تازہ ترین

گلگت بلتستان-جابرانہ ٹیکسز کا نفاذ اور عوامی رد عمل۔ تحریر: ایس ایم شاہ

حکومت کی جانب سے دوسری مرتبہ وعدہ خلافی نے عوام کو تیسری مرتبہ سڑکوں پر لے آیا۔ اب حکمرانوں سے عوام کا اعتماد مکمل طور پر اٹھ چکاہے۔ کئی مرتبہ تسلسل سے بڑے شدّو مدّسے وعدے کیے گئے مگر ایک پر بھی ابھی تک عملدرآمد نہ ہوسکا۔ یہاں کے عوام کا کہنا ہے کہ جب تک ہماری آئینی حیثیت کا تعین نہیں ہوگا تب تک ہم کسی قسم کا ٹیکس نہیں دیں گے۔لیکن حکومت بلکل برعکس سمت جاری ہے۔ وزیر اعظم جناب خاقان عباسی تو یہاں کی عوام سے بہت ہمدردی رکھتے ہیں۔ ان کے برسراقتدار آتے ہی گلگت بلتستان کا ایک اعلی سطحی وفد جب ان سے خصوصی ملاقات کے لیے گئے اور اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ ہمارا تعلق جی بی اسمبلی سے ہے تو جناب والا نے بڑے معصومانہ انداز سے تعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ نام میں پہلی بار سن رہا ہوں۔ سلام ہو ایسے سربراہان مملکت پر، ان کی معلومات پر اور ان کی دلچسپیوں پر۔ اب آئینی حقوق کا معاملہ تو تحت الشعاع میں چلا گیا ہے۔ تقریبا تین سال کا عرصہگزر جانے کے باوجود جناب سرتاج عزیز کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی ابھی تک ایک رپورٹ بھی وزیر اعظم کو نہ بھیج سکی۔ آگے تو اللہ ہی حافظ ہے۔ وزیر اعظم نے25پچیس اکتوبر2017ء کو اپنے سکردو کے طائرانہ دورے میں تمام ٹیکسز کے خاتمے کا اعلان کیا تھا لیکن کچھ دن بعد ہی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان جناب برجیس طاہر نے شہید اشرف نور کے گھر حاضری کے دوران برملا کہہ دیا کہ اب ٹیکسز کا خاتمہ ہمارے ہاتھ میں نہیں۔ آخر یہاں سوال پیش آتا ہے کہ پھر کس کے ہاتھ میں ہے۔ آپ تو عرصہ دراز سے یہاں کے اقتدار کے مزے لے رہے ہیں۔ وزارت کے ساتھ ساتھ گورنری پر بھی قبضہ جما چکے ہیں۔ غور طلب امر یہ ہے کہ در اصل گلگت بلتستان کا مکمل زمام اقتدارو انصرام وزیر امور کشمیر اور چیف سیکریٹری کے پاس ہےلیکن بدقسمتی سے ہمیشہ یہ دونوں غیر مقامی ہی ہوا کرتے ہیں۔ باقی سب ان کے دست نگر ہوتے ہیں۔ان کو ہمارے مسائل کے حل سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ان کو صرف اپنے اقتدار کی فکر ہے۔یہی ہماری بدبختی کی بنیادی وجہ ہے۔ گویا پورا گلگت بلتستان ایک نصف وزیر(امور کشمیر،گلگت بلتستان) کے زیر نگیں ہے۔
اب تو ڈپٹی کمشنر گلگت کی جانب سے آغا سید راحت حسین الحسینی سمیت کئی بزرگ علما کے نام نوٹس جاری کیا گیاہے، جس کے تحت ان سے کہا گیاہے کہ کسی بھی وقت دہشتگردی کا واقعہ رونماہوسکتا ہے لہذا زیادہ غیر ضروری سرگرمیوں میں دلچسپی نہ لیں۔ آغا سید راحت حسین الحسینی نے دبنگ لہجے میں اس کا جواب دیا ہے اس کاہم یہاں ذکر نہیں کریں گے۔ یہ اینٹی ٹیکس مومنٹ کو کمزور کرنے کی ناکام کوشش ہے۔لیکن ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم کسی سے ڈرنے والے نہیں ۔ یہ نوٹس دیکھتے ہی مجھے ڈیڑھ سال پہلے کا ایک واقعہ یاد آیا۔ میری ملاقات گلگت پریس کلب کے سربراہ سے ہوئی تو فورا میں نے ان سے پوچھا سر جی! آج کل اچانک گلگت کے حالات کیسے سدھر گئے،جبکہ کچھ ہی عرصہ پہلے یہاں کے حالات ناگفتہ بہ تھے، مسلکی بنیادیں بہت ہی مضبوط ہوگئی تھیں، یہاں تک کہ نو گو ایریاز قائم ہوگئے تھے، ایک دوسرے کے قتل کے درپےہوتے تھے اور اب اچانک لوگ آپس میں کیسےشیر و شکر ہوگئے؟ تب انھوں نے مسکراہٹ کے ساتھ دوٹوک الفاظ میں کہا شاہ جی! میں آپ کو گارنٹی دیتا ہوں کہ مزید دس سال تک گلگت میں ایک پرندہ بھی نہیں مرے گا۔میں نے تعجبانہ لہجے میں پوچھا آپ کیسے کہ رہے ہیں اتنے بے باک ہوکر؟ تب انھوں نے کہا حقیقت یہ ہے کہ ہم سب عرصہ دراز سے بغیر کسی مسلکی تفریق کےایک دوسرے کے ساتھ برادرانہ زندگی گزارتے آئے ہیں،ہمارے آپس کی رشتے داریاں ہیں لیکن دشمن ان باتوں کو برداشت نہیں کرپاتے۔ اگر ہم متحد رہیں گے تو آئینی حقوق کے لیے قدم بڑھائیں گے، حکومتی مظالم کے خلاف آواز اٹھائیں گے، اپنے حقوق کے حصول کے لیے سب یک جاں ہوکر کوشش کریں گے، جس سے حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائے گی۔ حساس ادارے بھی نہیں چاہتے کہ ہم ایک ہوکر رہیں، ورنہ ان کے مقاصد پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پائیں گے۔ یہی لوگ ہمارے درمیان تفرقہ ڈال رہے ہیں۔ لیکن اب یہاں امن و امان کی بحالی ان کی مجبوری بن گئی ہے۔ کثیر المقاصد اقتصادی راہداری منصوبہ طے پایا ہے، جس میں چین نے حکومتی سکیورٹی پر عدم اعتماد ظاہر کرنے کے باعث پاک فوج نے یہ ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ لہذا اب حالات بہتر ہی رہیں گے۔ ان کا یہ تجزیہ سوفیصد صحیح ثابت ہورہا ہے۔ اب جب اینٹی ٹیکس مومنٹ زوروں پر ہے، دشمن پھر سے یہی کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح ہمارے درمیان پھوٹ ڈالا جائے۔لہذا ایسے حالات میں یہاں کی عوام کو بہت ہی محتاط انداز میں آگے بڑھنےکی ضرورت ہے۔ یقینا اس سخت سردی میں سڑکوں پر نکلنا بہت ہی مشکل کام ہے، بہت سارے بیمار بھی پڑ سکتے ہیں، کاروباری مراکز بند رہنے کے باعث بہت ساروں کا نقصان بھی ہوسکتا ہے لیکن یہ ایک الہی وعدہ ہے کہ مشکلات کے بعد ہی آسانیاں ہیں۔ ہم اب مشکلات برداشت کریں گے تو کل کو ہماری نسلیں ہمارے حق میں دعائیں دیتی رہیں گی اور ہمارا مستقبل تابناک ہوگا۔ آخر میں ہمارا سلام ہو یہاں کے علمائے کرام، عمائدین ملت اور اس اہم موڑ پر ان کا ساتھ دینے والے سیاسی نمائندوں ، بالخصوص عوامی ایکشن کمیٹی کے سربراہ جناب شاہ سلطان رئیس اور تاجر برادری سکردو کے سربراہ جناب غلام حسین اطہر اور ان دونوں کے ساتھیوں سمیت گلگت بلتستان کی عوام پر جو کسی بھی حکومتی دھمکیوں کو درخور اعتنا میں لائے بغیر میدان عمل میں کمربستہ ہوکر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے ہیں۔ان شاء اللہ آخر میں فتح حق کی اور شکست باطل کی مقدر ہے۔

