ لوگ ہمیشہ سے سرکاری عہدوں کا غلط استعمال کرکے قومی ہمدردی کے نام پر مہدی آباد کو بدنام کرانا چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ نئی نسل میں ایک منفی سوچ پیدا ہوئی ہے جس کا ازالہ انتہائی ضروری ہے۔اُنکا یہ بھی کہنا تھا بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ آج ہماری نئی نسل کا ماضی کے ظلم ذیادتیوں پر آواز اُٹھانا بھی بُرا لگتا ہے اور حالیہ اسکیم کی تقسیم کے معاملے سے یہ بات واضح ہوگیا کہ یہاں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس والا قانون چلتا ہے۔ اُنہوں مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ اس تمام اسیکموں کی کلعدم قرار دیکر پہلے عوامی مطالبے کے تحت جو اسکیم رکھا تو اس پر عمل درآمد کرتے ہوئے از سر نو جس تقسیم کو یقینی بنائیں اور ایکسن حسین اور محمد علی کے خلاف قانونی کاروائی کریں ایسا نہ ہونے کی صورت میں ہم اہلیان غاسنگ تا رونگول انصاف کی حصول کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوں۔ اُنہوں نے کمشنر بلتستان ، دپٹی کمشنر کھرمنگ، ڈائریکٹر LGRD اور سیکرٹیری لوکل گورنمنٹْْْْْ سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس قسم کے ناانصافیوں کی سدباب کیلئے یونین کونسل مہدی آباد کی از سرنو آبادی اور محلے کے حساب سے تشکیل نوکریں یا غاسنگ تا ہلال آباد کو ملا کر ایک یونین کونسل کا درجہ دیں تاکہ مسلسل عوامی محرمیوں کا ازالہ ہوسکے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*