تازہ ترین

ٹیکس کا نفاذ اور بے آئین خطہ۔ تحریر : ذوالفقار علی کھرمنگی

یکم نومبر 1947ء گلگت بلتستان کے غیور عوام نے اپنی مادر وطن کو بے سرسامانی کے عالم میں ڈوگرہ فوج سے آذاد کرایا.اور پاکستان کے ساتھ الحاق کیا.الحاق کے حقائق کیا ہے میں اس پر بلکل بھی تبصرہ نہیں کروں گا کیونکہ مجھے کوئی شوق نہیں کہ میرا نام بھی فورتھ شیڈول میں ڈال دیا جائے.اور حکومتی مقامی چمچے مجھے بھی اپنی سرزمین کے ساتھ وفاداری کے جرم میں غدار نہ کہیں.قوم کے حق پرست مایوس نہ ہونا حقیقت کچھ ہے مجھے ڈر نہیں بلکہ میرا موضوع کچھ اور ہے ورنہ میرا تعلق حیدر شاہ جیسی بہادروں کی سرزمین سے ہیں.مجھ سمیت کسی بھی شخص کو فورتھ شیڈول کہانی اس وقت سمجھ نہیں آتی جب وقت میرے قوم کی عزت اور وقار کی آجاتی ہے.میرے کافی دوست احباب کا تعلق گلگت بلتستان سے باہر کے بھی ہے وہ لوگ یہ نہ سمجھے کہ میں کوئی علاقائی اعناد رکھنے والا انسان ہوں بس ایک مظلوم قوم کا فرد اور گلگت بلتستان کے عوام ایک مظلوم قوم ہونے کے ناطے قلم کی نوک سے حق کے لئیے آواز بلند کر رہا ہوں.سماجی بہبود کا ادنٰی سا طالب علم ہوں.سماجی و معاشرتی نظم و ضبط سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتا ہوں اور جہاں قلم کو ہتھیار بنانے کی بات آتی ہے تو اپنے شعبے کی اصولوں سے موزانہ کرتا ہوں کیونکہ میرا شعبہ مقدس شعبہ ہے.یہاں انسانیت کی بات کی جاتی ہے.یہاں معاشرتی فلاں کے لئیے پروجیکٹ تشکیل دی جاتی ہے.لیکن میرا شعبے کی ایک اہم نقطہ انسان کی ذاتی عزت یعنی سلف ریسپیکٹ سے شروع ہوتا ہے.کس طرح اپنی عزت کروانا ہے اور کیسے کسی شخص کو عزت دلانا ہے.اسی لئیے آج پھر قلم کو زحمت دیے رہا ہوں.کیونکہ کسی بے آئین خطہ میں اور اس کڑک سردی کے عالم میں وہاں کے غیور و مظلوم عوام پھر اپنے خلاف ہونے والے ذیادتیوں کو لے کر پھر سے احتجاج کی حالت میں ہے .ستم ظریفی دیکھے ملکی میڈیا اس سے نظر چرائے بیٹھی ہے.فلمی ستاروں ہو یا کرکٹر حضرات کی شادی کی نیوز ان کی پل پل خبریں دی جاتی ہے آخر کار وہ پرسنلٹی ہی صحافی حضرات سے تنگ آکر فرار اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے لیکن میرے عرض بے آئین میں جب بھی حقوق کے بابت آواز اٹھائی جاتی ہے میڈیا خاموش تماشائی بن جاتا ہے.اس وقت سرزمین گلگت بلتستان میں عوام غیر آئینی ٹیکس کے خلاف سراپا احتجاج ہے.یہ احتجاج کا تیسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے پہلے دو مرحلے حکومتی وعدوں کے ساتھ ختم ہو گئے لیکن حکومت کی جانب سے وعدہ وفا نہ ہوئے.اسی لئیے وہاں کے عوام و تاجر حضرات تیسرے مرحلے کے لئیے پھر سے کمر کس کر میدان میں اتر چکا ہے.حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے لگانے والے ٹیکس بلکل غیر آئینی ہے کیونکہ اقوام متحدہ اور خود پاکستان کے آئین و قانون کے مطابق خطہ متنازعہ ہے .عالمی قوانین جائزہ لینے کے بعد ہم سب پر یہ عیاں ہو جاتی ہے کہ کسی متنازعہ خطے میں کسی قسم کا ٹیکس لینا عالمی قوانین کی خلاف ہے.مسئلہ گلگت بلتستان بھی مسئلہ کشمیر کی طرف حل توجہ ہے.کیونکہ یہ بھی مسئلہ کشمیر کا ایک فریق ہے.وفاق کی طرف سے عائد کیے جانے والے بے جا ٹیکس مملکت اسلامی کے لئیے ایک طوغ بنتا جا رہا ہے.عوام کی بڑی تعداد ٹیکس کے خلاف احتجاج کے ساتھ ساتھ اپنے حقوق کے لئیے سراپا احتجاج دکھائی دے رہا ہے اگر حکومت نے اس صورتحال میں مزید کوتاہی کی اور غنڈہ ٹیکس کو برقرار رکھا تو نیا بلوچستان کھڑا ہو سکتا ہے کیا خبر پھر مشرقی پاکستان بن جائے.حکومت سے ادنٰی سی گزارش ہے کہ وہاں کے لوگ اب بھی پاکستان سے محبت کرنے والے لوگ ہے.اب بھی دوسرے صوبوں کے باشندوں کی نسبت دو قومی نظریے کا حامی ہے.کہی ایسا نہ وہ بھی کسی اور راہ پے چل پڑے.
اسی دعا کے ساتھ اللٰہ ملک عزیز پاکستان کو حقیقی رہنما عطا کریں جو مظلوم کے حامی و ناصر ہو

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*