About admin

One comment

  1. گلگت بلتستان میں سیاحت

    محقق:عبدالحسین آزاد03405697622

    نگران تحقیق :میڈم ڈاکٹر آزادی فتح محمد
    شعبہ :ابلاغ عامہ

    وفاقی اردو یونیورسٹی عبدالحق کیمپس کراچی
    (25/11/2017ء)
    بسم اللہ الرحمنٰ الرحیم
    تلخیص
    گلگت بلتستان پاکستان کی ایک انتظامی اکائی ہے۔ جو مملکت خدادپاکستان کے شمال میں واقع ہے۔ گلگت بلتستان72971 مربع کلو میٹر پر محیط قرہ ارض کا بلند اور خوبصورت و نمائیاں خطہ ہے۔ گلگت بلتستان کی سر زمین زیادہ تر پہاڈی سر زمین ہے۔ یہ خطہ اپنی اندر پائی جانے والی منفرد خصوصیات کی بدولت دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے اور دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس خطے میں چاروں موسم اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نمودار ہوتے ہیں اور اپنا پورا اثر دیکھاتے ہیں جو کہ شاید کہیں اور دیکھنے کو نہ ملے۔ خطہ گلگت بلتستان ہی کی سیاحت کی بدولت پاکستان میں سیاحت کا ادارہ مظبوط اور فعال ہے۔ سیاحت ایک ایسا شعبہ ہے جو پاکستان کو نہ صرف بے رونی ممالک سے نمائیاں کرتاہےبلکہ ملکی معاشی ااستحکام کا بہت بڑا وسیلہ بھی ہے۔ قرہ ارض کا یہ خطہ گلگت بلتستان ہے جہاں قدرتی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ دنیا کے مشہور بڑے پہاڈ،گلیشرز اور قرہ ارض کا بلند ترین خطہ دیوسائی بھی ہے۔ ان پہاڈوں میں کے ۔ٹو، نانگا پربت اور مشہ بروم مشہور ہیں۔ قدرتی دلکشی اور خوبصورت مقامات کے ساتھ ہی ساتھ اس علاقے کی منفرد اور دلفریب ثقافت اور مقامی روایات ایک الگ پہچان رکھتی ہیں۔ جن میں ہنزہ،سکردو،گلگت،چترال اور استورکی مقامی ثقافت اور روایات شامل ہیں۔ ان علاقوں کی دستکاری ،مقامی روایات اور پوشاک بھی سیاحت کو فروخ دینے میں کلیدی کردار کی متحمل ہیں۔ سیاحت کا مطلب تفریح، صحت افزائی ،اطمنان بخشی یا قدرتی نظاروں کو دیکھنے کے مقاصد کیلے سفر کرنا ہے۔ سیاحت 2011کے بعد ایک فعال اور عالمی تفریحی ادارے کے ساتھ ساتھ بہترین ذریعہ معاش کا ادارہ بن چکا ہے۔ جس سے کسی ملک کی معاشی صورتحال میں یکسر تبیدیلی رونما ہوتی ہے۔ گلگت بلتستان میں پائی جانے والی جنگلی حیات اور جڑی بوٹیاں بھی اپنے متعلقہ شعبہ کے افراد اورعالمی ریسرچرز کو دعوت سخن دے رہی ہیں۔ خطہ گلگت بلتستان کی حساس اور دفاعی جغرافیہ بھی سیاحوں کی آمد اور سیاحت کےاس ادارے کو مضبوط کررہی ہیں۔ یہ خطہ دنیا کے دو سب سے بڑے ممالک جن کی آبادی پوری دنیا کی نصف آبادی پر محیط ہے چین اور بھارت کے عین سنگم پر موجود ہے۔ دنیا کی پرانی تجارتی اوربلند ترین شاہراہ ریشم جو اب شاہراہ قراقرم کے نام سے مشہور ہے جو پاکستان چین اور پاکستان بھارت کو ایک دوسرے سے ملاتی ہے اگر پاکستان انڈیا کے ساتھ کھرمنگ سکردو بارڈرتجارت کیلے کھولے تو۔ خطہ گلگت بلتستان قدرتی ، ثقافتی،معاشی،اقتصادی اور سیاحتی دولت سے مالامال خطہ ہے۔ مگر اس عالمی اہمیت کے ہامل خطے کو اجاگر کرنے کیلے پاکستان کی حکومت اور پاکستانی میڈیا نے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔میڈیا میں سیاحت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی۔ سوشل،الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا میں ڈاکومنڑی فلمز،ایسپیشل رپورٹس،کالمز،آرٹیکلزاور خبروں کی صورت میں سیاحت کو فروخ دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے تمام میڈیا چینلز اور دیگر اداروں نے سیاحت کے فروخ کیلے اور اس شعبہ کو اور سیاحت کے ادارے کو مضبوط بنانے کیلے اپنا کردار آداکیا۔ میگزیئنز اور ڈایئجسٹس میں بھی خصوصی رپورٹس سیاحت گلگت بلتستان کے حوالے سے شائع ہوتی ہیں۔عالمی میڈیا میں بھی رپورٹس اور کالمز سیاحت گلگت بلتستان کی اہمیت پر دی جاتی ہیں۔گلگت بلتستان چائینہ،فرانس اور جرمنی میں ہر سال منعقد ہونے والے سیاحت اور ثقافت کے سیمینارز میں پاکستان کی نمائیندگی کر تا ہے ۔
    تعارف
    پاکستان کا شمار ان چند ممالک میں سے ایک میں ہوتا ہے۔ جہاں سیاحت کے بے پناہ مواقعے پائے جاتے ہیں۔ پاک سرزمین قدرت کا ایک ایسا طوفہ ہے کہ جس کی جتنی قدر کی جائے اور ذات باری تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔پاکستان براعظم ایشیاء کا ایک ایسا ملک ہے جو اپنی جغرافیائی اہمیت،خوبصورت خطوں اور زرخیزی کی بدولت نہ صرف ایشیاء بلکہ پوری دنیا میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔پاکستان قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ہے۔یہاں ایڈونچرٹورارزم ،قدرتی خوبصورتی،مذہبی سیاحت،معدنیاتی تحقیقاتی سیاحت،تاریخی سیاحت،جنگلی حیاتیاتی سیاحت،جنگی اور مہم جوئی سیاحت کے مواقعے میسر ہیں۔دنیا بھر میں پاکستان سیاحت کیلے اپنا ایک الگ اور منفرد مقام رکھتا ہے۔پاکستان جغرافیائی لحاظ سے ایشیاء کے وسط میں ایک ایسی جگہ واقعہ ہے جہاں دلفریب وادیاں،بستیاں،شہر اور دیہات ہیں۔ پاکستان کی جانب ہرسال لاکھوں کی تعداد میں بیرونی ممالک سے سیاح رخ کرتے ہیں۔یون تو پاکستان میں سیاحتی مقامات کی کمی نہیں مگر پاکستان کے شمال میں واقع جنت نظیر خطہ گلگت بلتستان کا شمار نہ صرف پاکستان کے اہم مقامات میں ہوتا ہے بلکہ دنیاکے اہم سیاحتی مقامات میں شمار کیا جاتاہے۔ خطہ گلگت بلتستان کوقرہ ارض کا بلند ترین خطہ ہونے کا اعزازحاصل ہے۔ جہاں خوبصورت وادیاں،دریا،ریگستان،گلیشرز،پہاڈ،وادیاں،گاؤؤں،بلند وبالا پہاڈ،لہلاتے کھیت،سرسبز میدان،چراگاہیں،پر سکون اور تازہ آب وہوا قدرت کی انمول نشانیاں دیکھنے کو ملتی ہیں اور ایک لمحے کیلے انسان اپنا سر جھکا کر اس عظیم رب کی تخلیق کار پر اس کی باگاہ میں سجدہ ریز ہوجاتا ہے۔ یہی خوبصورت اور دلکش مقامات دنیا کی نظریں اپنی جانب مرکوز کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ 72971مربع کلومیٹرپر محیط یہ خطہ گلگت بلتستان ایک وسیع و عریض خطہ ہے۔ خطہ گلگت بلتستان پاکستان کا وہ واحد صوبہ ہے(بلکہ یوں کہیں ایک اکائی ہے جس کوآزادی کے 70سال بعد بھی اپنی مکمل آئینی شناخت نہیں ملی۔پاکستان کی طرف سے اس کی قربانیوں کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ 70سال بعدبھی یہاں کے محب وطن لوگ اپنے حق رائے دہی کے استعمال سے محروم ہیں اور سینیٹ اور قومی اسمبلی میں ان کی کوئی نمائندگی نہیں۔یہ تو ان کی محب وطنی ہے کہ وہ آج بھی محب وطن بن کر پاکستان کی حفاظت اور بقاء کی جنگ میں پیش پیش ہیں) خطہ گلگت بلتستان پاکستان کا وہ واحد صوبہ ہے جس کی سرحدیں دنیا کے چار اہم ممالک اور پوری دنیا کی آبادی کا ایک تہائی آبادی رکھنے والے ممالک چین،بھارت،افخانستان اور تاجکستان سے ملتی ہیں۔گلگت بلتستان کی سیاحتی اہممیت کے ساتھ ساتھ دفاعی،اقتصادی،معاشی اور کاروباری اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
    تاریخ کے اووراق کو ٹٹولنے سے یہ راز بھی کھل کے سامنے آجاتا ہے کہ گلگت بلتستان میں پہلا قدم انسانوں کی بجائےجنات نے رکھا۔جب حضرت سلیمانؑ کی حکومت تھی مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک پوری دنیا کے انسانوں اور جنوں پر۔اس وقت آپ کی حکومت کے نافرمان جنوں کو سزا دے کر اس خطے میں نظر بند کیا جاتا تھا ۔
    نویں صدی چایئنہ کا فاہیانگ نامی ایک سیاح جس نے سر زمین گلگت بلتستان میں سیاحت کی غرض سے قدم رکھا۔اس وقت ریاست گلگت بلتستان کا نام پلو تھا اور پلو نامی یہ ریاست پورے گلگت بلتستان میں پھیلی ہوئی تھی۔ریاست گلگت بلتستان کی جغرافیائی اور دفاعی اہمیت کے پیش نظرر 1869ءمیں بر طانیہ نے اپنی فوجیں سرزمین اتاری اور پہلی برٹش فوجی چھاونی کا قیام عمل میں لایا گیا۔کیونکہ اس وقت برصغیر اور چین میں برطانیہ کا راج قائم تھا اورروس اس وقت کی سپر طاقت بھی اپنی فوجیں اس خطہ گلگت بلتستان میں اتارنا چاہتے تھے تاکہ وہ برصضیر اور چایئنہ سے برطانوی تاج کا خاتمہ چاہتے تھے۔ کیونکہ چین اور برصغیر کو یہاں سے آسانی سے کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔ اس خطے سے دنیا کے بیشتر ممالک کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔1874ء میں برطانیہ نے مزید فوجیں اتاری اور 1880ءمیں گلگت بلتستان میں مکمل کنٹرول حآصل کرنے میں کامیاب ہو گیااور اپنی حکومت قائم کی جو یکم نومبر 1947ء تک جاری رہی۔ اور یکم نومبر 1947ء کو مقامی مجاہدین کی طویل جدوجہد کے بعد آزادی حآصل کرنے میں کامیاب ہوگئےاور پاکستان کے ساتھ الحاق کیا اور پاکستان کا حصہ بن گئے۔
    گلگت بلتستان کی سیاحت کی وجہ سے پاکستان کی سیاحتی انڈسٹری فعال اور سرگرم ہے۔ہر سال بیلیئن کی تعداد میں سیاح پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔ دنیا بھر سے سیاحوں کی آمد سے ملک کا ایک اچھا اثر بیرونی دنیا میں قائم ہوجاتاہے۔ پاکستان آنے والے سیاح میں سے سے اکثر سیاح سرزمیں گلگت بلتستان کی پر سکون فضاء اور خوشگوار ماحول سے لطف اندوز ہونے کیلے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ پاکستان کا مالی استحکام میں اور معاشی ترقی میں سیاحت کا اتنا ہی کردارہے جتنا تجارت کا ہے۔ مگر بد قسمتی سے پاکستان میں سیاحت کی انڈسٹری اس قدر فعال نہیں جس قدر ہونی چاہیے تھی۔ یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان کی سیاحت بھی خراب حآلات،نا کافی سہولیات،حکومت کی نااہلی اور نا مناسب اقدامات کی وجہ سے سیاحت کا ادارہ ترقی کے وہ منازل طے نہیں کرسکا ۔
    گلگت بلتستان کے اضلاع
    سکردو گلگت
    غذر استور
    کھرمنگ شگر
    ہنزہ نگر دیامر
    گانچھ
    گلگت شہر صوبہ گلگت بلتستان کا مرکز ہے اور اس کے تین ڈویژن ہیں گلگت ڈویژن ، بلتستان ڈویژن اور دیامر ڈویژن

