تازہ ترین

فرقہ وارانہ احتجاج ؟؟ تحریر: طالب حسین

پورا گلگت بلتستان اس وقت غیر آئینی ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف سراپا احتجاج ہے مکمل شٹر ڈاون ہڑتال ہے اور جگہ جگہ حکومتی ظالمانہ اقدامات کے خلاف جلسے جلوس جاری ہیں۔اس عوامی بیداری سے خوفزدہ صوبائی حکومت کے پاس جب کوئی اور جواز باقی نہیں رہا تو کچھ وزراء اور اراکین کی جانب سے اس عوامی احتجاج جس میں بلا تفریق تمام مکتبہ فکر کے لوگ شامل ہیں کو فرقہ وارانہ احتجاج کا رنگ دینے کی مذموم کوشش کی گئی مگر سلام ہو گلگت بلتستان کے باشعور عوام پر جنہوں نے متحد و متفق ہو کر بھر پور احتجاج کیا اور حکومتی سازش کو ناکام بنا دیا۔غیر آئینی ٹیکس پورے گلگت بلتستان کا اجتماعی مسئلہ ہے اور حکومت کو اس حقیقت سے نظریں نہیں چرانی چاہئیں۔گلگت بلتستان کے عوام نے وزیر اعلی جناب حفیظ الرحمن صاحب کے اچھے اقدامات کو سراہا بھی ہے۔ اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ وزیر اعلی گلگت بلتستان حفیظ الرحمن صاحب کی عوام دشمن حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج ہرگز بھی فرقہ وارانہ نہیں ہے کیونکہ اگر احتجاج فرقہ وارانہ ہوتے تو سابق وزیر اعلی سید مہدی شاہ صاحب کے دور حکومت میں خود انکے حلقہ انتخاب سکردو میں گلگت بلتستان کی تاریخ کا طویل ترین دھرنا کبھی نہ دیا جاتا اور سکردو کی تاریخ میں پہلی بار این آئی ایس سے متاثرہ خواتین کا احتجاج اور تین روزہ دھرنا کبھی نہ دیا جاتا۔خدارا ذاتی مفادات کی خاطر اور حکومتی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اسطرح کے منفی پروپیگنڈے سے گریز کریں۔اور اس ابدی حقیقت کو ذہن نشین کر لیجئے کہ جب عوام کی شرافت کو بزدلی اور برداشت کو بے غیرتی سمجھا جانے لگتا ہے تو پھر عوام اپنے حقوق کے لئے نکل پڑتے ہیں۔اور احتجاج ظلم و جبر کے خلاف ہوتا ہے احتجاج کا کوئی مذہب یا کوئی مسلک نہیں ہوتا۔
پاکستان زندہ باد

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*