    گلگت بلتستان کے اہم سیاحتی مقامات جو ملکی اورعالمی سطح پر مشہور ہیں
    شنگریلا سیاچن
    ہنزہ دیوسائی
    راما سدپارہ
    قلعہ التیت دیوسائی نیشنل پارک
    کھرپوچو قلعہ بلتت
    عطاآباد شگرفورٹ
    سست شندور
    فیری میڈو جناح میوزیم گلگت بلتستان
    سیاچن شنگریلا
    نانگا پربت چراگاہ(لاتوبو) کوہ قراقرم
    شاہراہ ریشم کیلاش
    قتل گاہ سکردو فیری میڈو

    دنیا کا دوسرا بلند خطہ جس سے دنیا کی چھت بھی کہا جاتا ہے۔ دیوسائی جو کہ ضلع استور میں واقع ہے۔ اس میں سال کے تین مہینے موسم بہار کا آتا ہےاور باقی نو مہینے یہ خوبصورت علاقہ برف کے پیچھے اس طرح چھپ جا تا ہے کہ سیاح اسی شدت سے برف کے ہٹنے کا انتظار کررہے ہوتے ہیں جیسے ماں و باپ نومہینے سے بچے کی آمد کا۔دیوسائی میں نیشنل پارک بھی سیاحوں کو اپنی جانب دعوت دیتا ہے۔ اس نیشنل پارک میں پہاڈی جنگلی جانور جیسے شیر،ماخور،ریچھ وغیرہ پائے جاتے ہیں اور جڑی بوٹیاں بھی کثرت سے پایئے جاتے ہیں۔

    گلگت بلتستان کے بلند و بالا پہاڈ
    نانگا پربت کے ٹو
    گشہ بروم مشبہ روم
    براڑپیک راکا پوشی
    کافر پہاڈ کالاپہاڈ
    سیاچن پہاد
    اس خطے میں دنیا کے پانچ بڑے بلند ترین پہاڈ اور دیگر بلندم چوٹیاں ہیں۔ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں مہم جؤ مہم جوئی کرنے کی غرض سے دنیا کے مختلف حصوں سے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔مہم جوئی کیلے آنے والے سیاح بڑے عرصے کیلے آتے ہیں۔کیونکہ یہ ایک دن کا کام نہیں ہوتا۔کئی مہینے لگ جاتے ہیں۔مہم جوئی زیادہ تر مشہور پہاڈ کے ٹو اور قاتل پہاڈ نانگا پربت میں کی جاتی ہے۔ جو کہ اکثر ناکام رہتے ہیں۔ بمقابلہ دوسرے پہاڈوں کے یہ بہت زیادہ مشکل ثابت ہوتے ہیں۔ نانگا پربت کو قاتل پہاڈ کہا جاتا ہے بہت ہی کم مہم جو اس کو سر کر پائے ہیں اور زیادہ تر اس کو تسخیر تو نہ کر سکے البتہ اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ بادلوں کی گھونگٹھ اوڈھے نانگا پربت ان نئی نویلی دلہنوں کی مانند سیاحوں کو اپنے دیدار کا مضطرب بنا رہا ہے۔جیسے دولہا گھونگٹھ کے اٹھانے سے پہلے دیدار یار کیلے ترستے ہیں۔ناگا پربت کا نام اسی وجہ سے نانگا رکھا گیا ہے اس میں برف کے سوا کچھ ہے ہی نہیں۔ 12مہینے برف کی سفید چادر میں لپٹا ہوتا ہے۔ نانگا بربت کی خاص خاصیت یہ ہے کہ اس کو پریوں کا مسکن کہتے ہیں۔ 1852ءمیں جرمنی کے ہرمن بھوپال نانگا پربت کو تسخیر کرنے کی غرض سے یہاں قیام پزیر تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ میں مہم جوئی کے دوران یعنی نانگا پربت پرچڑھتے ہوئے ایک جگہ میں نے اپنے دستانے اوتارے اور بھول گیا چونکہ دستانوں کے بغیر ایک قدم بھی آگے بڑھنا ناممکن ہے تو میں اپنے دستانے تلاش کررہا تھا کہ پہاڈ کے درمیان سے ایک لڑکی کی آواز ائی میں یہ دیکھ کے حیران رہ گیا کہ یہاں تو میرے اعلاوہ کوئی بھی نہیں ہے اور اس خطرناک جگہ پر کوئی لڑکی کیسے آسکتی ہے۔ پہلے تو میں نے اس کو اپنا وہم گرداناں اسی لمحے اس کی آواز دوبارہ سے آئی۔ وہ مجھے میرے دستانوں کے بارے میں رہنمائی کررہی تھی۔ اس کی رہنمائی کے مطابق میں دستانوں کو تلاش کرنے لگا وہ بتاتی گئی کہ اس طرف آپ کے دستانے موجود ہیں۔ جب میں عین اسی جگہ پہچ گیا تو میرے دستانے وہی پڑے ہوئے تھے اور میں نے اس کا شکریہ آدا کیا۔ حالانکہ وہ نظر نہیں آرہی تھی بس آوز آتی تھی اس کی۔ کوہ پیمائی اور مہم جوئی کیلے ہرسال لاکھوں کی تعداد میں سیاح اور مختلف ممالک کے مہم جو پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔ ان ممالک میں زیادہ تر فرانس،برطانیہ،جرمنی،انگلنڈ،چایئنہ،امریکہ اور دیگر ممالک سے سیاح اور کوہ پیماء یہاں کا رخ کرتےہیں۔
    گلگت بلتستان کے بڑے گلیشرزاورجھیل
    بلتورو گلیشر سیاچن گلیشر
    روپل گلیشر بیافو گلیشر
    راما جھیل کچھورہ جھیل
    دیوسائی جھیل لاتو بو جھیل
    عطا آباد جھیل کچھورہ جھل
    دیامر بھاشاڈیم سد پارہ ڈیم
    گلگت بلتستان میں دنیا کے سب سے بڑے گلیشرز پائے جاتے ہیں اور میٹھا پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ منجمد شکل میں گلگت بلتستان میں گلیشرز کی شکل میں پایا جاتا ہے۔ گلیشرز قدرت کی طرف سے صاف پانی کا ایک بہت بڑا زریعہ ہے۔ ملک میں جہاں 55٪ لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں وہی اسی ملک کے شمال میں دنیا کا میٹھا پانی کا سب سے بڑا زخیرہ پایا جاتا ہے۔
    مجموعی طور پر گلگت بلتستان میں ہر طرح کے سیاحوں کیلے سیاحت کےمواقعے میسر ہیں۔ ان میں سے ایک جنگلی حیات اور شکار کی سیاحت ہے۔ جیسا کہ پاکستان میں ہر سال سعودی شہزادے شکار کھیلنے آتے ہیں اور اپنی ایئاشیاں کرکے شکار کے ساتھ اور بھی بہت کچھ کھیلتے ہیں۔ مگر یہ شہزادے کبھی گلگت بلتستان کا رخ نہیں کرتے اس کی وجہ نہ یہاں انہیں وہ شکار ملے گا۔نہ ہی ان کو عوام کی اندھی تقلید۔ مگر گلگت بلتستان میں شکار کی سیاحت کیلے ہر سال بے رونی ممالک سے وہ لوگ آتے ہیں جو یا تو اس ملک کے اعلیٰ عہدوں پر فائیز ہوتے ہیں یا پھر وائلڈ لایئف کے نمائندے۔
    سال ہاسال سیاحت کا رجحان بڑھتا ہےاورہر دوسرے سال سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوتاآرہا ہے۔ اس سال 2017ءمیں پاکستان ٹورزم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق 10لاکھ سیاح گلگت بلتستان میں داخل ہوئے تھے اور ہر روز 700گاڑیئاں سیاحوں کی داخل ہوتی تھی ان کے علاوہ جو پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرکے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔
    گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ جناب حافظ حفیظرالحمنٰ نے احکامات جاری کیے تھے کہ سیاحوں کی تعداد کے مطابق ہوٹلز ناکافی ہیں۔ اس لیئے تمام سرکاری ریسٹ ہاوس،سکولوں کی عمارتیں،پارک اور عوامی مقامت پر کیمپنگ کے انتظامات کرکے سیاحوں کو سہولیات فراہم کی جائیں۔ ان سیاحوں میں بیرون ملک سیمت اندرون ملک کے سیاح بھی شامل ہیں جو کراچی،اسلام آباد،پنجاب سمیت ملک کے دیگر حصوں سے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ سن 2011 کے بعد سیاحت ایک مقبول عالمی تفریحی سرگرمی بن چکی ہے۔ ورلڈ ٹورازم آرگنائزیشن یہ‏ پیش‌گوئی کرتا ہے کہ ایک سے دوسرے مُلک سفر کرنے والے لوگوں کی تعداد1997ء میں 631 ملین سے سنہ 2012ءتک 1 اعشاریہ 6 بلین تک بڑھ گئی ہے۔ جس میں تاحال کوئی کمی نظر نہیں آتی۔‏ طلب کی اس افزائش کی وجہ سے کاروبار،‏ تفریح‌گاہوں اور سیاحوں کیلئے خدمات فراہم کرنے والے ممالک کی تعداد میں افزائش کی گئی تھی۔‏سیاحت نہ صرف سیر و تفریح اور صحت افزائی کے لیے مفید ہے بلکہ سیاحت سے مقامی آبادی اور اس ملک کے اقتصاد کو تقویت ملتی ہے۔لوگوں کو کام کے مواقع فراہم ہوتے ہیں۔سیاحت سے مختلف ثقافتوں اور خطے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کوایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے اور مختلف اچھی چیزیں ایک معاشرے سے دوسرے میں رائج ہوجاتی ہیں۔
    27ستمبریوم سیاحت
    سیاحت کی اہمیت کو مدنظررکھ کر 27ستمبر کو یوم سیاحت منا نے کا فیصلہ ورلڈ ٹورارزم کی سفارشات پر عملدرآمد کراتے ہوئے اقوام متحدہ نے کیا اور 27 ستمبر کو یوم سیاحت قرار دیا۔اقوام متحدہ کے زیراحتمام 27ستمبر 1970کو پہلی بارعالمی یوم سیاحت منایاگیا۔ اس کا مقصد سیاحت کی ضرورت اور اہمیت سے دنیا کو آگاہ کرنا اور اس جانب راغب کرانا ہے۔ کیونکہ اس سے انسانی صحت اور عقل و دماغ پر مثبت اثرات نمودار ہوتے ہیں۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہرسال یوم سیاحت کو جوش و جزبے کے ساتھ منا یا جاتاہے۔ اس دن جائزہ لیا جا تا ہے کہ سیاحت کے فروخ میں اضافہ کاسبب بننے والے عوامل کیا اور کون سے ہیں اور درپیش مسائل کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ سیاحت کی اہمیت پرسیمینارز اور کانفرنس منعقدکیا جا تا ہے اور اس میں سیاحت کے اثرات ممالک،اقوام اور معاشروں پر روشنی ڈالی جا تی ہے۔سیاحت مختلف ممالک کوآپس میں تعلقات کے قیام اوردوستی کا سبسب بنتی ہے۔ سیاحت ہی کی بدولت مختلف ممالک اور اقوام کی تہذیبوں سے واقیفیت حاصل ہوتی ہے اور ان کی خوبیوں کو اپنا یا جاتا ہے۔ان ہی غیر معمو لی اہمیت کی بدولت یوم سیاحت کو پوری دنیا میں جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے.
    مشکلات اور مسائل
    گلگت بلتستان کا شمار دنیا کے ان چند خطوں میں سے ایک میں ہوتا ہے۔ جہاں معدنی،قدرتی،معاشی اور اقتصادی وسائل کی بھرمار کے باوجود یہ علاقہ آج بھی پتھر کے دور جیسا منظرپیش کررہا ہے۔ جوحکمرانوں کی انا،خودغرضی،مفاد پرستی،ملک فروشی،کرپشن،ڈھاکہ زنی اور عوامی مسائل سے لاعلمی اور اپنے اقتدارسے مبحت کی عکاسی ہے۔ ہیی وجہ ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی گلگت بلتستان جیسا عالمی شہرت یافتہ علاقہ مسائل کا شکار ہے۔ یہاں کے باسیوں کو بنیادی ضروریات زندگی بھی میسر نہیں ہیں۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں سے پاکستان کو سیاحت،تجارت،معدنیات،قدرتی وسائل اور پاکستان کو سیراب کرنے والا دریا سندھ کا اصل منبع بھی اس علاقے میں ہی ہے۔ ہر سال سیاحت اور تجارت سے پاکستان بلینز ڈالر کے حساب سے کماتا ہے۔سی پیک کا کا دروازہ بھی یہی علاقہ ہے۔
    وسائل کی فراوانی کے باوجود مسائل اور ناکافی سہولیات کی وجہ سے سیاحت کے شعبے میں یہ خطہ وہ مقام حاصل نہیں کر پایاہے جو دنیا کے دیگر خطے حاصل کرچکے ہیں۔ سفری مشکلات،خراب ٹرانسپورٹ،خستہ حال سڑکیں،سیاحتی مقامات میں ناکافی سہولیات،رہائش کے مسائل،صیح معلومات کا میسر نہ ہونا اور ملک کے امن وامان کی خراب صورتحال کی وجہ سے اکثر سیاح پاکستان کا رخ کرنے سے ہی کتراتے ہیں اور اپنا سیاحت کا ارادہ ترک کرتے ہیں۔ شاہراہ قراقرم جو دنیا کی بلند اور خطرناک ترین شاہراہ ہے اور دنیا کا آٹھواں عجوبہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ عظیم شاہراہ جو پاکستان چین دوستی کا پیش خیمہ ہے آج خستہ حال ہو چکی ہے۔ شاہراہ ریشم کے نام سے یہ مشہور شاہراہ آج حکومتی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور اس کی خستہ اور خراب حالت کا اثربراہ راست سیاحت پر پڑتاہے۔ملک کے امن وامان کی خراب صورتحال کے باعث سن 2010کے بعد سیاحوں کی آمد میں بہت حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ ملک میں امن کے قیام سے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا اورتجارت و سیاحت کے مواقعے میسر آئینگے۔ چونکہ گلگت بلتستان کا خطہ پاکستان کا ایک اہم دفاعی علاقہ ہے جہاں پاکستان اپنے حریف بھارت کے ساتھ تین جنگیں لڑچکا ہے۔ پاکستان،انڈیا کے کشیدہ سرحدیں تعلقات سے اس علاقے میں سیاحوں پر ایک اضافی بوجھ ہے۔ سفری پریشانیوں کو حل کرنے کیلے حکومت کو اقداماات کرنے ہونگے۔ اور گلگت اورسکردو شہر کے ائیر پورٹس کو دور جدید کی تمام سہولیات سے آراستہ کرنا ہوگا۔ سکردو ائیر پورٹ جو ایشیاء کا تیسرا بڑا ائیر پورٹ اورانٹر نیشنل ائیرلایئز کی لینڈنگ کی صلاحیت رکھنے کے باوجود حکام کی عدم توجہی کا شکار ہے۔ اگر گلگت بلتستان میں سیاحوں کو مناسب سہولیات مہیا کی جائیں تو اس سے ملک کونہ صرف مالی استحکام ملے گا بلکہ پاکستان کا شمار بھی دنیا کے مشہور ممالک میں سے ایک ہوگا۔

    لیٹریئچر ریویو(ادب کا جائزہ)

    قرآن کریم میں سیاحت اور زمین کی سیر کے متعلق آیات اور اس سے سبق سیکھنے کی تلقین۔
    قرآن کریم ایک ایسی لاریب کتاب ہے کہ اس میں دنیا کے تمام مسائل کا حل اور دنیا میں پائی جانے والی تمام اشیاء کے متعلق علم وآگاہی موجود ہے۔ پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں قرآن کو سمجھ کے مطالعہ کرنا ہوگا اور غور وفکر کرنا ہوگا۔

    قلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
    Say [O Muhammad (peace be upon him)]: “Travel in the land and see what was the end of those who rejected truth.”
    (اے نبی!کہہ دیجیے: تم زمین میں گھومو پھرو، دیکھو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا؟
    [Al-Quran 6:11]
    قُلْ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرْضِ
    فرمادو:زمین میں سیر کرو” “تم
    قُلْ سیرُوا فِی الْاٴَرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ بدءَ الْخلقَ (عنکبوت۔۲۰)
    “یعنی کہو کہ زمین میں گھوم پھر کر دیکھو کہ خدا نے کیسے تخلیق کی”
    اٴَ فَلَمْ یَسیرُوا فِی الْاٴَرْضِ فَتَکُونَ لَہُمْ قُلُوبٌ یَعْقِلُونَ بِہا ۔۔۔۔ (حج )
    “کیا یہ لوگ زمین پر چلے پھرے نہیں تاکہ ان کے دل اس سے کچھ عقل حاصل کرتے”۔

    مستنصر حسین تارڑکی کتاب : نانگا پربت سے
    “ہم نے منصوبہ بندی تو نہ کی تھی کہ ہم یوں سفرکریں کہ پورے چاند کی رات ہم راکا پوشی کے دامن میں ہوں‘ ایسے انعام قدرت اپنی چاہت میں مبتلا لوگوں کی جھولی میں خود ہی ڈال دیتی ہے …گھاس بھرے میدان میں بہتی ندیوں کا پانی چاند ہو چکا تھا اورراکا پوشی کا برفانی معبد چاندنی میں ڈوبا ہوا تھا‘ سارے میں ایک چپ تھی اور اس چپ میں ہم سب چپ تھے۔ میں نے دیکھا کہ جاپانیوں کے خیمے سمیٹے جارہے ہیں اور بوڑھے جاپانی نہایت آسانی سے اس پہاڑی دیوارپر چڑھتے جا رہے تھے جس نے گلیشئر اور ویران چوٹی کا منظر بیس کیمپ سے روپوش کر رکھا تھا۔
    میں بھی اپنے سانس گہرے کھینچتا ہولے ہولے پہاڑی دیوار کے اوپر جاپہنچا اور وہاں سے جو منظر دکھائی دے رہا تھا حیرت انگیز تھا…پورے گلیشئر کا جاہ و جلال اور وسعت نظروں سے بچھتی چلی جاتی تھی اوراس پر سایہ فگن دیران کی متاثر کن برفانی چوٹی… سچی بات ہے کم از کم یہاں سے دیران‘ راکا پوشی سے کہیں شاندار اور عظیم دکھائی دیتی ہے…جاپانی مختلف پتھروں پر براجماں اس عظیم برفانی منظر کے سامنے ایسے چپ بیٹھے تھے جیسے عبادت کر رہے ہوں‘ اسرارکا کہنا تھا کہ بیس کیمپ کی جانب سفر کے دوران جب پہلی بار راکا پوشی کا منظر سامنے آتا تھا تو جاپانی اپنی زبان میں کچھ بڑبڑاتے سجدہ ریز ہو جاتے تھے…ان کا کہناتھا کہ ہم اس پہاڑ کی پرستش نہیں کرتے بلکہ اس کے حسن کی تاب نہ لاکر اس کے آگے جھک جاتے ہیں‘ خراج تحسین پیش کرتے ہیں”
    کتاب سفر نامہ :” ﺩﯾﻮﺳﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺭﺍت” سے
    ﻣﺼﻨﻒ : ﻣﺤﻤﺪ ﺍﺣﺴﻦ
    “ﺷﻤﺎﻝ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﮨﻤﺎﻟﯿﮧ ﮐﮯ ﺧﺸﮏ ﭼﭩﯿﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺑﻠﻨﺪ ﺑﺮﻑ ﭘﻮﺵ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺟﮩﺎﮞ ﺍُﻥ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﻤﻮﻣﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﯾﮏ ﻧِﯿﻢ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﺳﯽ ﺑﮯ ﺭﻭﺡ ﻭﺍﺩﯼ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺗﮭﯽ، ﯾﻮﺭﭖ ﮐﯽ ﺑﻠﻨﺪ ﺗﺮﯾﻦ ﭼﻮﭨﯿﻮﮞ ﻣﻮﻧﭧ ﺑﻼﻧﮏ ﻭ ﻣﯿﭩﺮﮨﺎﺭﻥ ﺟﺘﻨﯽ ﺑﻠﻨﺪﯾﻮﮞ ﺭﻓﻌﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﯿﻨﮉﯼ ﻧﯿﻮﯾﺎ ﮐﮯ ﻏﯿﺮ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺳﺮﺩ ﻣﺰﺍﺝ ﮐﯽ ﺣﺎﻣﻞ … ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﻟﮩﺮﺩﺍﺭ ﺳﺮﺳﺒﺰ ﻣُﺸﮏ ﻣﭽﺎﺗﯽ ﺳﺮﺯﻣﯿﻦ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﻣﻘﺎﻡِ ﺣﯿﺮﺕ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﺳﺮﺯﻣﯿﻦ ﮨﮯ ﺟِﺲ ﮐﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺛﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ … ﺟِﺲ ﮐﮯ ﺑﮯ ﺷﺠﺮ ﮔﻠﺴﺘﺎﻥ ﻭ ﺳﺒﺰﮦ ﺯﺍﺭ ﻣﺤﯿﺮ ﺍﻟﻌﻘﻞ ﮨﯿﮟ … ﺟﮩﺎﮞ ﺍُﮔﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﮔﻠﺪ ﺳﺘﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﭩﯽ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻮﻧﮕﮭﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ … اﻭﺭ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺟﻨﮕﻞ ﺟﻨﮕﻠﯽ ﺣﯿﺎﺕ ﺑﺎﻗﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﯾﺎﺏ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺳﺮﺯﻣﯿﻦ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﻈﺮﯾﮧٗ ﺍﺭﺗﻘﺎﺀ ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ … ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍِﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﮯ، ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻟﮯ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺏِ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﮐﯽ ﯾﮩﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮐﮧ ﺩﯾﻮﺳﺎﺋﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺍﻭﺭ، ﺩﯾﻮﺳﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﺷﺐِ ﻭﺻﻞ ﮨﻮ … ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﺳﮯ ﻣﻠﻦ ﮨﻮ ﺟِﺲ ﮐﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﺗﺮﯾﻦ ﺍﯾﮑﺲ ﭘﮯ ﮈﯾﺸﻦ ﮨﻮ۔ ﯾﮧ ﺗﺒﺖِ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ … ﺩﯾﻮﺳﺎﺋﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﺩِﻝ ﭘﺮ ﻧﻘﺶ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺎﮞ، ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﺩﯾﻮﺳﺎﺋﯽ ﮨُﻮﮞ“” ۔

    مرزاحسین کی کتاب ” پھول دیوسائی کے”سے

    “ترشنگ ایک جنت ارضی ہے جہاں شمال کا سارا حسن امنڈ آیا ہے۔ ترشنگ پہنچنے کے لیے فضائی اور زمینی دونوں راستے موجود ہیں۔ فوکر جہاز فضائی راستے سے اسلام آباد سے گلگت ایک گھنٹہ میں پہنچا دیتا ہے۔ اس فضائی سفر میں سیاح زندگی کے خوبصورت اور یادگار مناظر دیکھتا ہے۔ پاکستان کی بلند ترین برف پوش چوٹیوں کا دلکش نظارہ ذہن پر نقش ہو جاتا ہے۔ اس سفر کے لیے موسم کا صاف ہونا لازمی شرط ہے۔ خراب موسم کی صورت میں پرواز منسوخ ہو سکتی ہے۔ گلگت پہنچ کر استور جانے والی گاڑی میں بیٹھ جائیں جو 115کلومیٹر کا فاصلہ تقریباً ساڑھے تین گھنٹے میں طے کر کے استور پہنچا دیتی ہیں۔ استور سے ترشنگ کے لیے جیپ مل سکتی ہے۔ دو گھنٹے کے اس خوبصورت سفر میں بہت سے حسین اور دلکش گائوں نظر آتے ہیں۔ راولپنڈی سے 14گھنٹے کی مسافت کے بعد اور رائے کوٹ پل سے 35 منٹ کے سفر کے بعد تالیچی کا مقام آتا ہے۔ راولپنڈی کے پیر ودھائی اڈے سے کوسٹر اور بس سروس استور کے لیے روانہ ہوتی ہے۔ آپ اپنی گاڑی پر بھی یادگار سفر کر کے سیاحت کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ تالیچی سے ایک سڑک استور کو جاتی ہے۔ تالیچی سے استور 68کلومیٹر اور دو گھنٹے کا سفر ہے دریائے استور جھاگ اڑاتا ساتھ ساتھ بہتا ہے۔ استور سطح سمندر سے 3200میٹر بلند ایک تاریخی شہر ہے۔ استور شہر سے نکلتے ہی منظر تبدیل ہو جاتا ہے اور اس علاقے کی خوبصورتی آنکھوں کے سامنے ہوتی ہے۔ تقریباً بیس منٹ کے سفر کے بعد سرسبز ہموار سطح آتی ہے اور چورت گائوں کی جھلک نظر آتی ہے۔ ہر طرف ہریالی اور کھیت آنکھوں کو اچھے لگتے ہیں۔ یہاں ہوا کانوں میں سرگوشیاں کرتی پھرتی ہے کہ نانگا پربت کا برفانی سلسلہ قریب ہی ہے۔ترشنگ کا پہلا اور بھرپور نظارہ سفر کی ساری تھکان دور کر دیتا ہے۔ پلک جھپکتے ہی منظر بدلتا ہے، آسمان کو چھوتے سفید پہاڑ، سرسبزوادی اور پھولوں کی قطاریں دیکھ کر سیاح بے خود ہو جاتے ہیں۔ نگانگا پربت کے اس پہاڑی سلسلے میں بہت سی برفپوش چوٹیاں دعوت نظارہ دیتی ہیں۔ یہاں رائے کوٹ، چاکرا اور راما جھیل کا سحر اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ یہاں سکون اور سبزہ، نیلا آسمان، برف سے ڈھکی چوٹیاں صاف شفاف پانی کے چشمے اور قدم قدم پر پھولوں کے گنج انسان کو تازہ کر دیتے ہیں۔ ترشنگ میں دو ہوٹل ہیں جہاں کھانا اور رہائش مل سکتی ہے۔ یہاں کیمپنگ بھی کی جا سکتی ہے۔ ترشنگ میں رات کو کافی ٹھنڈ ہوتی ہے اس لیے گرم کپڑے ضرور ساتھ رکھیں۔ ترشنگ اور روپل کے درمیان ایک چھوٹی سی پہاڑی اور گلیشیر حائل ہیں۔ اس پہاڑی سے ایک طرف ترشنگ کا دلکش نظارہ ہے اور دوسری طرف روپل کی پھولوں بھری وادی تاحد نگاہ پھیلی نظر آتی ہے۔ روپل کی سرسبز رنگین دنیا دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے ہزاروں رنگوں اور قسموں کے پھولوں کی ایک دنیا آباد ہے۔ شوخ رنگ پھولوں کی قطاریں آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہیں۔
    9220فٹ بلند ایک وسیع لینڈ سکیپ کے آغاز میں روپل ہوٹل کے صحن میں ہماری جیپ رکی تو ڈرائیور نے بتایا کہ ہم ترشنگ پہنچ گئے ہیں۔ روپل ہوٹل کا مالک جمشید خان جیپ دیکھ کر ہمارے پاس آگیا۔ فیصل بیگ اور پیر سائیں نے پچھلے سال بھی اسی ہوٹل میں قیام کیا تھا۔ جمشید نے انہیں خوش آمدید کہا۔ہوٹل نیا نیا بنا ہوا اور دو منزلہ تھا تین کمرے نیچے اور تین دوسری منزل پر تھے جمشید کے کہنے پر اور پھولوں بھرے خوبصورت لان کی وجہ سے بھی ہم نے نچلی منزل والے تین کمرے لے لئے۔جمشید خان کو امید تھی کہ اگر کوئی غیر ملکی سیاح آگئے تو وہ انہیں دوسری منزل والے کمرے دے کر زیادہ کرایہ وصول کر لے گا۔ گزشتہ برسوں کی نسبت اب غیر ملکی سیاح بہت کم ادھر آتے ہیں”۔

    Tourism Department of Gilgit Baltistan
    Geographic Distribution
    Most of the highest mountains in Pakistan are located in the Karakoram range, but some high rnour nins are in Himalaya (the highest of which is Nanga Parbat, globally ranked 9th, 8126m) and Hindu Kush (the highest of which is Tirich Mir, globally ranked 33rd, 7708 m).

    Where Great Mountain Ranges Meet (Karakoram, Himalayas and Hindu Kush Mountain Ranges).

    Pakistan is a land of varied and unique landscape. While high mountain ranges dominate its North, series of low mountain ranges of Suleman, Pub, Kirthar and Makran extend from North to Southwest and to South in a bone like manner. These low ranges dominate the plains and deserts to the East and warm and captivating beaches of the Arabian Sea to the South. It is, however, Gilgit-Baltistan of Pakistan which is endowed with most unique geographical feature in the world. It is here that the three great, lofty and spectacular mountain ranges, Karakoram, Hindukush and Himalayas meet.

    In an area of about 500 kms in width and 350 kms in depth, is found the most dense collection of some of the highest and precipitous peaks in the world, boasting more than 700 peaks above 6000 meters, and more than 160 peaks above 7000 meters.

    These include five out of the total fourteen above eight thousand meter high peaks on earth, namely the second highest rock pyramid – the K-2 (8611 m), the killer mountain Nanga Parbat (8126 m), the Hidden Peak, Gasherbrum I (8068 m), the Broad Peak (8047 m) and the Gasherbrum II (8035 m). This enormous mountain wealth makes Pakistan an important mountain country, offering great opportunities for mountaineering and mountain related adventure activities. The area is aptly called a paradise for mountaineers, adventure seekers and nature lovers. The compelling charm of these high, challenging, endless sea of rugged rock and ice pinnacles lure large- number of climbers, adventure seekers and nature lovers from across the five continents to the Gilgit-Baltistan and Chitral, each year.

    International Cases in Sustainable Travel & Tourism

    Edited by Dagmar Lund-Durlacher, Department Head, Dean, Department of Tourism and Hospitality Management of MODUL University in Vienna (Austria) and Pierre Benckendorff, Senior Lecturer at the School of Tourism, The University of Queensland (Australia). (Goodfellow Publishers, 2013)
    International Cases in Sustainable Travel and Tourism provides an international range of outstanding new cases focused on sustainable tourism management and development, including award winners and finalists from the WTTC Tourism for Tomorrow Awards.

    تحقیق کا طریقہ کار
    سیاحت ایک ایساشعبہ ہےجس میں عملی تحقیق کے ساتھ لائبرئری،فلیڈ ریسرچ اورنیٹ ریسرچ کیا جائے گا۔تاکہ اس شعبے سے متعلق تمام معلومات حاصل کی جائیں۔ مسائل اورمشکلات کی صحیح نشاندہی کی جائےاور اس راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے والے عوامل پر غور کیا جائے۔ سیاحت کے شعبہ میں تحقیق کا طریقہ کار میں سیاحت سے متعلق مواد کو جو تحریری شکل میں کتابوں میں ہو یا پھر رسالوں اوراخبارات کی زینت بنا ہوا ہو اس کاوسیع مطالعہ کیا جائے گا۔ سیاحت کے متعلق عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے تمام قوانین جو مرتب کئے گئے ہیں سب کا تفصیلی مطالعہ کر کے اس کے مطابق اس خطے اور ملک میں سیاحت کے فروخ کیلے اپنی قیمیتی آراء پیش کی جایئنگی۔ اس کے علاوہ اس شعبے سے متعلق تمام فلمز،ڈاکومینٹریزاورفیچرز پر بھی غور کیا جائیگااور ساتھ ہی فوٹوگرافی اور تصویری دنیااور تصویری سیاحت پر بھی تحقیق کی جائے گی۔ وہ ممالک جو سیاحت کیلے دنیا میں ایک الگ اور منفرد مقام اور حیثیت رکھتےہیں اور کامیاب سیاحت کے ہامل ممالک اور علاقوں کی کامیابی کے راز جاننے کی کوشش کی جائیے گی اورملک میں موجود تمام سفارتخانوں سے اس کے متعلق ڈیٹا جمعٰ کیا جائے گا اور کامیابی کے راز کو جاننے کی کوشش کی جائے گی۔اس کے اعلاوہ ان ممالک کا بھی ڈیٹا حآصل کرنے کی کوشش کی جائے گی جہاں سیاحت کے وسیع مواقعے ہونے کے باوجود سیاحت کے شعبے میں خاطر خوہ ترقی نہیں کرسکےہیں۔اس کی وجوہات اور وہاں سیاحت کے شعبے میں حائل رکاوٹیئں اور عوامل جاننے کی بھر پور کوشش کی جائے گی۔ کامیاب سیاحتی ممالک اور ناکام سیاحتی ممالک کا جائزہ لیا جائیگا اوربہتری کے مواقعے تلاش کیئے جائینگے۔ ورالڈ ٹورارزم آرگنائزیشن اور ڈیپارٹیمنٹ سے روابط قائم کئے جائینگے اورسیاحت کے فروخ کے اقدامات اور طریقہ کار واضح کیا جائے۔ ملک کے اندرونی سیاحتی اداروں سے ملک میں داخل ہونے والے سیاحوں کا ڈیٹا اور ملک کے سیاحت کے حولے سے مرتب قوانین اور مشہور مقامات جہاں سیاح زیادہ تشریف لے جاتے ہیں کے متعلق معلومات حاصل کی جایئنگی۔ سیاحت کے شعبے کو عالمی سطح پر کون سے اقدامات کئے گئے ہیں کا جائزہ لیا جائے گا۔ دوسری طرف برہ راست سیاحتی مقامات میں جاکروہاں کی صورتحال،مسائل،مشکلات اوراس علاقے کی جغرا فیائی ساخت،سفری مشکلات اور دیگر وسائل و مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کر کےراہ حل کیلے رائے پیش کی جائے گی۔ مقامی آبادی اور سیاحوں سے جو اندرون ملک اور بیرون ملک سے تشریف لاتے ہیں ان سے انٹر ویویوز لیا جائےاوران کی رائے لی جائےگی۔ ملک میں امن وامان کی سیاحت پر اثرات کے متعلق آگاہی حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کی جائے گی۔ مشہورسیاحتی مقامات کو قریب سےدیکھ کران کے متعلق اصل حقائق اورمشکلات کو قریب سے مشاہدہ کرکیاکیاجائیےگا۔
    مفروضات
    سیاحت کی اہمیت سے آگاہی سیاحت کے کے فروخ کا باعث بنتی ہے۔
    سیاحوں کیلے بہتر سہولیات کی فراہمی سے سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوگا۔
    ملک میں امن وامان کی بہتر صورتحال سے سیاحت کے شعبہ کو فروخ ملے گا۔
    سفری مشکالات کو دور کرنےاور سیاحتی مقامات تک بہتر سفری سہولیات سیاحت کے شعبے کو مضبوتی فراہم کرے گی۔
    سیاحوں کی سیکیورٹی کے مناسب اقدامات کرنے سے سیاحت میں اضآفہ ہوگا۔
    سیاحت کے حولے سے پروگرامز،کانفرنسس اور سیمینارز کے انعقاد سے سیاحت کو فروخ ملے گا۔
    جنگلات کی حفاظت سے ملک کی سیاحت میں اضافہ ہوگا۔
    علاقائی رسم ورواج اور کلچر کی حفاظت سےاور ان کی بہتر پر فارمنس سے سیاحت کو فروخ ملے گا۔
    ورالڈ ٹورارزم فورم سے بہتر تعلقات سے سیاحت کی ترقی میں مددملے گی۔
    فعال سیاحتی ادارے ملکی معیشت کو مظبوط راہوں پر استور کرنے میں مدد گار ثابت ہونگے۔
    ایلکڑانک،پرنٹ اور سوشل میڈیا کے زریعے تشہیر سے بھی سیاحوں کی تعدادد میں اضآفہ ہوگا۔
    پاک انڈیا سرحدی نارمل حالات سے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔
    گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ تسلیم کرنے اور مکمل آئینی حقوق دینا سیاحتی ادارےکےلےاستحکام بخش ثابت ہوگا۔
    وسعتِ مطالعہ
    سیاحت آج ایک علمگیر سرگرمی بن چکی ہے۔اس کےساتھ ایک اہم قومی ادارہ بن چکا ہے۔ جس سے نہ صرف ملک وقوم کا نام دنیا میں روشن ہوتا ہے بلکہ اس سے ملک کی معاشی صورتحال کی بہتری کے بھی امکانات موجود ہے۔ سیاحت ہی مختلف ممالک کو ایک دوسر ےکو قریب لانے اور اچھے تعلقات کے قیائم کا باعث ہے۔ چونکہ پاکستان کا شمارمشہور سیاحتی ممالک میں ہوتا ہے۔ پاکستان سیاحت اور مشہور مقامات سے مالامال ملک ہے۔ لہذااس شعبےاورادررے میں تحقیق اور ریسرچ کی ضرورت ہے۔ تحقیق سے اس شعبہ کی ضروریات،مشکلات اور اس کا حل تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس سے ملک کو ترقی ملے گی اور ملک میں موجود وہ عجائبات اور تاریخی نوادرات جوآج تک منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔ ان کو منظرعام پر لاکرتاریخ کا حصہ بنانا ملک کی ضرورت ہے۔ اس سے ملک میں ترقی ہوگی اورملک سے بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا۔ لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوگا۔ کیونکہ جب مختلف ممالک کے سیاح ایک سے دوسرے ممالک سیاحت کی غرض سےجاتے ہیں تو ان کی رسم و رواج کا علم حاصل ہوجاتا ہےاوروہ ان ثقافت اور رسم وراوج کو خود پر ڈال دیتےہیں۔ سیاحت وہ واحد سرگرمی ہے جو لوگوں سے ٹینشن،نفرت،سست روی،خراب صحت،نفرت انگیزی کا خاتمہ اور دماغی بوجھ کا خاتمہ کرتی ہے۔اس سے ملک ومعاشرے میں کام کی لگن میں اضافہ ہوگااور معاشرہ ترقی کرے گا۔ملک میں موجود سیاحتی اداروں کیلے صحیح حقائق اور اصل مشکلات کی وجوہات تحقیق کے بعد بتائیں جایئں تاکہ اس کے فوری خاتمے کیلے اقدامات کیے جاسکیں۔ سیاحت صرف ایک شعبہ نہیں بلکہ ایک علم کا نام ہے دنیا کو تسخیر کرنے کا،چھپے ہوئے راز کو اجاگر کرنے کا،قدرت کی عطاکردہ نعمات پر غوروفکر کا اور دنیا جہاں میں موجود منفرداور ناقابل دریافت چیزوں کو نکھار کر سامنے لانے کا۔ آج پاکستان سمیت دنیا کی بڑی اور مشہوریونیورسٹیوں اور درسگاہوں میں شعبہ سیاحت کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہےاور اس پر تحقیق اور ریسرچ کا عمل جاری ہے ۔ سیاحت صرف ایک تففریحی سرگرمی کے عمل کا نام نیں بلکہ یہ علم ہے دنیا کو محفوظ رکنھے کا ،امن کے قیام کا،ماحول حفاظت کا،زمین اور خلاء کو پاک وصاف رکھنے کیلے تحقق کا۔ علوم کے دیگر تمام شعبوں کی طرح اس شعبے میں بھی وسعت ہے کہ ایک محقیق اس شعبے پر تحقیق کے بعد انسانوں کی فلاح کیلے کام کرسکتا ہے۔

    حولہ جات (کتابیات)
    مصنف سال کتاب شہر پبلشر
    01 نازعبدالسلام جنوری2012 گلگت اسٹیٹ گلگت گل بکاولیزپبلی کیشنز۔
    02 خان اشرف وزیر اگست 2010 ایشیاءکی دورافتادہ سرزمین گلگت قراقرم پبلی کیشنز۔
    03 احسن محمد 2014 دیوسائی میں ایک رات اسلام آباد ڈیلی پبلیکیشنز

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*